میاں صاحب آپ مکمل علاج اور ڈاکٹروں سے اجازت ملنے تک برطانیہ میں ہی قیام کریں، شہباز شریف

قوم اور پارٹی کو آپ کی صحت وسلامتی سب سے زیادہ عزیز اور مقدم ہے، قوم اور پارٹی آپ کی جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہے، نواز شریف اور شہباز شریف کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ، ویزا میں توسیع کی درخواست مسترد ہونے سے متعلق بات چیت

Danish Ahmad Ansari دانش احمد انصاری جمعرات 5 اگست 2021 23:20

میاں صاحب آپ مکمل علاج اور ڈاکٹروں سے اجازت ملنے تک برطانیہ میں ہی قیام ..
لاہور (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔05 اگست 2021ء) آپ مکمل علاج اور ڈاکٹروں سے اجازت ملنے تک برطانیہ میں ہی قیام کریں، پوری قوم آپ کی صحت یابی کیلئے دعا گو ہے، نواز اور شہباز شریف کا ٹیلیفونک رابطہ، ویزا میں توسیع کی درخواست مسترد ہونے سے متعلق بات چیت- تفصیلات کےمطابق سابق وزیراعظم اور قائد مسلم لیگ ن نوازشریف کی لندن میں ویزے کی توسیع کی درخو است مسترد ہونے کے بعد شہباز شریف اور نواز شریف کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے- ن لیگ کے مطابق شہباز شریف نے نواز شریف سے برطانوی ہوم آفس کے فیصلے سے متعلق بات چیت کی اور نوازشریف نے شہبازشریف کو فیصلے پر قانونی کارروائی سے متعلق آگاہ کیا۔

اعلامیے کے مطابق نوازشریف نے بتایا کہ ان کے وکلا نے ہوم آفس کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کردی ہے، اپیل میں نواز شریف کی طبی وجوہات اور علاج کی بنا پر برطانیہ میں قیام کی وجوہات بیان کی گئی ہیں۔

(جاری ہے)

ن لیگ کے مطابق شہبازشریف نے نواز شریف سے اصرار کیا کہ وہ مکمل علاج اور ڈاکٹروں سے اجازت ملنے تک برطانیہ میں ہی قیام کریں، قوم اور پارٹی کو آپ کی صحت وسلامتی سب سے زیادہ عزیز اور مقدم ہے، قوم اور پارٹی آپ کی جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہے۔

خیال رہےکہ سابق وزیراعظم نوازشریف کی برطانیہ میں 6 ماہ قیام کے ویزےکی مدت ختم ہو چکی تھی جس پر انہوں نے اپنے علاج کے سلسلے میں برطانیہ میں مزید قیام کے لیے ویزا میں توسیع کی درخواست کی تھی۔ ذرائع کے مطابق برطانوی امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے درخواست مسترد کیے جانے کے بعد اب نواز شریف کے پاس 2 آپشن ہیں، ایک تو یہ کہ وہ امیگریشن ڈیپارٹمنٹ میں فیصلے پر نظر ثانی کی اپیل کریں اور وہاں سے بھی درخواست مسترد ہونے پر وہ برطانوی عدالتوں سے رجوع کرسکتے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم نوازشریف کے پاس کوئی مستند سفری دستاویز موجود نہیں ہیں کیوں کہ نوازشریف کے پاسپورٹ کی مدت 16 فروری 2021 کو ختم ہو چکی ہے۔ نوازشریف کے پاس سابق وزیراعظم کی حیثیت سے سفارتی پاسپورٹ تھا۔ ذرائع کے مطابق نواز شریف برطانیہ میں ویزا کیلئے اپیل مسترد ہونے پر برطانوی عدالتوں رجوع کرسکتے ہیں- قانونی ماہرین کے مطابق برطانوی حکومت کے فیصلے کیخلاف اپیلوں کے فیصلے آنے میں 3،4 ماہ کا وقت لگ سکتا ہے، اس لیے اس عرصے کے دوران نواز شریف کو برطانیہ سے بے دخل نہیں کیا جا سکتا۔

یہاں یہ واضح رہے کہ حکومت پاکستان قائد ن لیگ نواز شریف کا پاسپورٹ پہلے ہی منسوخ کر چکی، اس لیے انہیں کسی دوسرے ملک کا سفر کرنے کیلئے بھی حکومت پاکستان کی اجازت درکار ہے۔ حکومت پاکستان کی اجازت کے بنا نواز شریف برطانیہ سے کسی دوسرے ملک نہیں جا سکتے۔