پیپلزپارٹی کا پی ڈی ایم سے علیحدہ ہونے والی عوامی نیشنل پارٹی سے اہم رابطہ

پاکستان پیپلزپارٹی کا وفد اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم کے مستقبل سے متعلق آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کا پیغام لے کر ولی باغ پہنچ گیا

Sajid Ali ساجد علی جمعرات اپریل 12:59

پیپلزپارٹی کا پی ڈی ایم سے علیحدہ ہونے والی عوامی نیشنل پارٹی سے اہم ..
پشاور (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار ۔ 8 اپریل2021ء) پاکستان پیپلزپارٹی کی جانب سے اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم سے علیحدہ ہونے والی عوامی نیشنل پارٹی سے اہم رابطہ کیا گیا ، پیپلزپارٹی اور اے این پی رہنماوَں میں ملاقات طے پاگئی۔ میڈیا ذرائع کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی کا وفد سابق صدر آصف علی زرداری اور پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا پیغام لے کر اے این پی کے مرکز ولی باغ پہنچ گیا ، اس حوالے سے پاکستان پیپلزپارٹی کا ایک وفد اے این پی قیادت سے ملاقات کے لیے ولی باغ گیا ، جس میں نیئر حسین بخاری، شیری رحمان، ہمایوں خان اور فیصل کریم کنڈی وفد میں شامل ہیں ، دونوں جماعتوں کے درمیان وفود کی سطح پر پونے والی ملاقات میں ملاقات میں اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم کے مستقبل سے متعلق اہم مشاورت کی گئی۔

(جاری ہے)

یاد رہے کہ عوامی نیشنل پارٹی نے بھی پی ڈی ایم کے تمام عہدے چھوڑنے کا اعلان کردیا ہے، اے این پی رہنماء امیر حیدرہوتی نے کہا کہ پی ڈی ایم کے منشور کی حمایت جاری رکھیں گے، ن لیگ پنجاب اور جےیوآئی لاڑکانہ میں پی ٹی آئی کا ساتھ دینے پر وضاحت دیں، شوکاز نوٹس کا مقصد اے این پی کو سیاسی نقصان پہنچانا ہے۔ انہوں نے پارٹی اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اے این پی کو شوکاز نوٹس دینے کا اختیار صرف اسفند یار ولی خان کو ہے ، وضاحت چاہیے تھی تو ویسے ہم سے وضاحت مانگ لیتے ہم وضاحت دے دیتے ، کیا پنجاب میں مسلم لیگ ن کی جانب سے پی ٹی آئی کا ساتھ دینے کی وضاحت نہیں بنتی؟ لاڑکانہ میں جے یوآئی اور پی ٹی آئی کا اتحاد ہوا ہے، کیا اس پر وضاحت نہیں بنتی؟ ہمیں مولانا صاحب سے توقع تھی کہ وہ سربراہ پی ڈی ایم کی حیثیت سے قدم اٹھائیں گے۔

جب کہ پاکستان پیپلزپارٹی نے اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا حصہ رہنے یا نہ رہنے کا معاملہ سی ای سی پر چھوڑ دیا ، پاکستان پیپلزپارٹی کی رہنماء سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم کے شوکاز نوٹس کا جواب دینے سے متعلق سی ای سی فیصلہ کرے گی ، پیپلزپارٹی نے پی ڈی ایم کا حصہ رہنے یا نہ رہنے کا معاملہ سی ای سی کے سپرد کردیا ہے ، پی ڈی ایم کا کوئی آئین نہیں اور پیپلزپارٹی کسی کو جوابدہ نہیں ہے ، تاہم جمہوریت میں بات چیت کے دروازے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں ، اگر مسلم لیگ ن کو کوئی مسئلہ تھا تو بات کرنی چاہیئے۔