وزیراعظم نے آصف زرداری کو ملک کی قیادت کرنے والوں میں کرپٹ ترین رہنما قرار دے دیا

اہداف پر حملوں کے دوران معصوم شہریوں کا قتل امریکیوں کو پریشان کرتا ہوگا، اُنھیں (یعنی آصف زرداری کو ) نہیں، سابق صدر آصف زرداری نے امریکیوں کو پاکستان میں اہداف پر حملوں کی اجازت دی، وزیراعظم عمران خان کا امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں مضمون

Danish Ahmad Ansari دانش احمد انصاری منگل 28 ستمبر 2021 00:03

وزیراعظم نے آصف زرداری کو ملک کی قیادت کرنے والوں میں کرپٹ ترین رہنما ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - 27 ستمبر2021ء) وزیراعظم عمران خان کا امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں مضمون, وزیراعظم نے آصف زرداری کو ملک کی قیادت کرنے والوں میں کرپٹ ترین رہنما قرار دے دیا- تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے سابق صدر آصف علی زرداری کو پاکستان کی قیادت کرنے والوں میں کرپٹ ترین رہنما قرار دیا اور کہا کہ نواز شریف بھی آصف زرداری سے مختلف نہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں مضمون لکھا ہے جس میں ان کا کہنا تھاکہ سابق صدر آصف زرداری نے امریکیوں کو پاکستان میں اہداف پر حملوں کی اجازت دی۔ عمران خان نے یہاں امریکی کتاب ’اوباماز وار‘ کا ذکر کیے بغیر کتاب میں درج آصف زرداری کا جملہ ازسرِ نو تحریر کیا کہ ’اہداف پر حملوں کے دوران معصوم شہریوں کا قتل امریکیوں کو پریشان کرتا ہوگا، اُنھیں ( یعنی آصف زرداری کو ) نہیں‘۔

(جاری ہے)

مضمون میں وزیراعظم نے لکھا کہ افغان جنگ کی ناکامی کی ذمے داری پاکستان پر نہ ڈالی جائے، دنیا نئی افغان حکومت سے تعاون کرے اور ماضی کی غلطی دہرائی تو دہشت گردی ہی بڑھے گی۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ 2001ء سے بارہا آگاہ کرتا رہا کہ افغان جنگ نہیں جیتی جا سکتی۔ پاکستانی حکومتی ماضی میں امریکہ کو افغانستان کے معاملے پر خوش کرتی رہی ہیں، نائن الیون کے بعد ماضی کے مجاہدین کو دہشتگرد قرار دیا گیا۔

امریکہ کی جنگ کی حمایت کے بعد عسکری گروپس نے پاکستان کے خلاف جنگ شروع کر دی۔ ہم اپنی بقا کے لیے لڑے اور بہترین فوج اور انٹیلی جنس کے باعث دہشتگردی کو شکست دی۔ نائن الیون کے بعد آنے والی افغان حکومتیں، افغان شہریوں کی نظر میں اپنا مقام پیدا نہیں کر سکیں۔ اسی لیے افغانستان میں کوئی بھی بد عنوان اور ناکام حکومت کے لیے لڑنے کو تیار نہیں تھا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کیا 3 لاکھ افغان سکیورٹی فورسز کے ہتھیار ڈالنے پر پاکستان کو مورد الزام ٹھہرایا جا سکتا ہے ؟حقیقت کو تسلیم کرنے کی بجائے افغان اور مغربی حکومتیں پاکستان پر الزام عائد کرتی رہیں۔ افغانستان اور مغربی حکومتوں نے بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف جعلی خبریں چلائیں۔ بے بنیاد الزامات کے باوجود سرحد کے بائیو میٹرک کنٹرول اور سرحد کی مشترکہ نگرانی کی پیشکش کی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے محدود وسائل کے باوجود افغانستان کے ساتھ سرحد پر باڑ لگائی۔ الزام تراشی کا رویہ ترک کر کے افغانستان کے مستقبل کی جانب دیکھنا چاہئیے۔