خاندانی منصوبہ بندی وقت کا تقاضہ، علما نے پیدائش میں وقفہ ضروری قرار دیا ہے، مصطفی کمال

منگل 29 جولائی 2025 21:31

خاندانی منصوبہ بندی وقت کا تقاضہ، علما نے پیدائش میں وقفہ ضروری قرار ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 29 جولائی2025ء)وفاقی وزیر صحت سید مصطفی کمال نے کہا ہے کہ خاندانی منصوبہ بندی وقت کا تقاضہ ہے، علما نے فتویٰ دیا ہے کہ پیدائش میں وقفہ ضروری ہے۔وفاقی وزیر صحت نے اسلام آباد میں نیشنل ہیضہ کنٹرول پلان 2028-2025 کا افتتاح کر دیا اور بچپن کے کینسر کی دوا تک رسائی کے عالمی پروگرام میں شمولیت کا اعلان بھی کیا۔

ہیضے کی روک تھام کے 3 سالہ پروگرام کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ ہسپتالوں میں 68 فیصد کیسز پینے کا صاف پانی نہ ہونے کی وجہ سے آتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صاف پانی استعمال کریں تو ہسپتالوں سے 68 فیصد رش کم ہوجائے گا، مسائل کو سمجھ کر جڑ سے اکھاڑنے کی کوشش کر رہے ہیں، حکومت کو برا کہہ دینے سے یا الزام تراشی سے ہمارے بچے موت کے منہ میں جانے سے نہیں بچ سکتے، حکومت اور عوام سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کو اپنا اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

(جاری ہے)

مصطفی کمال نے کہا کہ صحت کے بنیادی نظام کو مزید مضبوط کر رہے ہیں، کوشش ہے کہ معمولی نوعیت کے امراض کا علاج مقامی سطح پر ہو، ہیلتھ کیئر کا اصل مقصد مریض کو بیمار ہونے سے بچانا ہے، جتنے بھی ہسپتال بنا لیں، بڑھتی ہوئی بیماریوں کا بوجھ نہیں اٹھایا جا سکتا، علاج سے زیادہ اہم بیماری کی بروقت روک تھام ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ تقریب بچوں کی زندگیاں بچانے کے عزم کی علامت ہے، یہ دوا بچوں کو کینسر جیسے موذی مرض سے بچانے کی ایک بڑی کوشش ہے۔

وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی بڑا مسئلہ ہے، علما کہتے ہیں کہ زچگی کے دوران خواتین کو مسائل کا خدشہ ہو، یا بچوں کی پرورش میں مسائل سے متعلق ہوں تو دین اجازت دیتا ہے کہ بچوں کی پیدائش میں وقفہ کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ سالانہ 11 ہزار خواتین دوران زچگی موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں، زچگی کوئی بیماری نہیں ہے، یہ حاملہ خواتین پیچیدگیوں کی وجہ سے ہلاک ہورہی ہیں، یہ دل دہلا دینے والے اعداد و شمار ہیں۔

سید مصطفی کمال نے کہا کہ خطے میں دیگر ممالک زچگی کے دوران شرح اموات پر کنٹرول پاکر صحت کے مسائل سے نمٹنے کے قابل ہوئے ہیں، ہمیں بھی اس جانب توجہ دینا ہوگی، یہ صرف حکومت کا کام نہیں، ہمارے لوگوں کو بھی سوچنا ہوگا، ہم کیوں سالانہ ہزاروں خواتین کو موت کے منہ میں دھکیل دیتے ہیں۔تقریب میں اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف، عالمی ادارہ صحت، جی پی اے سی سی ایم اور دیگر شراکت داروں کے نمائندے بھی شریک ہوئے، اس موقع پر پاکستان نے بچوں کو کینسر جیسے موذی مرض سے بچانے کے لیے ایک عالمی پلیٹ فارم پر ایل او اے پر دستخط کیے۔

وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ ہم پہلے دن سے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ بیماریوں کی روک تھام ہسپتالوں سے باہر، بر وقت اور مؤثر اقدامات سے شروع ہوتی ہے۔اٴْنہوں نے خبردار کیا کہ اگر ہم نے بروقت اقدامات نہ کیے تو صحت کا شعبہ سنگین بحران کا شکار ہو جائے گا، جس کا بوجھ کوئی ملک برداشت نہیں کر سکتا۔مصطفی کمال نے کہا کہ پاکستان کا ہیلتھ سسٹم اس وقت شدید دباؤ کا شکار ہے اور الزام تراشی کے بجائے حکومت اور عوام کو مل کر ذمہ داریاں ادا کرنا ہوں گی، انہوں نے واضح کیا کہ ہر پالیسی کا مرکز عوام کی صحت ہونی چاہیے۔

وزیر صحت نے انکشاف کیا کہ ملک میں ہر سال 8 ہزار بچے کینسر میں مبتلا ہو رہے ہیں، 43 فیصد بچے غذائی قلت کا شکار ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں شرح پیدائش 3.6 ہے، جو ملکی ترقی میں بڑی رکاوٹ ہے، بڑھتی ہوئی بیماریوں کا بوجھ صرف علاج سے نہیں اٹھایا جا سکتا، اصل حل بروقت روک تھام اور حفاظتی تدابیر ہیں۔مصطفی کمال نے عالمی اداروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ شراکت داری بچوں کی زندگیاں بچانے کے عزم کی علامت ہے اور ہم سب کا خواب ایک صحت مند معاشرہ ہے۔