اسرائیل کوتحفظ دینے والے اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کریں،پاکستانی مندوب

اسرائیل کی فوجی کارروائی اور غزہ شہر پر مکمل قبضے کا منصوبہ ایک اور انسانی المیہ ہے ،خطاب

جمعرات 28 اگست 2025 16:21

اقوام متحدہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 28 اگست2025ء)پاکستان نے کہا ہے کہ وہ ممالک جو اسرائیل کو اس کے جرائم پر جوابدہی سے تحفظ فراہم کر رہے ہیں اور سلامتی کونسل کو غزہ میں امن و سلامتی بحال کرنے کے لیے کارروائی سے روک رہے ہیں انہیں اپنی پالیسیوں پر سنجیدگی سے نظرثانی کرنی چاہیے جن کے نتیجے میں فلسطینیوں کا "بڑے پیمانے پر قتل عام ہوا ہے۔

میڈیارپورٹس کے مطابق اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے 15 رکنی سلامتی کونسل کے اجلاس میں کہا کہ قابض قوت کے حمایتیوں کو اپنے رویے پر غور کرنا اور اپنی پالیسیوں کے نتائج کا معروضی انداز میں جائزہ لینا چاہیے، اگر یہ شراکت داری نہیں تو پھر کیا ہی ۔حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل کو اس کے جرائم پر سزائوں سے حاصل استثنا ہی اس کی ڈھال بنا ہوا ہے اور اس کونسل کی خاموشی اس کا سہارا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل مزید تماشائی نہیں رہ سکتی، کونسل کو اب اپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے اور عزم کے ساتھ اقدام کرنا چاہیے تاکہ بین الاقوامی امن و سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔سفیر عاصم افتخار نے اسلامی تعاون تنظیم کی حال ہی میں منظور کردہ قرارداد کا حوالہ دیا جس میں سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ چیپٹر VII کے تحت اسرائیلی جارحیت اور قابض افواج کی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

انہوں نے بتایا کہ غزہ میں اب تک 62 ہزار سے زائد شہری جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے،اس کا کوئی جواز کیسے دیا جا سکتا ہی یہ کوئی اتفاقی نقصان نہیں بلکہ اجتماعی قتل عام ہے۔انہوں نے کہا کہ بے تحاشا فوجی حملے اس لیے جاری ہیں کیونکہ اسرائیل کو اپنے اقدامات پر کسی حقیقی جواب دہی کا سامنا نہیں ہے۔ اجتماعی قتل، بے دخلی، قحط، بستیوں کی تعمیر اور زمین کی تباہی کے تمام اثرات ایک ہی نتیجہ نکالتے ہی، یہ سب کچھ نسل کشی کی منظم مہم ہے جو سب کے سامنے ہو رہی ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ اسرائیل کی فوجی کارروائی اور غزہ شہر پر مکمل قبضے کا منصوبہ ایک اور انسانی المیہ ہے جس سے مزید ایک ملین افراد بے گھر ہو سکتے ہیں۔اجلاس کے آغاز پر اقوام متحدہ کے سینئر حکام نے غزہ میں تباہ کن حالات، جاری تشدد، مغربی کنارے میں آبادکاری کے پھیلا اور اسرائیل کے غزہ پر مکمل قبضے کے منصوبے پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔

اقوام متحدہ کے مشرق وسطی امن عمل کے ڈپٹی کوآرڈینیٹر رامیز الاکبروف نے کہاکہ آج دنیا خوف کے ساتھ دیکھ رہی ہے کہ مقبوضہ فلسطینی سرزمین میں حالات سنگین درجے تک بگڑ چکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ 22 ماہ سے جاری لڑائی نے غزہ کو نہتے شہریوں کی تیزی سے بڑھتی ہوئی اموات ، بڑے پیمانے پر بے دخلی اور اب قحط کا سامنا کرایا ہے۔ اقوام متحدہ کی امدادی امور کی ڈپٹی کوآرڈینیٹر جوائس مسویا نے کونسل کو بتایا کہ 22 اگست کو انٹیگریٹڈ فوڈ سکیورٹی فیز کلاسیفکیشن فیمین ریویو کمیٹی نے تصدیق کی کہ غزہ میں قحط شروع ہو چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فی الوقت پانچ لاکھ سے زائد افراد قحط، غربت اور موت کے خطرے سے دوچار ہیں اور چند ہفتوں میں ان کی تعداد 6 لاکھ 40 ہزار تک پہنچ سکتی ہے، 132,000 بچے جن کی عمر پانچ سال سے کم ہے شدید غذائی قلت میں مبتلا ہیں جن میں سے 43,000 موت کے خطرے سے دوچار ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین کی تعداد ر 55,000 تک پہنچ گئی ہے جو بدترین حالات کا شکار ہیں۔

انہوں نے کہاکہ یہ تباہی جان بوجھ کر کی جا رہی ہے، 22 ماہ سے امداد پر پابندیاں، کھیتوں کی تباہی اور مویشیوں کی ہلاکت اس بحران کی بنیادی وجوہات ہیں۔پانی اور نکاسی آب کا نظام تباہ ہو جانے سے عورتوں اور بچیوں کے لیے خصوصی ایام کے دوران صفائی کا مسئلہ ایک ڈرانا خواب بن گیا ہے۔انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ بین الاقوامی قانون بھوک کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی ممانعت کرتا ہے۔

اپنے خطاب میں سفیر عاصم افتخار نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری، مستقل اور غیر مشروط جنگ بندی کا اعلان کرے، غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی پر تمام پابندیاں ختم کرے، تمام یرغمالیوں اور فلسطینی قیدیوں کی رہائی کو یقینی بنائے، غزہ شہر پر اسرائیل کے قبضے کے منصوبے کو مسترد کرے اور مغربی کنارے و مشرقی بیت المقدس میں جبری بے دخلی، غیر قانونی بستیوں کی توسیع اور الحاق کو ختم کرے۔

انہوں نے زور دیا کہ پائیدار امن کے لیے ایک ایسا سیاسی راستہ ضروری ہے جو بین الاقوامی قوانین پر مبنی ہو اور جس کے نتیجے میں 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر ایک آزاد، خودمختار فلسطینی ریاست قائم ہو جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔انہوں نے واضح کیاکہ قبضہ ختم ہونا چاہیے۔اپنے خطاب کے اختتام پر سفیر عاصم افتخار نے کہاکہ غفلت کا ہر لمحہ مزید دکھ بڑھا رہا ہے، غم میں اضافہ کر رہا ہے اور بین الاقوامی قوانین کو پامال کر رہا ہے۔ دنیا دیکھ رہی ہے۔ تاریخ تاخیر کو معاف نہیں کرے گی، بے عملی کو نہیں بھولے گی۔ سلامتی کونسل کو اپنے چارٹر کے مطابق اقدام کرنا ہوگا۔