73سال بعد اوورسیز پاکستانیوں کے ’’ووٹ کا حق‘ کا بل قومی اسمبلی نے منظور کر لیا

اوورسیز پاکستانی ووٹ کا حق حاصل کرنے کے قریب، 73سال بعد اوورسیز پاکستانیوں کے ’’ووٹ کا حق‘ کا بل قومی اسمبلی نے منظور کر لیا، سینئر پی ٹی آئی رہنما بابراعوان کی بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو مبارکباد

Danish Ahmad Ansari دانش احمد انصاری جمعرات جون 20:20

73سال بعد اوورسیز پاکستانیوں کے ’’ووٹ کا حق‘ کا بل قومی اسمبلی نے منظور ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ، اخبار تازہ ترین، 10 جون 2021) اوورسیز پاکستانی ووٹ کا حق حاصل کرنے کے قریب، 73سال بعد اوورسیز پاکستانیوں کے ’’ووٹ کا حق‘ کا بل قومی اسمبلی نے منظور کر لیا، سینئر پی ٹی آئی رہنما بابراعوان کی بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو مبارکباد۔ تفصیلات کے مطابق سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر کیے گئے اپنے ایک ٹویٹ میں سینئر پی ٹی آئی رہنما بابراعوان نے کہا ہے کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو مبارکباد۔

73 سال بعد، اوورسیز پاکستانیز کے right of vote کا بل پاکستان کی قومی اسمبلی نے منظور کرلیا۔ اپوزیشن نے ووٹنگ کا بائیکاٹ کیا اور بل کی مخالفت بھی کی۔ اب بلِ سینیٹ آف پاکستان میں پیش ہوگا۔اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ ڈالنے کا حق دینے کے بل کے حوالے سے ردعمل دیتے ہوئے بلاول بھٹو نے قومی اسمبلی میں کہا اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق ہر کوئی دینا چاہتا ہے۔

(جاری ہے)

چاہتے ہیں کہ اوورسیز پاکستانی دوسرے اوورسیز پاکستانی سے مقابلہ کرکے ہاوَس کا ممبر بنے۔ بیرون ملک پاکستانیوں کا اپنا انتخابی حلقہ ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ آج تنقید نہیں اپیل کررہا ہوں کہ آپ رولز کو سسپینڈ نہیں کریں گے۔ چاہتے ہیں کہ عوام کے مسائل حل کرسکیں۔ ہم ایک ایسا قانون لے کر آئیں جس میں حکومت اور اپوزیشن کی بات شامل ہو۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ ہر حلقے کے عوام کے نمائندے کو حق ہے کہ وہ بھی بلز پر رائے دیں۔ اگر آپ اتفاق رائے چاہتے تو ہم سے بات کرتے نا کہ رات کے اندھیرے میں آرڈیننس لاتے ہیں۔واضح رہے کہ گزشتہ ماہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں خریدنے اور اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کا آرڈی ننس جاری کیا گیا تھا۔ الیکشن سے متعلق الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن (1) 94 اور سیکشن 103 میں ترمیم کی گئی ، اس حوالے سے ترمیمی آرڈیننس صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے جاری کیا ، جس کے تحت الیکشن کمیشن کو پابند کیا گیا کہ وہ عام انتخابات میں سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ ڈالنے کے قابل بنائے گا ، الیکشن کمیشن نادرا یا کسی اور اتھارٹی یا ایجنسی کی تکنیکی معاونت حاصل کرے گا جب کہ الیکشن کمیشن عام انتخابات میں ووٹ ڈالنے کیلئے الیکٹرونک ووٹنگ مشینیں خریدنے کا بھی پابند ہوگا۔

بتایا گیا ہے کہ آرڈیننس سے اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کی سہولت سے متعلق شقوں کو بدلا گیا ، اس کے علاوہ الیکٹرونک ووٹنگ اور بائیومیٹرک تصدیقی مشینوں کیلئے پائلٹ منصوبوں کے متعلق شقوں کو بھی بدلا گیا۔خیال رہے کہ وفاقی حکومت نے انتخابی اصلاحات کیلئے الیکشن ایکٹ میں 49 تبدیلیاں لانے کا اعلان کیا تھا ، وزیراعظم عمران خان کے مشیر پارلیمانی امور پی ٹی آئی رہنماء بابر اعوان کہتے ہیں کہ وزیر اعظم عمران خان نے الیکٹورل ریفارمز کا راستہ اپنایا ہے، انتخابی اصلاحات میں الیکشن ایکٹ کی 49 شقو ں میں ترمیم ہوگی ، الیکٹرانک ووٹر مشین کے لیے سیکشن 103میں ترمیم کی تجویز ہے ، سیاسی جماعتوں میں جمہوریت کیلئے دو ریفارم تجویز کی ہیں ، سیاسی جماعتوں کو پابند کررہے ہیں کہ اپنے سالانہ کنونشن منعقد کریں ، تجویز ہے سیاسی جماعتوں کی 10ہزار ممبرز ہونے پر رجسٹر کیاجائے ، اس کے علاوہ اوورسیز پاکستانیوں کو ہم ووٹ کا حق دینے کیلئے ریفارم لارہےہیں۔