Live Updates

پنجاب میں سیلاب سے 30 اموات، ہزاروں دیہات زیر آب، 15 لاکھ سے زائد شہری متاثر

ہفتہ 30 اگست 2025 16:43

ملتان /لاہور/کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 30 اگست2025ء)پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم ای) پنجاب نے دریائے راوی، ستلج اور چناب میں سیلاب کے باعث ہونے والے نقصانات کی رپورٹ جاری کر دی، اب تک صوبے میں سیلاب کے باعث پانی میں ڈوبنے سے 30 اموات ہوئی ہیں جبکہ ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید نے کہا ہے کہ سیلابی صورتحال کے باعث 2 ہزار 308 موضع جات (دیہات) اور 15 لاکھ افراد سے زائد متاثر ہوئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق ریلیف کمشنر نبیل جاوید نے بتایا کہ دریاؤں میں سلابی صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 15 لاکھ 16 ہزار لوگ متاثر ہوئے ہیں، سیلاب میں پھنس جانے والے 4 لاکھ 81 ہزار لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔ریلیف کمشنر کے مطابق شدید سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں 511 ریلیف کیمپس قائم کیے گئے ہیں، سیلاب سے متاثر ہونے والے اضلاع میں 351 میڈیکل کیمپس بھی قائم کیے گئے ہیں، مویشیوں کو علاج معالجے کی سہولت فراہم کرنے کے لیے 321 ویٹرنری کیمپس قائم کیے گئے ہیں۔

(جاری ہے)

نبیل جاوید نے کہا کہ متاثرہ اضلاع میں ریسکیو اور ریلیف سرگرمیوں میں 4 لاکھ 5 ہزار جانوروں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاچکا ہے۔انہوں نے بتایا کہ دریائے چناب مرالہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 11 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے، دریائے چناب میں خانکی ہیڈ ورکس کے مقام پہ پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 70 ہزار کیوسک ہے، دریائے چناب میں قادر اباد کے مقام پہ پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 71 ہزار کیوسک ہے۔

ریلیف کمشنر کے مطابق ہیڈ تریموں کے مقام پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 46 ہزار کیوسک ہے اور مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، دریائے راوی جسڑ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 78 ہزار کیوسک ہے۔نبیل جاوید نے بتایا کہ دریائے راوی شاہدرہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 38 ہزار کیوسک ہے اور بہاؤ میں کمی آ رہی ہے، بلوکی ہیڈ ورکس پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 99 ہزار کی کیوسک ہے اور اضافہ ہو رہا ہے، دریائے راوی ہیڈ سدھنائی کے مقام پر پانی کی آمد 32 ہزار اور اخراج 18 ہزار کیوسک ہے۔

انہوں نے کہا کہ دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کا بہاؤ 3 لاکھ 3 ہزار کیوسک ہے اور بہاؤ میں اضافہ ہو رہا ہے، دریائے ستلج سلیمانکی کے مقام پہ پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 38 ہزار کیوسک ہے۔انہوںنے کہاکہ منگلا ڈیم 80 فیصد جب کہ تربیلا ڈیم 100 فیصد تک بھر چکا ہے، دریائے ستلج پر موجود انڈین بھاکڑا ڈیم 84 فیصد تک بھر چکا ہے، پونگ ڈیم 94 فیصد جب کہ تھین ڈیم 92 فیصد تک بھر چکا ہے۔

ریلیف کمشنر نبیل جاوید کے مطابق حالیہ سیلاب میں ڈوبنے سے 30 شہری جاں بحق ہوئے، لاہور میں آسمانی بجلی گرنے سے 2 اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایات کے پیش نظر شہریوں کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے گا، کسانوں کے نقصانات کا تخمینہ لگا کر ازالہ یقینی بنایا جائیگا۔ڈائریکٹر جنرل پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی عرفان علی کاٹھیا نے کہا کہ پنجاب میں 3 دریاؤں میں آنے والے سیلاب سے 15 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔

سیلاب سے ہونے والے نقصانات کی تفصیل بتاتے ہوئے عرفان علی کاٹھیا نے کہا کہ دریائے چناب کے کنارے ایک ہزار 179 دیہات متاثر ہوئے، دریائے راوی کے کنارے 478 دیہات پانی میں ڈوب گئے، دریائے ستلج کے کنارے 391 دیہات متاثر ہوئے۔عوام پر اثرات کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ دریائے چناب کے ساتھ تقریباً 9 لاکھ 66 ہزار افراد متاثر ہوئے، دریائے راوی کے ساتھ 2 لاکھ 32 ہزار افراد متاثر ہوئے، انہوں نے خبردار کیا کہ آئندہ دنوں میں سیلاب سے متاثرہ افراد کی تعداد میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسی طرح، دریائے ستلج کے ساتھ 3 لاکھ 13 ہزار افراد متاثر ہوئے ہیں۔ادھر ترجمان پی ڈی ایم اے نے کہاکہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں پنجاب کے بیشتر اضلاع میں مون سون بارشیں ریکارڈ کی گئی ہیں، منڈی بہائوالدین میں 81، حافظ آباد 63، جہلم 50، سیالکوٹ 47، بہاولنگر 44، گجرات 34، فیصل آباد 32، اور شیخوپورہ میں 31 ملی میٹر تک بارش ریکارڈ کی گئی۔

اسی طرح شیخوپورہ میں 31، لاہور 26، چکوال 18، گجرانوالہ 14، خانیوال 12 اور جھنگ میں 10 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی۔ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق راولپنڈی، کوٹ ادو، ساہیوال، سرگودھا اور قصور میں بھی بارش ریکارڈ کی گئی، آئندہ 24 گھنٹوں میں پنجاب کے بیشتر اضلاع میں مون سون بارشوں کا امکان ہے۔مون سون بارشوں کا 9 واں اسپیل 2 ستمبر تک جاری رہے گا۔

مشرقی دریاؤں میں پانی کی بلند سطح سے وسطی پنجاب میں سیلاب کے بعد 3 لاکھ سے زائد افراد کی نقل مکانی کا سلسلہ جاری رہا۔ملتان کی حدود میں متاثرین نے کشتیاں کم ہونے اور مویشیوں کی منتقلی کے انتظامات نہ کرنے پر انتظامیہ سے شکوہ کیا ہے۔جلال پور پیر والا کے قریب دریائے ستلج سے 50 ہزار کیوسک پانی گزر رہا ہے جس سے 140 دیہات متاثر ہوئے ہیں، راجن پور میں اونچے درجے کے سیلاب کے پیش نظر نشیبی علاقوں سے لوگوں کی منتقلی جاری رہی، بہاولپور میں دریائے ستلج کے کناروں پر نشیبی علاقوں کے مکینوں کی نقل مکانی جاری رہی۔

فیصل آباد کی تحصیل تاندلیانوالہ میں سیلابی صورتحال کے پیش نظر ہائی الرٹ کردیا گیا ہے ،دریائی اور نشیبی علاقوں کے مکینوں کی محفوظ مقامات پر منتقلی کی گئی ،دریائے چناب کے سیلابی ریلے کے بعد وزیر آباد اور حافظ آباد کے علاقے متاثر ہیں، حافظ آباد کے 40 دیہات اب بھی ڈوبے ہوئے ہیں۔فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن لاہور کے مطابق گنڈاسنگھ والا کے مقام پر پانی کے بہاؤ میں کمی آنا شروع ہو گئی ہے، بہاؤ 3 لاکھ 90 ہزار کیوسک سے کم ہو کر 3 لاکھ 45 ہزار 366 کیوسک پر آ گیا ہے۔

وہاڑی سے موصولہ اطلاعات کے مطابق دریائے ستلج میں اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ ہے، ہیڈ گنڈاسنگھ والا پر غیر معمولی اونچے درجے کا سیلاب ہے، پانی کا اخراج 3 لاکھ 3 ہزار 800 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔دریائے ستلج میں ہیڈ اسلام کے مقام پر پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ دیکھا جارہا ہے، ہیڈ سلیمانکی پر پانی کی آمد و اخراج ایک لاکھ 38 ہزار 58 کیوسک تک پہنچ گیا ہے،ہیڈ اسلام پر پانی کی آمد 63 ہزار 263 اور اخراج 62 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔

وہاڑی کی ضلعی انتظامیہ نے 133 بستیوں میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے نشیبی علاقوں کے رہنے والے افراد کو فوری طور پر محفوظ مقامات پرمنتقل ہونے کی ہدایت کی ہے۔انتظامیہ کی جانب سے بتایا گیا کہ ضلع بھر میں سیلاب سے مجموعی طور پر 49 ہزار 573 افراد متاثر ہوئے ہیں، سیلاب میں 30 ہزار 380 ایکڑ رقبے پر کھڑی فصلیں تباہ ہوئی ہیں،57 مواضعات سے 12 ہزار سے زائد افراد اپنی مدد آپ کے تحت محفوظ مقامات پر منتقل ہوئے ہیں، ریسکیو آپریشن میں 2 ہزار 307 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، 3 ہزار 281 مویشیوں کو بھی سیلابی علاقوں سے نکالا گیا ہے،صوبہ سندھ کی حدود میں دریائے سندھ پر واقع پہلے بیراج گڈو بیراج میں درمیانے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کے اخراج میں اضافہ جاری رہا۔

فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق گڈو بیروج میں ا?ج صبح 6 بجے پانی کا بہاؤ 3 لاکھ 50 ہزار کیوسک سے تجاوز کر گیا تھا۔دریائے راوی میں بلوکی کے مقام پر اور دریائے ستلج گنڈا سنگھ والا کے مقام پر اب بھی انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے، جہاں پانی کے اخراج کا رجحان صبح 8 بجے تک مستحکم رہا۔پنجاب کے بعد صوبہ بلوچستان بھی سیلاب کی زد میں آنے کا امکان ظاہر کر دیا گیا ہے۔

وزیر آبپاشی بلوچستان صادق عمرانی نے کہا کہ 2 ستمبر کو سیلاب دریائے سندھ سے بلوچستان میں داخل ہونے کا امکان بتایا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ جعفر آباد، روجھان، اوستہ محمد، صحبت پور کے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔صادق عمرانی نے آگاہ کیا کہ سندھ حکومت کے ساتھ رابطے میں ہیں اور صورتحال پر نظر رکھی ہوئی ہے، ممکنہ سیلاب کے پیش نظر کیمپ آفس نصیرآباد میں قائم کر دیا گیا ہے۔
Live سیلاب کی تباہ کاریاں سے متعلق تازہ ترین معلومات