غزہ سٹیبلائزیشن فورس کیلئے فوج بھیجنے کی پیشکش پر پاکستان کے شکرگزار ہیں، امریکی وزیرِ خارجہ

پاکستان اس حوالے سے ایک اہم ملک ہے، فورس کے مینڈیٹ، کمانڈ اور فنڈنگ کے معاملات پر اب بھی بحث جاری ہے، اگلا مرحلہ بورڈ آف پیس اور فلسطینی ٹیکنو کریٹ گروپ کا قیام ہے؛ مارکو روبیو کی پریس کانفرنس

Sajid Ali ساجد علی ہفتہ 20 دسمبر 2025 11:12

غزہ سٹیبلائزیشن فورس کیلئے فوج بھیجنے کی پیشکش پر پاکستان کے شکرگزار ..
واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 دسمبر2025ء) امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ غزہ سٹیبلائزیشن فورس کیلئے فوج بھیجنے کی پیشکش پر پاکستان کے شکرگزار ہیں۔ بی بی سی کے مطابق نیوز کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ غزہ سٹیبلائزیشن فورس کا حصہ بننے کی پیشکش یا کم از کم اس کا حصہ بننے پر غور کے لیے پاکستان کے بہت مشکور ہیں، پاکستان اس حوالے سے ایک اہم ملک ہے، اگر وہ اس پر متفق ہو جاتے ہیں تاہم فورس کے مینڈیٹ، کمانڈ اور فنڈنگ کے معاملات پر اب بھی بحث جاری ہے۔

امریکی وزیر خارجہ نے بتایا کہ منصوبے کا اگلا مرحلہ بورڈ آف پیس اور فلسطینی ٹیکنو کریٹ گروپ کا قیام ہے، جو روزمرہ کی گورننس کے معاملات دیکھے گا، جب یہ معاملہ طے پا جائے گا تو اس کے بعد میں سمجھتا ہوں کہ اس سے ہمیں سٹیبلائزیشن فورس کو مضبوط کرنے میں مدد ملے گی، جس میں یہ بھی شامل ہے کہ اس کی ادائیگی کیسے کی جائے گی؟ ان کی مصروفیت کے اصول کیا ہیں؟ اور غیر فوجی معاملات میں ان کا کردار کیا ہو گا؟۔

(جاری ہے)

قبل اس حوالے سے دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندارابی کا کہنا تھا کہ پاکستان نے غزہ امن فورس کے لیے اپنی فوج بھیجنے کا تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا، ہم نے میڈیا رپورٹس دیکھی ہیں لیکن ہمارے پاس فیلڈ مارشل کے دورہ امریکہ کی کوئی معلومات نہیں، چیف آف ڈیفنس فورسز عاصم منیر کے دورہ واشنگٹن کی خبر درست نہیں ہے کیوں کہ تاحال امریکہ میں اعلیٰ سطح کے وفد کی کوئی ملاقات طے نہیں ہے، نہ ہی غزہ میں فوج بھیجنے کا کوئی فیصلہ ہوا ہے اور نہ چیف آف ڈیفنس فیلڈ مارشل سید عاصم مُنیر کے دورہ امریکہ کی مستند معلومات ہیں، سرکاری دوروں کا اعلان حکومت پاکستان باضابطہ طور پر کرتی ہے۔

اس معاملے پر وزیر خارجہ اسحاق ڈار کہہ چکے ہیں کہ غزہ میں قیامِ امن کے لیے مجوزہ انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس میں شرکت کے لیے پاکستان اپنے فوجی بھجوانے کے لیے تیار ہے لیکن حماس کو غیر مسلح کرنے کے کام میں شامل نہیں ہو گا، اس سلسلے میں پاکستان واضح کر چکا ہے کہ غزہ میں امن فوج کی تعیناتی کے منصوبے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظوری حاصل ہونی چاہیئے، غزہ میں حماس کو غیر مسلح کرنے کے حوالے سے آئی ایس ایف کے کردار پر دیگر اہم ممالک کی طرح پاکستان بھی اس کے لیے تیار نہیں۔