Live Updates

سینیٹرمشتاق اورطاہربزنجو کا چیف الیکشن کمشنر کیخلاف آئین شکنی کا مقدمہ چلانے کا مطالبہ

منگل 20 فروری 2024 15:40

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 20 فروری2024ء) سینٹ میں سینیٹر مشتاق احمد اور سینیٹر طاہر بزنجو نے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف آئین شکنی کا مقدمہ چلانے کا مطالبہ کردیا۔ منگل کو سینٹ کا اجلاس چیئرمین صادق سنجرانی کی زیر صدارت ہوا، جس میں وقفہ سوالات معطل کرنے کی تحریک قائد حزب اختلاف وسیم شہزاد نے پیش کی، جسے منظور کرلیا گیا۔

بعد ازاں سینیٹ میں عام انتخابات 2024ء پر بحث کا آغاز ہوا جس پر اظہار خیال کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے مطالبہ کیا کہ چیف الیکشن کمشنر کیخلاف آئینی شکنی اور غداری کا مقدمہ چلایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ شفاف انتخابات کا انعقاد نہ کروا کر الیکشن کمیشن غداری کا مرتکب ہوا ہے،چیف الیکشن کمشنر کے خلاف آئین شکنی کے آرٹیکل 6کے تحت کارروائی کی جائے۔

(جاری ہے)

سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ الیکشن میں ڈرگ مافیا اور افغان نیشنل کو جتوایا گیا۔انہوںنے کہاکہ کمشنر راولپنڈی لیاقت چٹھہ نے الیکشن کا کٹھا چٹھا کھول دیا۔انہوںنے کہاکہ الیکشن نے ملک کو عظیم تر معاشی اور سیاسی بحران کی طرف دھکیل دیا ہے، الیکشن میں دھاندلی کروانے والے قومی مجرم ہیں۔ انہوںنے کہاکہ الیکشن میں بلٹ نے بیلٹ کو اغوا کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن میں گولی نے پرچی کو اغوا کیا ہے۔ انہوڈںنے کہاکہ چند سرکاری نوکر بند دروازوں کے پیچھے عوام کے حق حکمران کو چھین کر لے گئے۔انہوںنے کہاکہ چیف الیکشن کمشنر معافی مانگیں اور ان سے 50ارب وصولی کیا جائے۔ انہوںنے کہاکہ الیکشن کی شفاف تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔ انہوںنے کہاکہ انگریزوں سے آزادی اس لیے حاصل نہیں کی گئی کے چند سرکاری نوکر بند کمروں میں ہمیں غلام بنانے کے فیصلے کریں۔

اظہار خیال کرتے ہوئے سینیٹر طاہر بزنجو نے کہا کہ ملک کو بنے 75 برس ہو گئے ہیں، ملک میں جمہوریت کا منہ ٹیڑھا ہے،ملک میں اختلاف کی گنجائش سکڑتی جا رہی ہے۔انہوںنے کہاکہ تاریخ پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ خدارا کچھ سیکھو مگر کوئی سیکھنے کو تیار نہیں، کوئی مانے یا نہ مانے آپ غلطیوں کو دہرا رہے ہیں،نگرانوں کی نگرانی میں جو بھی انتخابات ہوئے وہ متنازع رہے، اب کی بار انتخابات متنازع ترین رہے۔

سینیٹر طاہر بزنجو نے کہا کہ بلوچستان میں چن چن کر حقیقی عوامی نمائندوں کو ہروایا گیا۔ انہوںنے کہاکہ دو بڑی جماعتوں کے تعاون سے منشیات فروشوں، فیوڈل لارڈز کو اسمبلیوں تک پہنچایا گیا۔ انہوںنے کہاکہ جب تک عدلیہ اور فوج اپنا اپنا کام نہیں کریں گے ملک بحرانوں کا شکار ہوتا جائے گا۔ انہوںنے کہاکہ کیا عدلیہ کو حق تھا کہ وہ پی ٹی آئی کا نشان چھینے، کیا ایسے دھاندلی زدہ انتخابات کے نتیجے میں سیاسی اور معاشی استحکام آئے گا ۔

انہوں نے کہا کہ میرا مطالبہ ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کو گرفتار کر کے آئین شکنی کا مقدمہ چلایا جائے۔ انہوںنے کہاکہ آخری اجلاس ہے آپ اعجاز چوہدری کے پروڈکشن آرڈر جاری کریں۔ سید علی ظفر نے انتخابات پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ایک جماعت کو ہدف بنایا گیا، لوگوں کو ہراساں کیا گیا ، پی ٹی آئی رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا۔انہوںنے کہاکہ پی ٹی آئی کو الیکشن مہم کے دوران ایک بھی جلسہ نہیں کرنے دیا گیا۔

انہوںنے کہاکہ پی ٹی آئی کا نشان لیا گیا تاکہ عوام ووٹ نہ دے سکیں۔انہوں نے کہا کہ انتخابات میں جو کچھ بھی ہوا عوام نے ایک صاف فیصلہ دے دیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ کوئی مانے یا نہ مانے عوام نے فیصلہ عمران خان کے حق میں دیا۔ انہوںنے کہاکہ انتخابات میں نوجوانوں نے ثابت کیا وہ ایک امید کے ساتھ کھڑے ہیں،لوگوں میں خوف وہراس پھیلایا گیا تاکہ وہ الیکشن کے دن باہر نہ نکلیں۔

انہوںنے کہاکہ پی ٹی آئی کے امیدواروں کو انتخابی مہم نہیں چلانے دی گی، گرفتاریاں کی گئیں۔ انہوںنے کہاکہ الیکشن سے چند دن پہلے ہم سے ہمارا انتخابی نشان لیا گیا۔انہوں نے کہا کہ انتخابات سے ایک ہفتے پہلے ایک اور وار کیا گیا،پی ٹی آئی چیئرمین کو بغیر ٹرائل کے سزادی گئی۔ انہوںنے کہاکہ پی ٹی آئی چیئرمین کے وکلا کو بند کر دیا گیا اور عدالت نے اپنے وکیل دئیے، ان کو جرح کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

انہوںنے کہاکہ ٹرائل کا الٹا اثر ہوا اور لوگوں نے الیکشن میں بھرپور حصہ لیا، عوام ایک انقلاب لے کر آئے۔انہوں نے کہا کہ جب پری پول دھاندلی ناکام ہوئی تو پوسٹ پول دیکھنے میں آئی۔ انہوںنے کہاکہ ووٹ تبدیل کر کے ہارنے والے امیدواروں کو جتوایا گیا۔عوام کا مینڈیٹ چوری کیا گیا۔ انہوںنے کہاکہ ہمیں آگے دیکھنے کی ضرورت ہے مگر یہ اتنی آسان بات نہیں ہے، جس کو عوام نے مینڈیٹ دیا ہے اس کو آنے دیں۔

آج ہی قرارداد پیش کریں الیکشن کمیشن کو کہیں کہ چوری کردہ مینڈیٹ واپس کریں۔انہوںنے کہاکہ سینیٹر شفیق ترین نے کہا کہ عوام کا مینڈیٹ چرایا گیا ہے، آراوز نے الیکشن میں دھاندلی کی ہے۔ انہوںنے کہاکہ حکومت نے عوام کے 50ارب روپے الیکشن پر خرچ کیے،حالیہ انتخابات پری پلان الیکشن ہیں،جو پارٹیاں اکثریت میں ہیں انہیں حکومت بنانے دی جائے۔

دوران اجلاس بیرسٹر علی ظفر نے پی ٹی آئی کے سینٹر اعجاز چوہدری کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے سے متعلق قرارداد سینیٹ میں پیش کی۔ قرارداد پر تمام سیاسی جماعتوں کے 24سینٹرز کے دستخط شامل تھے۔اجلا س کے دور ان مسلم لیگ (ن )کے سینیٹر عرفان صدیقی نے سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ہاں انتخابات کی تاریخ خوشگوار نہیں،قیام پاکستان کے بعد 23سال ہم الیکشن نہیں کروا سکے۔

انہوںنے کہاکہ 1970میں الیکشن کا فیصلہ تسلیم نہیں کیا جاتا اور ملک تقسیم ہوگیا۔ انہوںنے کہاکہ ایک انتخابات نے ملک توڑا ایک نے گیارہ سال مارشل لا کا تحفہ دیا، بہت ذکر ہوا 2018کی بات کسی نے نہیں کی۔انہوںنے کہاکہ 2018میں ہماری سزاؤں پر قہقہے لگانے والوں کو سوچنا چاہیے تھا،2018کے الیکشن کے نتائج 4دن بعد آئے۔انہوں نے کہا کہ اگر یہاں الیکشن کمشنر نے الیکشن کروائے تو کیا کے پی کے میں امام کعبہ امام، ابو حنیفہ نے آکر الیکشن کروائے ۔

انہوںنے کہاکہ 2013 میں 35پنکچر تھے آج فارم 45ہے۔ انہوںنے کہاکہ دھاندلی اگر ہوئی تو پورے ملک میں ہوئی۔انہوںنے کہاکہ کے پی کے میں الیکشن آپ جیتے تو ٹھیک، کسی دوسرے صوبے میں کوئی اور جیتا تو دھاندلی،ایسا نہیں ہونا چاہیے،2018میں غلط تھا آج بھی غلط ہے۔سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ آپ کو سزائیں نچلی عدالتیں اور ہمیں سپریم کورٹ دیتی تھی۔

انہوںنے کہاکہ سینیٹ میں بیٹھے بہت سے لوگ آزاد ہیں، ہم کسی سنی کونسل یا ایم ڈبلیو ایم میں شامل نہیں ہوئے۔ انہوںنے کہاکہ عام انتخابات کے نتائج الیکشن سے قبل گیلپ سروے کے مطابق ہیں،جب مولانا فضل الرحمان کے پاس جا سکتے ہیں تو جمہوری جماعتوں کیساتھ کیوں نہیں بیٹھتے۔ انہوںنے کہاکہ آپ حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں ہاتھ نہیں ملاتے۔

انہوںنے کہاکہ الیکشن پر تحفظات ہیں تو ایوان میں آئیں اپوزیشن کا کردار ادا کریں، 9مئی کے کردار کو بھول جائیں۔8فروری کو یاد رکھیں۔اجلاس میں سیف اللہ ابڑو نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے۔ نعرہ دیا ملک کو نواز دو آگے سے جواب آیا نہیں آگے سے شہباز لو،شاہد یہی غصہ ہے۔ انہوںنے کہاکہ الیکشن امام سلطان سکندر نے کروایا ہے،عام انتخابات کا آڈٹ کرایا جائے اور آغاز کے پی سے کریں۔

انہوںنے کہاکہ پی پی ساتھ چلنا نہیں چاہتی مگر دباؤ ڈالا جا رہا ہے، پی پی کی نوجوان قیادت اس ڈر سے ساتھ نہیں بیٹھ رہی کہ کل کیسے پنجاب جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ابھی اسمبلی اجلاس نہیں ہوا آپ کو کیسے پتا چل گیا کہ اپوزیشن میں بیٹھیں۔ انہوںنے کہاکہ آپ دیکھیں پاکستان کی یوتھ نے کیا حشر کیا ہے،فارم 45 کا آڈٹ کروائیں سب پتا چل جائیگا۔

انہوںنے کہاکہ پہلے آڈٹ کروائیں جس کی حکومت بنتی ہے وہ حکومت بنائے،سیالکوٹ کا وہ جو کہتا تھا کچھ شرم ہوتی حیا ہوتی ئے اس کو شرم نہیں آئی۔ انہوںنے کہاکہ99 فیصد کی ریحانہ ڈار کی لیڈ تھی ایک فیصد پر 75 ہزار ووٹ کیسے پڑے، یہ پہلا الیکشن ہے کہ تھرڈ فورتھ پر آنے والا جیت رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ سینیٹ ملک بھر کے فارم 45کا آڈٹ کرے ورنہ قاضی صاحب کے پاس چلے چلتے ہیں۔

انہوںنے کہاکہ اگر آر اوزدھاندلی میں ملوث ہیں تو ان کو پھانسی پر لٹکایا جائے،کیا پاکستان کو پہلے نہیں نوازا گیا اس نواز کو بھی نوازا گیا ہے۔انہوںنے کہاکہ پی ٹی آئی حلف اٹھائے گی اور آپ کے گلے کا کانٹا بنے گی۔ انہوںنے کہاکہ اگر پنڈی کے الیکشن آپ جیتے تو ہم تمام اعتراضات واپس لے لیں گے،راوالپنڈی کی 13 نشستوں کا آڈٹ کروایا جائے۔

اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے سینیٹر ولید اقبال نے کہا کہ انتخابات میں دھاندلی کے خلاف عالمی میڈیا نے بھرپور آواز اٹھائی۔انہوںنے کہاکہ عوام کا مینڈیٹ چوری کیا گیا، سب سے مقبول جماعت کا انتخابی نشان چھینا گیا۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ پولنگ کے دن فون اور انٹرنیٹ کیوں بند تھا سیکیورٹی کے نام پر موبائل فون بند کر دیے گئے۔

سینیٹر مشاہد حسین سید نے کا اظہار خیال کرتے ہوئے کہنا تھا کہ بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان سمیت تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ میں مانتا ہوں کہ پی ٹی آئی لارجسٹ پارٹی ہے، مولانا فضل الرحمٰن نے بھی تمام حقائق بیان کردیے۔انہوںنے کہاکہ قائد اعظم نے ووٹ کی طاقت سے پاکستان بنایا تھا، پاکستان جمہوریت کی پیداوار ہے، انہوںنے کہا کہ بھٹو صاحب کی پھانسی جوڈیشل قتل تھا۔

اجلاس کے دور ان ڈپٹی چیئرمین مرزا آفریدی نے سینیٹر ہمایوں مہمند کو پڑھ کر تقریر کرنے سے روک دیا۔ڈپٹی چیئرمین مرزا آفریدی نے کہاکہ رولز میں نہیں،آپ پڑھ کر تقریر نہیں کر سکتے۔ سینیٹر ڈاکٹر ہمایوں مہمند نے کہاکہ سر!میں پڑھ نہیں رہا صرف دیکھ رہا ہوں۔ انہوںنے کہاکہ مسئلہ اس سسٹم میں ہے جو سیاسی مینورینگ کرتا ہے،اس مینورنگ کے نتیجے میں بننے والا نظام ملک کا بوجھ نہیں اٹھا پارہا۔

انہوںنے کہاکہ یہ نظام ہی ہے جو سیاسی میریٹ پر لوگوں کو آگے نہیں آنے دے رہا،عوام نے بغیر لیڈر،بغیر نشان کے ووٹ دیا،لوگوں نے ایک ایک نشان کو ڈھونڈ کر کلیئر مینڈیٹ دیا۔سینیٹر تاج حیدرنے کہاکہ جس دن انٹرنیٹ کو بندکیا گیا ہم نے تحریری شکایت کی۔ انہوںنے کہاکہ چار فروری کو اطلاع ملی کی آر اوز پر دبائو ڈالا جا رہا ہے،ہم نے معاملے کو فوری طور پر چیف الیکشن کمشنر کے نوٹس میں لایا۔

انہوںنے کہاکہ دوسرے دوست بھی انتشار کا راستہ چھوڑ کر قانون کا راستہ اختیار کرے،جس طرح تین مقدمات میں سزائیں دی گئیں ہم اس کو مضحکہ خیز قراردیتے ہیں،کیااس نے عوامی جذبات کو نہیں ابھارا ۔سینیٹر عون عباس نے کہاکہ مارچ 2022 کے بعد ایوان میں تقریر کا موقع ملا،اس دوران کتنی کرب میں گزارا بیان نہیں کر سکتا۔ انہوںنے کہاکہ میرا گھر گرا دیا گیا،میرے آموں کے باغ کو تباہ کیا گیا،چودہ دن بعد واپس آیا تو میری والدہ کو فالج ہو چکا تھا،کیا ہمیں سوچنے کی آزادی بھی نہیں،ایک قیدی مجھے جینے کا حوصلہ دیتا ہے،آٹھ فروری کو لوگوں نے پی ٹی آئی کو ووٹ دیا،اس وقت ملک کا وزیراعظم نہیں بن رہا،قیدی پھر مسکرا رہا ہے۔

سینیٹر عون عباس نے کہاکہ ہمارے امیدوارں کو آئی پی پی جوائن نہ کرنے پر دوبارہ گنتی میں ہرانے کی دھمکی دی جارہی ہے ،ہمارے اب تک دس ایم پی ایز مسلم لیگ ن میں شامل ہو چکے ہیں۔ سینیٹر افنان اللہ نے کہاکہ آپ کی پارٹی ہی 2018میں مسلم لیگ ن توڑ کر بنائی گئی تھی۔سینیٹر اورنگزیب خان نے کہاکہ اس الیکشن سے جیتنے اور ہارنے والے دونوں حیران ہیں،اگر صاف و شفاف الیکشن نہیں ہوتے یہ ملک ٹھیک نہیں ہو سکتا۔
Live پاکستان تحریک انصاف سے متعلق تازہ ترین معلومات