صوبے کے مخصوص اضلاع میں دو مرحلو ں پر مشتمل انسداد پولیو مہم کا افتتاح

ؔصوبے سے ا س موذی مرض کے مکمل خاتمے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جا ئیں گے

جمعرات 28 اگست 2025 19:50

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 28 اگست2025ء)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے صحت احتشام علی اور چیف سکیرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ نے مشترکہ طور پر صوبے کے مخصوص اضلاع میں انسداد پولیو مہم کا افتتاح کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ صوبے سے ا س موذی مرض کے مکمل خاتمے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جا ئیں گے، تاکہ آنے والی نسلوں کو اس وائرس کی وجہ سے زندگی بھر کی معذوری سے بچایا جا سکے۔

انہوں نے جمعرات کو پولیس سروسز ہسپتال پشاور میں بچوں کو پولیو کے قطرے پلا کر دو مرحلوں پر مشتمل انسداد پولیو کے مہم کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ یکم ستمبر سے شروع ہونے والے انسداد پولیو کی اس مہم کے دوران صوبے کے 27 اضلاع میں پانچ سال سے کم عمر کے تقریباً 57 لاکھ 50 ہزار سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے۔

(جاری ہے)

افتتاحی تقریب میں سیکرٹری صحت شاہد اللہ، ایڈیشنل سیکرٹری ہیلتھ/ای او سی کوآرڈینیٹر شفیع اللہ خان، ڈپٹی کوآرڈینیٹر ای او سی لطیف الرحمان، ڈائریکٹر ای پی آئی، یونیسیف، این سٹاپ اور ڈبلیو ایچ او کے صوبائی سربراہان، ٹیکنیکل فوکل پی ای آئی ڈاکٹر علی اور دیگرمتعلقہ حکام نے بھی شرکت کی۔

اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مشیر صحت احتشام علی نے کہا کہ پولیو کا خاتمہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور ضلعی انتظامیہ، محکمہ صحت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سمیت تمام حکومتی مشینری اس موذی مرض کے مکمل خاتمے کو یقینی بنانے کے لیے مل کر کا م کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیو کا مکمل خاتمہ تب ہی ممکن ہے جب پانچ سال سے کم عمر کے تمام بچوں کو پولیو کے قطرے باقاعدگی سے بار بار پلائے جائیں۔

انہوں نے معاشرے کے تمام طبقات بالخصوص مذہبی اسکالرز، طبی ماہرین، سول سوسائٹی اور میڈیا پر زور دیا کہ وہ پولیو کے خاتمے کے اس قومی مقصد میں حکومت سے مکمل حمایت اور تعاون کریں۔افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ نے کہا کہ صوبائی حکومت پولیو کے خاتمے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھا رہی ہے، انہوں نے کہا کہ ضلعی سطح پر خصوصی ایکشن پلان ترتیب دیئے گئے ہیں۔

شہاب علی شاہ نے کہا کہ حکومت آنے والی نسلوں کے صحت مند مستقبل کو یقینی بنانے کے لیے حفاظتی ٹیکہ جات کے نظام کو بھی مزید مربوط اور فعال بنانے کیلئے کوشاں ہے۔ چیف سیکرٹری نے میڈیا سمیت معاشرے کے مختلف طبقات پر زور دیا کہ وہ پولیو ویکسین کی اہمیت اجاگر کرنے کیلئے لوگوں میں آگاہی پیدا کرنے کے سلسلے میں اپنا بھر پورکردار ادا کریں۔

یکم ستمبر سے شروع ہونے والے اس انسداد پولیومہم کے پہلے مرحلے میں صوبے کے 16 مکمل اضلاع بشمول دیر اپر، دیر لوئر، سوات، ایبٹ آباد، مانسہرہ، بٹگرام، تورغر، کوہستان لوئر، کوہستان اپر، کولئی پالس، مردان، مہمند، پشاور، خیبر، کوہاٹ اورضلع کرم اور تین جزوی اضلاع نوشہرہ، چارسدہ اور صوابی میں پانچ سال تک کے تمام بچوں کو پولیو سے بچاوء کے قطرے پلائے جائیں گے جبکہ 15 ستمبر سے شروع ہونے والے اس مہم کے دوسرے مرحلے میں ضلع باجوڑ، بنوں، لکی مروت،، ٹانک،ڈی آئی کان، شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان اپر اور جنوبی وزیرستان لوئر میں پولیو ویکسی نیشن مہم چلائی جائے گی۔

ایمرجنسی آپریشنز سینٹر خیبرپختونخوا نے اس مہم کیلئے تمام انتظامات کو حتمی شکل دے دی ہے۔ اس مہم کے کامیاب انعقاد کے لیے تربیت یافتہ پولیو ورکرز کی 27,356 ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جن میں 24,881 موبائل ٹیمیں، 1,418 فکسڈ ٹیمیں، 942 ٹرانزٹ ٹیمیں اور 115 رومنگ ٹیمیں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ان ٹیموں کی موثرنگرانی کیلئے 6,455 ایریا انچارجز بھی تعینات کیے گئے ہیں۔ علاوہ ازیں اس مہم کے دوران پولیو ٹیموں کی فول پروف سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے تقریباً 40,000 سیکیورٹی اہلکار بھی تعینات کیے گئے ہیں۔