نینوٹیکنالوجی ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے،ماہرین

پاکستان کی ترقی کے لیے نینوٹیکنالوجی ناگزیر ہے ،شیخ الجامعہ کراچی و دیگر کا بین الاقوامی مرکز میں خطاب

پیر 18 اگست 2025 17:55

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 18 اگست2025ء) سائنسی و تعلیمی ماہرین نے ایک بین الاقوامی کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کی پائیدار ترقی میں نینوسائنس اور نینوٹیکنالوجی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ شعبے دنیا کو ماحولیاتی مسائل جیسے درپیش کئی بڑے چیلنجز اور سنگین مسائل حل کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں، نوجوان اذہان سائنس اور ٹیکنالوجی کی رفتار کو تیز کرسکتے ہیں جو ملک کی پائیدار سماجی و معاشی ترقی کے لیے نہایت ضروری ہے۔

یہ بات انھوں نے پیر کو بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم (آئی سی سی بی ایس)جامعہ کراچی کے پروفیسر سلیم الزمان صدیقی آڈیٹوریم میں تین روزہ پہلی بین الاقوامی نینوسائنس و نینوٹیکنالوجی کانگریس کے افتتاحی اجلاس میں کہی۔

(جاری ہے)

اجلاس سے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، سابق وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی پروفیسر ڈاکٹر عطا الرحمن، سندھ کی اسپیشل سیکریٹری صحت شادیا عبداللہ، آئی سی سی بی ایس کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر محمد رضا شاہ، او آئی سی کومسٹیک کے کوآرڈینیٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری،ایچ ای جے فانڈیشن کے چیئرمین عزیز لطیف جمال اور ان کی صاحبزادی سمان عزیز جمال، پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان یونس خان، نینوٹیکنالوجی کے ماہر پروفیسر نور محمد بٹ اور ڈاکٹر دلشاد حسین نے خطاب کیا۔

اس عالمی ہائبرڈ سائنسی اجتماع میں ملک اور بیرونِ ملک سی600سے زائد سائنس دان شریک ہیں۔ پروفیسر خالد عراقی نے عالمی معیار کی ٹیکنالوجیز اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران اوراسرائیل اور پاکستان اوربھارت کے تنازعات نے ثابت کیا ہے کہ جدید جنگوں میں ٹیکنالوجی کی برتری ہی فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے چین کی مثال دیتے ہوئے کہاچینی حکومت اپنے جی ڈی پی کا نمایاں حصہ تعلیم پر خرچ کرتی ہے۔

پروفیسر عطا الرحمن نے کہا کہ مستقبل کو سامنے رکھتے ہوئے ہی سماجی منصوبہ بندی کرنی چاہیے اسی مقصد کے تحت بیس برس قبل پاکستان میں نینوسائنس و نینوٹیکنالوجی کمیشن قائم کیا گیا تاکہ نینوٹیکنالوجی کو فروغ اور ترقی دی جا سکے۔ انہوں نے جناب عزیز لطیف جمال کا شکریہ ادا کیا کہ جن کی فیاضی اور معاونت سے آئی سی سی بی ایس میں لطیف ابراہیم جمال نینوٹیکنالوجی سینٹر قائم ہوا۔

شادیا عبداللہ نے کہا کہ کانفرنس میں دنیا بھر سے شرکا کو یکجا کر کے جدید تحقیق اور تخلیقی خیالات کے تبادلے کے لیے ایک متحرک مرکز فراہم کیا ہے۔ انہوں نے اس شاندار سائنسی کانفرنس کے انعقاد پر ڈائریکٹر آئی سی سی بی ایس اور ان کی ٹیم کو سراہا۔پروفیسرمحمد رضا شاہ نے کہا کہ نینوٹیکنالوجی ایک جدید اورنمایاں شعبہ ہے، جو حالیہ برسوں میں دنیا بھر میں غیر معمولی توجہ حاصل کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایچ ای جے ریسرچ انسٹیٹیوٹ آف کیمسٹری نے غیر معمولی ترقی کی ہے اور یہ ایک ایسا تعلیمی و تحقیقی ماحولیاتی نظام بن گیا ہے جو نہ صرف آئی سی سی بی ایس بلکہ ملک کی دیگر اداروں کی بھی مدد کر رہا ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر پنجوانی میموریل ٹرسٹ کی چیئرپرسن محترمہ نادرہ پنجوانی اور جناب عزیز لطیف جمال کا مسلسل تعاون پر شکریہ ادا کیا۔

پروفیسر اقبال چوہدری نے آئی سی سی بی ایس میں قائم ایل ای جے نینوٹیکنالوجی سینٹر کی خصوصیات اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ نینوٹیکنالوجی صرف ایک جدید شعبہ ہی نہیں بلکہ جدت کا محرک بھی ہے، جو دنیا کو درپیش بڑے مسائل، خصوصا ماحولیاتی مسائل کے حل کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پروفیسر نور محمد بٹ نے کہا کہ نینوسائنس، نینو اسکیل پر، وہ بنیادی علم اور اصول فراہم کرتا ہے جو نینوٹیکنالوجی کو ممکن بناتے ہیں۔

محترمہ سمن عزیز جمال نے کہا کہ ایچ ای جے فانڈیشن نے اپنے قیام سے لے کر اب تک مختلف مراکزِ فضیلت کے قیام میں حصہ ڈالا ہے، جبکہ ایل ای جے نیشنل سائنس انفارمیشن سینٹر اور ایل ای جے نینوٹیکنالوجی سینٹرجو جناب عزیز لطیف جمال کی براہِ راست نگرانی میں تعمیر ہوئے جو پاکستان میں جدید سائنسی تحقیق کی اساس ہیں۔ سابق کپتان پاکستان کرکٹ ٹیم یونس خان نے کہا کہ وہ دنیا بھر کے معتبر سائنس دانوں اور معزز شخصیات کے درمیان موجود ہو کر خود کو نہایت عاجز محسوس کرتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ آج میں کرکٹر کے طور پر نہیں بلکہ ایک فخر سے سرشار پاکستانی کے طور پر کھڑا ہوں، جو اپنی قوم کی سائنسی کامیابیوں کا جشن منا رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ آئی سی سی بی ایس ایک قومی اثاثہ ہے، جہاں سائنس اور مقصد یکجا ہوتے ہیں۔اجلاس کا اختتام ڈاکٹر دلشاد حسین کے شکریہ کے کلمات پر ہوا۔