کامسٹیک نے نجی شعبہ یونیورسٹیوں کی ایسوسی ایشن آف پاکستان ، اور کامسٹیک کنسورشیم آف ایکسی لینس کے ممبر اداروں کے اشتراک سے فلسطینی طلبا اور سکالرز کے لئے 500 اسکالرشپ کا اعلان کر دیا

پروفیسر ڈاکٹر ایم اقبال چودھری ، کوآرڈینیٹر جنرل ، کامسٹیک نے منگل کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسکا اعلان کیا انہوں نے بتایا کہ ایپسپ کے 42 ممبر اداروں نے فلسطینی طلبا کے لئے 370 سے زائد وظائف کا وعدہ کیا گیا ہے

Umer Abdur Rehman Janjua عمر عبد الرحمن جنجوعہ بدھ 16 جون 2021 13:24

کامسٹیک نے نجی شعبہ یونیورسٹیوں کی ایسوسی ایشن آف پاکستان ، اور کامسٹیک ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 جون2021ء) کامسٹیک نے نجی شعبہ یونیورسٹیوں کی ایسوسی ایشن آف پاکستان ، اور کامسٹیک کنسورشیم آف ایکسی لینس کے ممبر اداروں کے اشتراک سے فلسطینی طلبا اور سکالرز کے لئے 500 اسکالرشپ کا اعلان کر دیا۔ پروفیسر ڈاکٹر ایم اقبال چودھری ، کوآرڈینیٹر جنرل ، کامسٹیک نے منگل کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسکا اعلان کیا انہوں نے بتایا کہ ایپسپ کے 42 ممبر اداروں نے فلسطینی طلبا کے لئے 370 سے زائد وظائف کا وعدہ کیا گیا ہے ، جبکہ کامسٹیک کنسورشیم آف ایکسی لینس کی پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں نے 130 اسکالرشپس فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

کامسٹیک کے کوآرڈینیٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چودھری نے کہا کہ فلسطینی عوام قابض فورسز کے ذریعہ جارحیت اور محاصرے میں ہیں۔

(جاری ہے)

فلسطینیوں کو اب اعلی تعلیم اور تحقیقی سہولیات تک محدود رسائی حاصل ہے۔ سات دہائیوں سے زیادہ کے قبضے نے فلسطینی ریاست کے تعلیمی اور سماجی و معاشی بنیادی ڈھانچے کو منظم طریقے سے تباہ کردیا ہے۔ انہوں نے کہا ، ان متاثرہ نوجوانوں کی مدد کے لئے ، کامسٹیک نے ایک خصوصی پروگرام شروع کیا جس میں فلسطینی طلبا کے لئے تحقیقی فیلوشپس ، تکنیکی ماہرین کی تربیت اور ورکشاپس میں شرکت کے لئے گرانٹ فراہم کی جائے گی، اوریہ اعلان اس پروگرام کے تحت حاصل کیا جانے والا پہلا اہم سنگ میل ہے۔

کوآرڈینیٹر جنرل کامسٹیک کے میڈیا ایڈوائزر اور کوآرڈینیٹر انٹر یونیورسٹی کنسورشیم برائے پروموشن برائے سوشل سائنسز مرتضی نور نے ریاست فلسطین کے طلبا کو وظائف پیش کرنے پر پاکستانی یونیورسٹیوں کے اعلان کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ تنظیموں اور پارٹنر یونیورسٹیوں کے ساتھ مل کر فلسطینی طلبا کے لئے داخلے کے حصول میں سہولت فراہم کرنے کا مناسب طریقہ کار وضع کیا جائے گا۔

چوبیس ایپسپ ممبر نجی شعبے کی یونیورسٹیوں نے تین سو ستر اسکالرشپس کا اعلان کیا ہے ان یونیورسٹیوں میں  یونیورسٹی آف لاہور، سپیریئر یونیورسٹی لاہور ، اقرا یونیورسٹی کراچی ، اباسین یونیورسٹی پشاور ، الحمد اسلامی یونیورسٹی کوئٹہ ، جناح یونیورسٹی برائے خواتین کراچی ، سی ای سی او ایس یونیورسٹی پشاور ، گرین وچ یونیورسٹی کراچی ، انڈس یونیورسٹی کراچی ، انسٹی ٹیوٹ آف سدرن پنجاب ملتان ، محمد علی جناح یونیورسٹی ، کراچی ، نیشنل یونیورسٹی آف کمپیوٹر اینڈ ایمرجنگ سائنسز (فاسٹ)اسلام آباد ، پریسٹن یونیورسٹی اسلام آباد ، قرطبہ یونیورسٹی پشاور ، سرحد یونیورسٹی پشاور ، سی یو ایس آئی ٹی ، پشاور۔

سرسید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کراچی ، جامعہ ساتھ ایشیا لاہور ، جامعہ سیالکوٹ ، سیالکوٹ ، ٹیکسٹائل انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان ، کراچی ، ایس بی بی دیوان یونیورسٹی کراچی ، مسلم یوتھ یونیورسٹی اسلام آباد، الخیر یونیورسٹی آزاد کشمیر اور یونیورسٹی آف فیصل آباد شامل ہیں۔جبکہ ایک سو تیس اسکالرشپ تیرہ پبلک سیکٹر کے اعلی تعلیمی و تحقیقی اداروں نے پیش کی ہیں ، جن میں انٹرنیشنل سینٹر برائے کیمیکل اینڈ بیولوجیکل سائنسز (آئی سی سی بی ایس)، جامعہ کراچی ، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی ، لاہور ، اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور ، قائد اعظم یونیورسٹی ، اسلام آباد ، نیٹکینٹ یونیورسٹی ، ترکی ، نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی ، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ ، غلام اسحاق خان انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ سائنسز اینڈ ٹکنالوجی، کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد ، الشفا آئی ٹرسٹ ، NED یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹکنالوجی ، خواجہ فرید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی ، یونیورسٹی آف لاہور ، اور پنجاب یونیورسٹی شامل ہیں۔

پروفیسر چودھری نے چیئرمین ایپسپ اور یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کا بروقت تعاون کرنے ، اور اس عظیم مقصد میں شراکت داری پر شکریہ ادا کیا۔ایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہا کہ اسکالر شپ پروگرام پر عملدرآمد دو سالہ کے دوران کیا جائیگا اور پاکستان واحد ملک ہے جس نے اتنا بڑا سکالرشپ پروگرام آفر کیا ۔