سٹیل ملز کو چلانے والوں کی ناکامی کا بوجھ اسٹیل ملز کے ملازمین نہیں اٹھائیں گے،سید مصطفی کمال

بدھ جنوری 19:13

سٹیل ملز کو چلانے والوں کی ناکامی کا بوجھ اسٹیل ملز کے ملازمین نہیں ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 27 جنوری2021ء) پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفی کمال نے کہا ہے اسٹیل ملز کو چلانے والوں کی ناکامی کا بوجھ اسٹیل ملز کے ملازمین نہیں اٹھائیں گے۔ اسٹیل ملز کے خسارے کی وجہ اسکے نااہل چلانے والے ہیں ناکہ ملازمین۔ حکومت اپنی نااہلی، کرپشن اور اقربا پروری کا بوجھ اداروں کے ہزاروں مزدوروں پر ڈال کر اشرافیہ کے چند نااہل اور کرپٹ لوگوں کو این آر او دے رہی ہے۔

وزیراعظم عمران خان سے ان کے وعدے کی مطابق 1 کروڑ نوکریوں کا سوال نہیں کرتے لیکن جو لوگ صاحب روزگار تھے انہیں بیروزگار کرنے کا جواب تو وزیراعظم کو دینا ہی ہوگا۔کیا یہ وزیر اعظم عمران خان کی ریاست مدینہ ہی نجی شعبے میں نئی اسٹیل ملز لگ رہی ہیں اور بہترین منافع کما رہی ہیں لیکن سرکاری اسٹیل ملز خسارے میں ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ مسئلہ اسٹیل ملز کے ملازمین نہیں بلکہ نااہل اور کرپٹ حکمرانوں کا ہے۔

(جاری ہے)

عمران خان بے روزگاری کی بھٹی میں جھونکے بھوک و افلاس کے مارے ہزاروں خاندانوں کی بد دعاں سے ڈریں۔ اسٹیل کی مانگ میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے اور حکومت اسٹیل مل کو بہتر بنانے کے بجائے ملازمین کو فارغ کر رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسٹیل ٹان میں چیئرمین اسٹیل ملز ہاس کے بلمقابل جبری برطرف ملازمین اور انکے اہل خانہ سے یکجہتی کے طور پر دھرنے میں شرکت کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر سینئر وائس چیئرمین اشفاق احمد منگی، ممبر نیشنل کونسل مقبول ابڑو، وکلا فورم کے ابراہیم ابڑو، ڈسٹرکٹ ملیر کے صدر عظیم میمن، صدر لیبر فیڈریشن پاکستان ندیم خان بھی انکے ہمراہ موجود تھے۔ سید مصطفی کمال نے مزید کہا کہ ادارے بند کرنا مسائل کا حل نہیں، حکومت بہتر لوگوں کے ذریعے انتظامی امور بہتر کر کے اسٹیل ملز کو منافع بخش بنا کر مزید نوکریوں کے مواقع پیدا کرے۔

یہی اسٹیل مل پہلے انہی ملازمین کے ساتھ منافع بخش تھا اور اب بھی یقینی طور پر بنایا جا سکتا ہے۔ مصطفی کمال نے جبری برطرف ملازمین اور انکے اہل خانہ سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے مزید کہا کہ ہم آپ کو یہ بتانے آئے ہیں آپ کے دکھ درد میں ہم آپ کے ساتھ ہیں، ہمارے پاس انتظامی طاقت نہیں لیکن جہاں تک آپ کی آواز جاسکتی ہے وہاں آپ کی آواز کے ساتھ ہماری آواز شامل ہے، حکمران وقت کو کہنا چاہتا ہوں یہ لوگ اپنی جانوں پر کھیلنیکو تیار ہیں۔ ہم نئی نوکریاں نہیں مانگ رہے ہیں ہم بس یہ کہہ رہے ہیں اس ادارے کو بحال کریں۔