Live Updates

غضب للحق نیشنل رسپانس آن ٹیررازم کا ایک حصہ ہے، آخری دہشتگرد کے خاتمے تک جنگ جاری رکھیں گے

ہمارا مطالبہ ہے کہ پاکستان کیخلاف افغانستان کی سرزمین کو استعمال نہ ہونے دیں، دہشتگردوں کے حلیے اسلامی نظر آئیں گے لیکن ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ جمعرات 7 مئی 2026 22:53

غضب للحق نیشنل رسپانس آن ٹیررازم کا ایک حصہ ہے، آخری دہشتگرد کے خاتمے ..
راولپنڈی (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 07 مئی 2026ء ) ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ غضب للحق نیشنل رسپانس آن ٹیررازم کا ایک حصہ ہے، آخری دہشتگرد کے خاتمے تک جنگ جاری رکھیں گے۔ معرکہ حق کا ایک سال مکمل ہونے پر پاک فضائیہ اور بحریہ کے افسران کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہاکہ غضب للحق نیشنل رسپانس آن ٹیررازم کا ایک حصہ ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ پاکستان کیخلاف افغانستان کی سرزمین کو استعمال نہ ہونے دیں، افغانستان ہر قسم کے دہشتگرد کو پناہ دینے کو تیار ہے۔

خارجیوں کے خلاف جو افسران لڑ رہے ہیں انہیں کوئی پریشانی نہیں، دہشتگردوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، دہشتگردوں کے حلیے اسلامی نظر آئیں گے لیکن ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، ہم آخری دہشتگرد کے خاتمے تک جنگ جاری رکھیں گے۔

(جاری ہے)

دہشتگردی اور بیانیئے کی جنگیں لمبی ہوتی ہیں یہ وقت لیتی ہیں۔ ابھی ہم نے ایک چھوٹی سے جھلک دکھائی ہے، ان کی پراکیسز سے لڑتے ہوئے ہمیں دہائیاں ہوگئی ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ تھا ہے اور رہے گا، پاکستان اور کشمیر کی تقدیر ایک ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ بھارت کے ذہن میں کہاں سے یہ خبط آگیا کہ وہ خطے کے عوام کی تقدیر کا فیصلہ کریں گے؟ پاکستان کے بارے بھارت کا اندازہ بالکل غلط ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی کی جرات نہیں کہ عوام اور فوج کے درمیان آسکے، پاک فوج ایلیٹ کی نہیں غریب کی فوج ہے۔

بات کرنا سیاسی جماعتوں کا استحاق ہے وہ انہیں آپس میں کرنی ہے۔پاک فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ ہم تو کہتے ہیں کہ سیاست دان اپنے معاملات بات چیت سے حل کریں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے بہت گہرے اور کثیرالجہتی ہے، حرمین شریفین کی حفاظت کا جو اعزاز ملا ہے کہ یہ پاکستان کے بچے بچے کی خواہش ہے۔پارلیمنٹ ڈپلومیسی کی سمت طے کرتی ہے، ہم تینوں پاکستان کی مسلح افواج کی نمائندگی کرتے ہیں۔

ہمیں سعودی عرب کی سکیورٹی سلامتی عزیز ہے اور سعودی عرب کا ہماری سلامتی عزیز ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ شاید پہلا معاہدہ ہے جس میں دریا تقسیم کئے گئے۔ معرکہ حق کا ایک سال مکمل ہونے پر پاک فضائیہ اور بحریہ کے افسران کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ معرکہ حق میں اللہ کے فضل سے مسلح افواج قوم کی امنگوں پر پورا اتری۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہم نے اپنے سے 5 گنا بڑے دشمن کو ملٹی ڈومین وار میں شکست دی، یہ بات پاکستانی بچوں کے ساتھ ہندوستانی بچے بھی جانتے ہیں، یہ الگ بات ہے کہ وہ اسے مانتے نہیں۔انہوںنے کہاکہ ہندوستان نے بہت مکاری سے بیانیہ بنایا کہ پاکستان دہشتگردی میں ملوث ہے لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ بھارت خود دہشتگردی میں ملوث ہے، دنیا بھارت کی من گھڑت باتوں پر کان دھرنے سے کے لیے تیار نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ پہلگام واقعے کو ایک سال مکمل ہو گیا لیکن پاکستان نے جو سوالات اٹھائے تھے وہ اب بھی جوں کے توں موجود ہیں، جواب دیں کون لوگ تھے جنہوں نے یہ کروایا، بھارت بتائے کس دہشتگرد کیمپ کو نشانہ بنایا، فائرنگ کے واقعے کے 15 منٹ کے اندر ایف آئی آر ہو گئی کہ دہشتگرد سرحد پار سے آئے تھے لیکن بھارت کی انٹیلی جنس ایجنسیاں دہشتگردوں کو روکنے میں ناکام رہیں۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کشمیر بھارت کا حصہ نہیں بلکہ یہ ایک بین الاقوامی تسلیم شدہ تنازع ہے، بھارت اپنے لوگوں پر دہشتگردی کراتا ہے اور الزام دوسروں پر عائد کر دیتا ہے، بھارت کے لیے نصیحت کے لیے سچ بولنا سیکھے۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ بھارت کے سیاستدان، سیاستدان کم اور جنگجو زیادہ لگتے ہیں، اگر یہی زبان استعمال کرنی ہے تو پھر آ ئوسامنے، بھارت کے لیے واضح اور دو ٹوک پیغام ہے کہ جو کرنا ہے کرو، روایتی یا غیر روایتی، ہم پہلے بھی تیار تھے اور اب بھی تیار ہیں، ہم کھڑے ہیں اور بھرپور طاقت سے جواب دیں گے، یہ جنگ زمین، فضا، سمندر، سائبر اور ذہنوں کی جنگ ہے، کسی کا باپ بھی پاکستان پر آنچ نہیں لاسکتا، اگر کسی کو شک ہے تو اس کی ایک قسط ہم دکھا چکے ہیں، پاکستان کی سلامتی اور دفاع کا ہر قیمت پر دفاع کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ معرکہ حق میں جو آپ نے دیکھا ہے وہ ہماری مجموعی پاور پوٹینشل کا 10 سے 15 فیصد ہے، 14 اگست کو عظیم الشان پریڈ ہوگی، پاور پوٹیشنل کی چھوٹی سی جھلک عوام کو دکھائیں گے، مقصد یہ ہے کہ وہ بعد میں یہ نہ کہیں کہ بتایا نہیں تھا۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہمیں خود پر اور قوم پر بھروسہ ہے، قوم کو بھی ہم پر بھروسہ ہے ، کسی کی جرت نہیں کہ فوج اور عوام کے درمیان آسکے۔

۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاک فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ، بات چیت سیاسی جماعتوں کا استحقاق ہے، وہ انہوں نے آپس میں کرنا ہے، ہم تو کہتے ہیں سیاست دان اپنے معاملات بات چیت سے حل کریں ۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاکہ پاکستان اور سعودی عرب کے بہت گہرے اور برادارانہ تعلقات ہیں، پاکستان کو سعودی عرب اور سعودی عرب کو پاکستان کی سکیورٹی اور سلامتی عزیز ہے، محافظین حرمین شریفین کا اعزاز ہر پاکستانی کے لیے اہم ہے ، حرمین شریفین کی حفاظت سعودی عرب کی قومی سلامتی سے جڑی ہے، سعودی عرب کو تھریٹ ہمارے لیے بھی خطرہ ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان کا سادہ سا مطالبہ ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے ، افغان طالبان رجیم بطور ریاست برتا نہیں کررہی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، ان کے حلیے آپ کو اسلامی نظر آئیں گے تاہم ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، ہم آخری دہشتگرد کے خاتمے تک جنگ جاری رکھیں گے، دہشتگردی کی جنگیں، بیانیے کی جنگیں لمبی ہوتی ہیں یہ وقت لیتی ہیں، ابھی ہم نے ایک چھوٹی سے جھلک دکھائی ہے، ان کی پراکسیوں سے لڑتے ہوئے ہمیں دہائیاں ہوگئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آپریشن غضب للحق جاری ہے، اس میں تعطل عارضی تھا، ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ معرکہ حق میں پاکستان نے واضح طور پر ڈیٹرینس قائم کیا، جنگ کا زاویہ بدل دیا، کسی کو شک ہے تو ہم نے ابھی ایک قسط دکھائی ہے، ہم تب بھی تیار تھے اور اب بھی تیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ معرکہ حق میں جو کچھ ہو ا وہ ہندوستان کا بچہ بچہ جانتا ہے، مانیں یا نہ مانیں، جانتے سب ہیں، بھارت دہشتگردی کو ریاستی آلہ کار کے طور پر استعمال کر رہا ہے، پاکستان میں جو دہشتگردی ہے وہ بھارتی ایما پر کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ تھا، ہے اور رہے گا، کشمیر کا مستقبل ان کے عوام نے طے کرنا ہے، کشمیری عوام نے طے کرنا ہے کہ انہوں نے کیا کرنا ہے، ہمیں یقین کے کشمیر کے عوام جو بھی انتخاب کریں گے، پاکستان اور کشمیری عوام کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں ، یہ سفر ہم نے طے کرناہے اور یہ ہم نے حق خود ارادیت کے ذریعے طے کرنا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت کے ذہن میں کہاں سے یہ خبط آگیا کہ اکھنڈ بھارت بنے گا! بھارت کے ذہن میں کہاں سے یہ خبط آگیا کہ وہ خطے کے عوام کی تقدیر کا فیصلہ کریں گے۔

ترجمان پاک فوج نے بتایا کہ طارق غازی نے بھی کہا کہ ہم مستقبل کی جنگ کی تیاری کر رہے ہیں، یہ دنیا تو آنی جانی چیز ہے، شہید کی موت اس کا زیور ہوتی ہے، جتنا وہ زندگی سے پیار کرتے ہیں، اتنا پیار ہمیں شہادت سے ہے، ایئرفورس کا پائلٹ جب جہاز میں جا رہا تھا تو اس کے ذہن میں ڈر نہیں تھا۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت پراکسیز کو بھی لانچ کرکے دیکھ لے، خارجیوں کے خلاف جو افسر لڑ رہے ہیں انہیں کوئی پریشانی نہیں، یہ ہمارا حوصلہ ہے، ہم اسے بھی کہتے تھے کہ ہم سے پنگا نہ کرنا ،جتنی شہادتیں ہم نے دی ہیں دنیا میں کسی کی نہیں، یہ ملک اللّٰہ کا تحفہ ہے، یہ کوئی عام ملک نہیں، ہمیں اپنے اوپر، اپنی قوم پر بھروسہ ہے اور قوم کو افواج پر بھروسہ ہے، پاک فوج ایلیٹ کی نہیں، غریب کی فوج ہے۔

Live آپریشن غضب للحق سے متعلق تازہ ترین معلومات