سید علی گیلانی کی عظیم جدوجہدہمیشہ کشمیریوںکی رہنمائی کرتی رہے گی، حریت کانفرنس

جمعرات 28 اگست 2025 21:37

سرینگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 28 اگست2025ء) بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموںوکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے بزرگ حریت قائد سید علی گیلانی کو ان کی چوتھی برسی کے موقع پر شاندار خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انہیں مزاحمت کی ایک عظیم علامت قرار دیا ہے۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق حریت کانفرنس کے نائب چیئرمین غلام احمد گلزار نے سرینگر میں ایک بیان میں کہا کہ سید علی گیلانی صرف ایک رہنما نہیں تھے بلکہ وہ اپنی ذات میں انجمن تھے جن کی زندگی بھر کی جدوجہد اور قربانیاں آزادی پسند کشمیریوں کی رہنمائی کرتی رہیں گی۔

انہوں نے سید علی گیلانی کو جرات اور صبرو استقامت کی ایک عظیم علامت قرار دیا جنہوں نے اپنی پوری زندگی جموںوکشمیر کی بھارتی غلامی سے آزادی کیلئے وقف کر دی تھی۔

(جاری ہے)

غلام احمد گلزار نے کہا کہ سید علی گیلانی کشمیر کے تنازعہ پر ایک غیر متزلزل موقف رکھتے تھے ۔ سید علی گیلانی کی ثابت قدمی اور صبر و استقامت کی وجہ سے کشمیری عوام کے دلوں میں انکی بے حد قد و منزلت پائی جاتی ہے ۔

انہوںنے کہا کہ طویل قید، گھر میں نظر بندی، ذہنی اذیت اور بھارتی ایجنسیوں کی جانب سے بار بار قتل کی کوششوں کے باوجود وہ بھارت کے وحشیانہ قبضے کے خلاف چٹان کی طرح کھڑے رہے، ان کا جذبہ مزاحمت ناقابل تسخیر تھا اور بھارت کشمیریوں کی اپنے اس محبوب قائد سے محبت کو کبھی نہیں مٹا سکتا۔غلام احمد گلزار نے کہا کہ کہ گیلانی کا مشہور نعرہ ’’ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے‘‘ آج بھی 10 لاکھ سے زائد بھارتی فوج کی موجودگی میں مقبوضہ کشمیر کے ہر کونے میں گونجتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سید علی گیلانی زندگی بھر کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے کٹر حامی رہے اور انہوں نے حق خود ارادیت پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔انہوںنے کہا کہ ستمبر 2021 میں سید علی گیلانی کی دوران حراست شہادت کشمیر کی تاریخ کے المناک واقعات میں سے ایک ہے۔ بھارتی فورسز نے انکی میت طاقت کے بل پر قبضے میں لی اوراپنے پیاروں کی عدم موجودگی میں رات کی تاریکی میں سپرد خاک کی، سید علی گیلانی کے لاکھوں چاہنے والوں کو انکے جنازے سے بھی محروم کر دیا گیا جو بھارت کی بوکھلاہٹ اور بزدلی کو ظاہر کرتا ہے۔

حریت کانفرنس کے نائب چیئرمین نے کہا کہ کشمیری اس وقت تک سید علی گیلانی کے دکھائے ہوئے راستے پر گامزن رہیں گے جب تک وہ بھارتی قبضے سے چھٹکارہ نہیں پا لیتے ۔یاد رہے کہ سید علی گیلانی نے یکم ستمبر2021 کو سرینگر کے علاقے حیدر پورہ میں اپنی رہائش گاہ میں بھارتی پولیس کی حراست کے دوران شہادت پائی تھی جہاں انہیں ایک دہائی سے زائد عرصے تک مسلسل نظربند رکھا گیاتھا۔ بھارتی فورسز اہلکاروںنے سیدعلی گیلانی کی وصیت کے برعکس رات کی تاریکی میں انکی میت قبضے میں لیکر حیدر پورہ کے قبرستان میں انکی زبردستی تدفین کردی تھی جبکہ بزرگ قائد نے عید گاہ مزار شہداء میں تدفین کی وصیت کر رکھی تھی۔