حکومت نے ایم پی ایز کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، مولانا واسع کا الزام

ایم پی ایز پر بکتربند گاڑیاں چڑھانے کی کوشش کی گئی، خاتون ایم پی اے پر بھی حملہ کیا گیا جوانتہائی شرمناک ہے، بلوچستان کا خزانہ جام کمال کا نہیں ،عوام کی ملکیت ہے۔ بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن رہنماء کی میڈیا سے گفتگو

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ جمعہ 18 جون 2021 22:17

حکومت نے ایم پی ایز کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، مولانا واسع کا ..
کوئٹہ (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 جون2021ء) بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن رہنماء مولانا واسع نے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت نے ایم پی ایز کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، ایم پی ایز پر بکتر بند گاڑیاں چڑھانے کی کوشش کی گئی، خاتون ایم پی اے پر بھی حملہ کیا گیا جو انتہائی شرمناک ہے۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عوام کے حقوق پر کوئی کمپرومائز نہیں کریں گے، بلوچستان کا خزانہ جام کمال یا کسی اور نہیں ہے، بلکہ بلوچستان کا خزانہ عوام کی ملکیت ہے۔

ہمارے ایم پی ایز کو قتل کرنے کا تہیہ کررکھا تھا، بکتر بند گاڑیوں سے چڑھائی کی اور مارنے کا منصوبہ بنایا ہوا تھا، سب سے بڑی بے شرمی خاتون ایم پی اے پر حملہ کیا گیا۔دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے کہا کہ آج اسمبلی کی عمارت کو نقصان پہنچایا گیا، اپوزیشن کو چاہیے تھا کہ بجٹ اجلاس میں شریک ہوکر احتجاج کرتی،کیا اپوزیشن نے احتجاج 10کروڑ کی اسکیموں کیلئے کیا ؟ اپوزیشن کا مئوقف واضح نہیں ہے۔

(جاری ہے)

اس پر بڑے سنگین کیسز بن سکتے ہیں، آج اپوزیشن نے سارے نظام کو خراب کیا، توڑ پھوڑ کی، سکیورٹی خدشات کو جنم دیا، انکوائری شروع کردی ہے، ہم معلوم کریں گے کہ کس نے نقصان پہنچایا ؟ واضح رہے بلوچستان اسمبلی کے بجٹ اجلاس سے قبل اپوزیشن ارکان نے اسمبلی کے تمام داخلی دروازوں کو تالے لگادئیے اجلاس سے قبل اپوزیشن ارکان دروازوں کے سامنے مختلف گروپوں کی شکل میں پہنچے اور زنجیروں سے دروازوں کو بند کرکے تالے لگا دئیے جبکہ اسمبلی سیکرٹریٹ کے اندر جانے والے راستوں پر بھی ارکان اسمبلی بیٹھ گئے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ،انتظامیہ اور پولیس نے تالے کھولنے کی درخواست کی جسے اپوزیشن ارکان نے ماننے سے انکار کردیا، قبل ازیں بی این پی کے رکن احمد نواز بلوچ، اختر حسین لانگو کی انتظامیہ اور پولیس کے اہلکاروں سے اسمبلی کے داخلی دروازے بند کرنے پر تلخ کلامی بھی ہوئی انتظامیہ اور پولیس اہلکار راستے کھولنے کا کہتے رہے مگر ارکان اسمبلی نے بات ماننے سے انکار کردیا گیا۔

بلوچستان اسمبلی کے اپوزیشن ارکان اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کے درمیان مذاکرات ناکام ہونے کے بعد پولیس نے کاروائی کرتے ہوئے بلوچستان اسمبلی کے داخلی دروازے کو بکتر بند گاڑی سے توڑ دیا اس موقع پر گاڑی اور دروازے سے ٹکر کے نتیجے میں اسمبلی کے تین ارکان عبدالرحیم مینگل، عبدالواحد صدیقی اور شکیلہ نوید دہوار زخمی بھی ہوئے۔ اسی طرح بلوچستان اسمبلی کے اجلاس سے قبل دھکم پیل کے دوران بی این پی کے رکن صوبائی اسمبلی احمد نواز بلوچ زمین پر گر گئے اس دوران کھینجا تانی سے ان کے کپڑے بھی پھٹ گئے بعد میں انہیں انکے ساتھیوں سے اٹھایا اور ایک طرف لے گئے۔

مزید برآں اسمبلی کے باہر وزیراعلیٰ بلوچستان پر جوتا اچھال دیا گیا، وزیراعلیٰ جام کمال اسمبلی احاطے میں داخل ہوئے تو انہیں دیکھ کر اپوزیشن جماعتوں کے کارکنان نے جام کمال کی طرف بڑھنے کی کوشش کی، اس دوران گملے اور جوتے بھی پھینکے گئے، پولیس نے حملہ کرنے والے مظاہرین کی تلاش شروع کردی ہے۔