نئی نسل کو ‘ قیام پاکستان کے اسباب ومقاصد سے آگاہ کرنا وقت کی ضرورت ہی: مشاہد حسین سید

ہفتہ 19 جولائی 2025 22:16

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 19 جولائی2025ء) نئی نسل کو تحریک پاکستان ‘ دوقومی نظریہ ‘ قیام پاکستان کے اسباب ومقاصد اور مشاہیر تحریک آزادی کی حیات وخدمات سے آگاہ کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ قائداعظمؒ کے فرمان ’’ کام ، کام اور کام‘‘ پر عمل کریں ۔ نظریاتی سمر سکول میں بچوں کو پاکستانیت کی تعلیم دی گئی ‘ پاکستان کے پرچم تلے ہم سب ایک ہیں ۔

ہم ایک زندہ قوم ہیں اور آپ جیسے باصلاحیت بچے ہمیں روشن مستقبل کی نوید دے رہے ہیں۔ان خیالات کااظہار مقررین نے ایوانِ قائداعظم‘ جوہر ٹائون لاہور میں نظریاتی سمر سکول کے 25ویں سالانہ سلور جوبلی تعلیمی سیشن کے اختتام پرمنعقدہ تقریب تقسیم اسناد کے دوران کیا۔نظریاتی سمر سکول کا اہتمام ادارہٴ نظریہٴ پاکستان نے تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے اشتراک سے کیا تھا ۔

(جاری ہے)

’’پاکستان سے پیار کرو‘‘ کا ماٹو رکھنے والے اس سکول میں 6سے 13سال کی عمر کے طلبا ء و طالبات کوایک ماہ تک اعلیٰ تعلیمی قابلیت کے حامل اساتذہ کی زیر نگرانی نظریہٴ پاکستان سے ہم آہنگ نصاب اور نہایت دلچسپ و عام فہم انداز میں نظریاتی تعلیم وتربیت کے مواقع فراہم کیے گئے۔ وائس چیئرمین ادارہٴ نظریہٴ پاکستان مشاہد حسین سید نے کہا میں یہاں موجود بچوں‘ والدین اور اساتذہ کرام کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ نظریاتی سمر سکول کے 25 برس مکمل ہوئے اور آج اسکی سلور جوبلی تقریب کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔

یہ پاکستان کی پہلی نظریاتی یونیورسٹی ہے جہاں پر پاکستانیت کی سوچ کو اجاگر کیا جا رہا ہے‘ یہاں قائد اعظمؒ، علامہ اقبالؒ اور مادر ملتؒ کے افکارو خیالات اور ان کی حیات و خدمات کا مسلسل تذکرہ کیا جاتا ہے ۔ہمیں ان افکار و نظریات کو آگے لے کر جانا ہے ۔یہ پاکستان کا واحد ادارہ ہے جہاں پر یہ فریضہ انجام دیا جا رہا ہے‘ جہاں بچوں کی صلاحیتوں کو جلا بخشی جاتی ہے۔

ہمیں قائداعظمؒ اور آل انڈیا مسلم لیگ کا شکر گزار ہونا چاہیے جن کی قربانیوں کی بدولت آج ہم آزاد ملک کے آزاد باشندے ہیں۔ اس ادارہ کا واحد مقصد پاکستان کے نظریاتی تشخص کو اجاگر کرنا ہے۔انہوں نے کہا گزشتہ دنوں پاکستان نے اپنے ازلی دشمن بھارت جبکہ ایران نے اسرائیل کو شکست دی۔ آج پاکستان کی اس خطے میں پوزیشن بہت مستحکم ہوگئی ہے۔

سینئر صحافی و دانشور مجیب الرحمن شامی نے کہا میں یہاں موجودطلبہ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں انہوں نے یہاں سے جو تربیت حاصل کی ہے انشاء اللہ آگے چل کر عملی زندگی میں ان کے بہت کام آئے گی۔ ادارہٴ نظریہٴ پاکستان نوجوان نسل کو نظریہٴ پاکستان اور قیام پاکستان کے اسباب و مقاصد سے مسلسل آگاہ کر رہا ہے۔ایسے نظریاتی سمر سکول کا انعقاد ہر درس گاہ میں ہونا چاہیے‘ محکمہ تعلیم کو اس کا بطور خاص اہتمام کرنا چاہیے تاکہ پاکستان اور نظریہٴ پاکستان کا پیغام عام ہو۔

پاکستان نے بہت کچھ حاصل کر لیا ہے لیکن ابھی بہت کچھ حاصل کرنا باقی ہے۔ تعلیم اور معیشت کے میدان میں مزید ترقی کرنا ہوگی۔ آپ جدوجہد جاری رکھیں اور پاکستان کی تعمیر وترقی میں اپنا حصہ ڈالیں۔ ممتاز سیاسی وسماجی رہنما بیگم مہناز رفیع نے کہا کہ قائد اعظمؒ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے پاکستان کو دنیا کا بہترین ملک بنانے کے لیے اپنی جدوجہد کو تیز کریں۔

سابق نگران وزیر قانون احمر بلال صوفی نے کہا نظریاتی سمر سکول کا 25 برس مکمل کرنا ایک بڑا سنگ میل ہے‘ نظریاتی سمر سکول آج ایک برینڈ کی صورت اختیار کر چکا ہے جہاں داخلہ لینا طلبہ اپنے لیے اعزاز سمجھتے ہیں۔ ممبر بورڈ آف گورنرز ادارہٴ نظریہٴ پاکستان میاں سلمان فاروق نے کہا کہ ہم خوش قسمت ہیں کہ آزاد ملک میں آنکھ کھولی۔ قائد اعظم محمد علی جناحؒنے مسلمانان برصغیر کی قیادت کی اور انہیں آزاد ملک لے کر دیا‘ ہمیں اس کی قدر اپنی محنت سے کرنی ہے۔

نامور قانون دان شاہد اکرام صدیقی نے کہا کہ آپ جہدِ مسلسل کو اپنا شعار بنائیں اور دنیا میں منفرد مقام حاصل کرنے کے لیے خوب محنت کریں اور دل لگا کر تعلیم حاصل کریں۔ آپ جہاں آج بیٹھے ہیں ایسے کارہائے نمایاں انجام دیں کہ آپ سٹیج پر آکر بیٹھیں۔ ڈی آئی جی ساؤتھ پنجاب شعیب خرم جانباز نے کہا کہ پاکستان سے محبت کریں۔ آج سے 25 برس قبل نظریاتی سمر سکول کا جو پودا لگایا گیا تھا آج ایک تناور درخت بن چکا ہے۔

آزاد وطن کے حصول کیلئے ہمارے بزرگوں نے جو قربانیاں دیں آپ اس کو یاد رکھیں اور اس ملک کی قدر کریں۔ نظریاتی سمر سکول کی کوآرڈی نیٹر پروفیسر ڈاکٹر پروین خان نے کہا آج اس نظریاتی سکول کی سلور جوبلی تقریب کامیابی کے ساتھ منعقد ہو رہی ہے۔ یہ پاکستان کی واحد نظریاتی یونیورسٹی ہے جہاں بچوں کو قیام پاکستان کے اسباب و مقاصد‘ تحریک پاکستان‘ دو قومی نظریہ اور مشاہیر تحریک پاکستان کے افکار و نظریات اور حیات و خدمات سے آگاہ کیا جاتا ہے۔

سیکرٹری ادارہٴ نظریہٴ پاکستان ناہید عمران گل نے کہا کہ ہمارے ادارہ نے نظریاتی تعلیم وتربیت کا جو سفر 2001ء میں شروع کیا تھا آج اس نے کامیابی کے ساتھ 25سال مکمل کر لیے ہیں۔ اس میں138 تعلیمی اداروں کے 200 سے زائد طلبا و طالبات نے داخلہ لیا جو ان کے والدین کی طرف سے ادارہٴ نظریہٴ پاکستان کی تعلیمی سرگرمیوں پر اعتماد کا مظہر ہے۔ 12 جون سے 19 جولائی تک جاری رہنے والے سیشن میںطلبا و طالبات نے تمام نصابی و غیر نصابی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیا۔

یہ قومی ادارہ نظریاتی سمر سکول کی طرح اپنے دیگر قوم سازی کے منصوبوں کو بھی یونہی قومی جوش و جذبے سے آگے بڑھاتا رہے گا۔ نظریاتی سمر سکول کے سابق طلباوطالبات سید محمد مقبول ‘عمر عبدالرحمن ‘ ڈاکٹر طٰہٰ جاوید، مناہل صوفی، نویرا بابر ، رومیسہ ادریس نے اپنے خیالات کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس نظریاتی سمر سکول کی وجہ سے ہماری خود اعتمادی میں اضافہ ہوا جو آئندہ زندگی میں ہمارے لیے بہت مددگار رہا ۔

تعلیم تو کسی بھی سکول میں مل جاتی ہے۔ ہم سمجھتے تھے کہ ہم گرمیوں کی چھٹیوں میں اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں لیکن نظریاتی سمر سکول میں گزرے وقت نے ہمارے اندر اعتماد پیدا کیا اور یہ لمحات ہمیں آج بھی بہت یاد آتے ہیں۔ یہاں حب الوطنی کے جذبات پروان چڑھائے جاتے ہیں۔ پروگرام کے دوران نظریاتی سمر سکول کی25ویں سالانہ سلور جوبلی سیشن کی مناسبت سے کیک بھی کاٹا گیا۔

اختتامی تقریب میںچیئرمین ادارہٴ نظریہٴ پاکستان چیف جسٹس (ر) اعجاز نثار‘ گولڈمیڈلسٹ کارکن تحریک پاکستان ڈاکٹر سعید احمد ملک‘ صدر نظریہٴ پاکستان فورم شیخوپورہ شہباز احمد ‘ مجاہد حسین سید‘ بیگم صفیہ اسحاق‘ خالدہ جمیل ‘ زبیر بن اسماعیل‘ عامر کمال صوفی‘ پروفیسر ثمینہ بشریٰ‘ نذیر انبالوی‘ علی بخاری‘ سابق ایم پی اے زاہد محمود بٹ‘ اساتذہ کرام‘ نظریاتی سمر سکول کے طلبہ اور ان کے والدین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ آخر میں نظریاتی سمر سکول کی اساتذہٴ کرام اور ہونہار طلباوطالبات میں سرٹیفیکٹس تقسیم کیے گئے۔