اللہ تعالیٰ بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے،عصری تقاضوں اور چیلنجز کے مطابق جدید ٹیکنالوجی کا حصول ضروری ہے ،سید طارق مصطفی

جمعرات 28 اگست 2025 23:44

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 28 اگست2025ء)اللہ تعالی نے پاکستان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے اور سب سے بڑی نعمت ہنر مند اور تخلیقی صلاحیتوں سے مالامال افرادی قوت ہے جسے عصری تقاضوں اور چیلنجز کے مطابق اب جدید ٹیکنالوجی پر عبورحاصل کرنا ہے۔یہ بات ایڈوائزر گورنر سندھ/ وفاقی سیکریٹری سید طارق مصطفی نے کہی جو گزشتہ روز ہمدرد نونہال اسمبلی کراچی کے اجلاس بہ مقام قائد اعظم ہائوس میوزیم سے خطاب کررہے تھے۔

ہمدرد فائونڈیشن پاکستان کی صدر محترمہ سعدیہ راشد کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس کا موضوعہمیں پاکستانی ہونے پر فخر ہے تھا۔گورنر سندھ کامران ٹیسوری بہ حیثیت مہمان خصوصی مدعو تھے تاہم وہ بوجہ مصروفیت شرکت نہیں کرسکے۔ ان کی نمائندگی سید طارق مصطفی نیکی۔

(جاری ہے)

سابق گورنر سندھ جنرل (ر)معین الدین حیدر نے بھی اجلاس میں بہ طور مہمان اعزازی شرکت کی ۔

سید طارق مصطفی نے کہا کہ گورنر سندھ نے طلبہ کے لیے جدید مصنوعی ذہانت کے مفت کورسز کا آغاز کیا ہے جس سے لاکھوں نوجوان آن لائن روزگار حاصل کرنے کے قابل ہو رہے ہیں۔اس کے علاوہ گورنر ہائوس میں خصوصی شکایات سیل قائم کیا گیا ہے جو چوبیس گھنٹے فعال رہتا ہے۔ شہری اپنے مسائل کے فوری حل کے لییاور طلبہ اگر تعلیمی سفر میں کسی مشکل کا سامنا کریں تو وہ بھی رابطہ کرسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نونہالوں کی تقاریر سن کر دل کو اطمینان ہوا کہ پاکستان کا مستقبل محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ نئی نسل خدمتِ وطن کے جذبے سے سرشار ہے اور جدید علوم کے حصول کے لیے کوشاں ہے۔اس فورم کے نونہالوں کو پراعتماد بنانے کا کریڈٹ عظیم انسان اور مصلحِ قوم شہید حکیم محمد سعید کو جاتا ہے جنہوں نے صحت اور تعلیم کے میدان میں بے مثال خدمات انجام دیں۔

ان کا بنایا ہمدرد پاکستان ایک ایسا ادارہ ہے جو ہر پاکستانی کے بچپن کی یادوں کا حصہ ہے۔ ہم میں سے بیشتر نے ہمدرد نونہال پڑھ کر اردو کو سمجھنے اور سیکھنے کا موقع پایا۔نونہال اسمبلی میں زیر تربیت طلبہ ان شااللہ کل پاکستان کی قیادت کریں گے اور اسے نئی بلندیوں تک پہنچائیں گے۔ ایک مثالی معاشرہ وہی ہے جو ہر میدان میں رول ماڈل شخصیات پیدا کرے اور پاکستان آج ہر شعبے میں ایسے افراد سامنے لا رہا ہے جنہیں مشعلِ راہ بنایا جا سکتا ہے۔

محترمہ سعدیہ راشد ملک و ملت کا اثاثہ ہیں اور طالبات کو چاہیے کہ ان کی زندگی کو اپنے لیے نمونہ عمل بنائیں۔محترمہ سعدیہ راشد نے اپنے خطاب میں کہا کہ اللہ تعالی کا سب سے بڑا احسان ہے کہ ہم ایک آزاد ملک میں پیدا ہوئے۔ پاکستان وہ عظیم نعمت ہے جو لاکھوں قربانیوں، دعاوں اور مسلسل جدوجہد کے نتیجے میں حاصل ہوا۔ یہ وطن محض زمین کا ٹکڑا نہیں بلکہ ہمارے اسلاف کے خوابوں کی تعبیر ہے۔

وہ خواب جو علامہ اقبال نے اپنے اشعار میں بیان کیے اور قائداعظم محمد علی جناح نے عملی شکل دی۔ ہمارے بزرگوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ اسی لیے پیش کیا کہ آنے والی نسلیں آزادی کے ساتھ جی سکیں۔ آج کے نونہال ہی اس ملک کا مستقبل اور اصل معمار ہیں، جنہوں نے کل کا پاکستان تعمیر کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کسی لسانی یا علاقائی بنیاد پر نہیں بلکہ اسلامی نظریے کے تحت وجود میں آیا ہے۔

یہاں ہر شہری سب سے پہلے پاکستانی ہے، اس لیے ہمیں ایک قوم بن کر سوچنا چاہیے تاکہ دنیا کی قوموں میں باوقار مقام حاصل کر سکیں۔ قائداعظم نے بارہا فرمایا کہ پاکستانی ہونے پر فخر کرنا چاہیے اور یہی سبق شہید حکیم محمد سعید کی زندگی سے بھی ملتا ہے۔ حکیم سعید نے اپنی زندگی بچوں اور نوجوانوں کی فکری و اخلاقی رہنمائی کے لیے وقف کی۔ ہمدرد نونہال اسمبلی اور ہمدرد نونہال رسالے کے ذریعے وہ نسلِ نو کی فکری آبیاری کرتے رہے۔

گورنر سندھ کے منصب پر فائز ہونے کے بعد بھی انہوں نے۔اگست کو گورنر ہاوس میں ہمدرد نونہال اسمبلی منعقد کی، جو بچوں سے ان کی والہانہ محبت اور ملک کے مستقبل کے لیے ان کی فکر کا واضح ثبوت ہے۔ جنرل (ر) معین الدین حیدر نے کہا کہ شہید حکیم محمد سعید وقت کی پابندی میں مثال تھے۔ شہید حکیم محمد سعید نے کئی درس گاہیں تعمیر کیں اور بہ حیثیت سماجی راہنما انہوں نے ہر جگہ اپنے خطبات میں تعلیم کے ساتھ تربیت پر بھی زور دیا، لیکن ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ ہم نے تربیت کو ہمیشہ نظر انداز کیا۔

انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے ہجرت کا کرب جھیلا ہے وہ پاکستان کی اصل قدر کو بہتر جانتے ہیں۔ پاکستان درست سمت میں گامزن ہے اور اس کا مستقبل روشن ہے، اس لیے مایوسی کی کوئی ضرورت نہیں۔نونہال مقررین قائد ایوان عائشہ فواد (ہمدرد پبلک اسکول، قائد حزب اختلاف سید محمد شجاع ہمدرد پبلک اسکول، قرینہ اعوان دی سیوی اسکول، روحان عدنان جی ایس ٹی ہلال اسکول اور نازش خان ہمدرد ولیج اسکول نے موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ کراچی ووکیشنل ٹریننگ سینٹر کے طلبہ نے قومی ترانہ اور ملی نغمے پیش کیے۔روز ہائوس اسکول کی طالبات نے تھیٹر پیش کیا۔