عمران خان کے نظریے کے ساتھ اُن سے بھی دو ہاتھ آگے کھڑا ہوں، شاہ محمود قریشی

مرکزی جنرل سیکریٹری پی ٹی آئی سلمان اکرم راجہ و دیگر نے ہسپتال میں پارٹی کے وائس چیئرمین سے ملاقات کی

Sajid Ali ساجد علی پیر 3 نومبر 2025 11:32

عمران خان کے نظریے کے ساتھ اُن سے بھی دو ہاتھ آگے کھڑا ہوں، شاہ محمود ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 نومبر2025ء) پاکستان تحریک انصاف کے سینئر وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ عمران خان کے نظریے کے ساتھ اُن سے بھی دو ہاتھ آگے کھڑا ہوں۔ اطلاعات کے مطابق مرکزی جنرل سیکریٹری پی ٹی آئی سلمان اکرم راجہ و دیگر نے ہسپتال میں سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی اور ان کی عیادت کے دوران اُن سے اہم معاملات پر تبادلہ خیال کیا۔

بتایا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کی لاہور کے ہسپتال منتقلی اور علاج کے معاملے پر پی ٹی آئی کے مرکزی جنرل سیکرٹری سلمان اکرام راجہ ہسپتال پہنچے جہاں شاہ محمود قریشی سے سلمان اکرم راجہ اور شوکت بسرا نے ملاقات کی، پی ٹی آئی رہنماؤں نے ان سے خیریت دریافت کی، اس مختصر ملاقات میں ملکی سیاسی صورتحال پر بھی مشاورت کی گئی، اس موقع پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ عمران خان کے نظریے کے ساتھ اُن سے بھی دو ہاتھ آگے کھڑا ہوں۔

(جاری ہے)

دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف کے سینئر وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کی جانب سے تین سابق پارٹی رہنماؤں کی مہم میں شمولیت کی مبینہ پیشکش کو مسترد کرنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، ہسپتال میں زیر علاج شاہ محمود قریشی سے پی ٹی آئی کے سابق تین رہنماؤں نے ان کے کمرے میں جا کر ملاقات کی اور انہیں اپنی مہم میں شامل ہونے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی تاہم شاہ محمود قریشی نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا، شاہ محمود قریشی کے وکیل رانا مدثر عمر کا کہنا ہے کہ سابق رہنما فواد چوہدری، عمران اسماعیل اور مولوی محمود اس وقت شاہ محمود قریشی کے کمرے میں پہنچنے میں کامیاب ہوئے جب وہ اکیلے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ شاہ محمود قریشی انہیں دیکھ کر حیران رہ گئے اور فوری ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکار سے کہا کہ میرے وکیل کو بلاؤ جو ابھی ایک منٹ پہلے ہی گیا ہے اور اسے بتاؤ کہ کچھ مہمان آگئے ہیں لیکن جب میں واپس پہنچا تو سابق پی ٹی آئی رہنما جا چکے تھے، تاہم یہ ملاقات تقریباً دس منٹ سے کچھ زیادہ جاری رہی، اس دوران کوئی سیاسی گفتگو نہیں ہوئی، یہ غیراعلانیہ ملاقات اس وقت ہوئی جب مبینہ طور پر تینوں میں سے ایک رہنما کو شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی اجازت دینے سے انکار کیا گیا تھا۔