سی پیک منصوبوں پر منفی پروپیگنڈے کے تدارک کے لیے میڈیا کی مؤثر شمولیت ناگزیرہے،ماہرین

جمعہ 26 دسمبر 2025 16:04

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 26 دسمبر2025ء) سینئر صحافیوں اور پالیسی ماہرین نے پاکستان اور چین کی حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ پاکستانی میڈیا کے لیے چینی قیادت میں جاری ترقیاتی منصوبوں، بشمول چین۔پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) اور گوادر پورٹ، کے دوروں کو مزید باقاعدہ اور کثرت سے ممکن بنائیں تاکہ غلط معلومات اور منفی بیانیوں کا مؤثر طور پر مقابلہ کیا جا سکے۔

گوادر پرو کے مطابق یہ مطالبہ اسلام آباد میں منعقدہ نویں سی پیک میڈیا فورم کے دوران کیا گیا جس کا اہتمام پاکستان۔چائنا انسٹی ٹیوٹ (PCI) اور چائنا اکنامک نیٹ نے کیا جبکہ میزبانی پاکستان میں چینی سفارت خانے نے کی۔ فورم کا موضوع تھا سی پیک کے اپ گریڈڈ ورژن 2.0 کی پیش رفت کے لیے میڈیا تعاون کو مضبوط بنانا۔

(جاری ہے)

سینئر پاکستانی صحافی حامد میر نے اس بات پر زور دیا کہ صحافیوں کے لیے ترقیاتی منصوبوں کا براہِ راست مشاہدہ درست، متوازن اور شواہد پر مبنی رپورٹس تیار کرنے کے لیے نہایت ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ منصوبوں میں ہونے والی پیش رفت کو خود دیکھنے اور مقامی آبادی سے براہِ راست بات چیت کے ذریعے میڈیا پاکستان میں چینی سرمایہ کاری سے متعلق پھیلائی جانے والی غلط معلومات کا مؤثر جواب دے سکتا ہے۔ماہرین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خاص طور پر بلوچستان اور گوادر میں مقامی آبادی کے ساتھ روابط بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ کمیونٹی کی آوازیں نمایاں ہوں اور رہائشی اپنے خدشات اور توقعات کھل کر بیان کر سکیں۔

ان کے مطابق اس سے دونوں حکومتوں کو زیادہ مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اور اصلاحات تشکیل دینے میں مدد ملے گی۔سینئر صحافیوں نے نشاندہی کی کہ سی پیک کے بارے میں گمراہ کن بیانیوں کے خلاف موجودہ کوششیں محدود ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ڈیجیٹل صحافیوں اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز سمیت میڈیا کے وسیع تر حلقے کو شامل کیا جائے تاکہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر سی پیک کی ایک حقیقت پر مبنی اور جامع تصویر پیش کی جا سکے۔

وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ نے سی پیک سے متعلق منفی یا گمراہ کن رپورٹس سے نمٹنے کے لیے ایک خصوصی فیکٹ چیکنگ فورم کے قیام کی تجویز پیش کی۔ اس تجویز سے پاکستان میں چینی سفیر جیانگ زیدونگ اور چیئرمین پی سی آئی سینیٹر مشاہد حسین سید نے اتفاق کیا۔فورم کے شرکاء نے چینی میڈیا پلیٹ فارمز، خصوصاً سوشل میڈیا پر پاکستانی مواد میں اضافے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

انہوںنے کہاکہ پاکستان کے کاروباری ماحول، ثقافت اور مہمان نوازی کو چینی عوام کے سامنے اجاگر کرنے سے خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے چینی کاروباری اداروں کی جانب سے سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہو سکتی ہے۔فورم کے اختتام پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ میڈیا تعاون میں اضافہ، شفافیت، اور عوامی روابط (پیپل ٹو پیپل انگیجمنٹ) کو فروغ دینا باہمی سمجھ بوجھ مضبوط بنانے اور سی پیک کے اگلے مرحلے کی کامیاب پیش رفت کے لیے کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔