کراچی 98 فیصد ریونیو وفاق کو دے رہا ہے، مگر سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں‘ امین الحق

منگل 20 جنوری 2026 23:22

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 20 جنوری2026ء) قومی اسمبلی کے اجلاس میں ایم کیو ایم کے رکن امین الحق نے سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق افراد اور شہید فائر فائٹر کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ فائر فائٹر ایک بہادر خاندان سے تعلق رکھتا تھا، جن کے والد بھی اپنے دور میں لوگوں کی جانیں بچاتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ آگ بجھانے کے دوران کچھ دیر بعد پانی ختم ہو جاتا اور لوگ جلتے رہے۔

امین الحق نے کہا کہ کراچی 98 فیصد ریونیو وفاق کو دے رہا ہے، مگر سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔امین الحق نے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی سے امید ظاہر کی کہ وہ ہمیشہ کی طرح حق و سچ کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں سب اچھا کی پریزنٹیشن دی جاتی ہے، مگر گل پلازہ کے واقعے کا جواب کون دے گا ان کا کہنا تھا کہ تین کروڑ آبادی والے کراچی میں صرف 36 فائر ٹینڈرز فعال ہیں، گزشتہ چھ سال میں ایک بھی نیا فائر ٹینڈر شامل نہیں کیا گیا، حالانکہ 2020 میں 52 فائر ٹینڈرز دیے گئے تھے۔

(جاری ہے)

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مستقبل میں خدانخواستہ کوئی اور سانحہ ہوا تو اس کی ذمہ داری کس پر ہو گی امین الحق نے مطالبہ کیا کہ لوکل گورنمنٹ سسٹم میں ترمیم کر کے میئر کو بااختیار بنایا جائے، کیونکہ ٹریفک اور کراؤڈ کنٹرول صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے نکات پر عملدرآمد صوبوں کی ذمہ داری تھی، تاہم وفاق دہشت گردی کے معاملے پر بحث کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 5 ہزار 857 ارب روپے خیبرپختونخوا کو دیے جا چکے ہیں، جبکہ ضم شدہ اضلاع کے لیے 704 ارب روپے، اور ترقیاتی اسکیموں کے لیے 115 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں۔طلال چوہدری نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اب وہ اپنے وزیر اعلیٰ کو بہت بڑا پڑھا لکھا قرار دے رہے ہیں، حالانکہ ماضی میں بزدار کو‘‘وسیم اکرم پلس’’کہا جاتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو خیبرپختونخوا میں کام چاہیے اور اپوزیشن سے اپیل کی کہ دہشت گردی کے خلاف اجلاسوں میں شرکت کریں۔بعد ازاں پیپلز پارٹی کے رکن عبدالقادر پٹیل نے اپوزیشن لیڈر کو مبارکباد دیتے ہوئے ان کی گزشتہ روز کی تقریر کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ آج بات کی جا رہی ہے کہ مل کر چلنا چاہیے، مگر ماضی میں ہمیں‘‘چور’’کہا گیا، اب ایسے میں اعتماد کیسے بحال ہو انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ‘‘ابتدائے عشق ہے ہوتا ہے کیا، آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔

عبدالقادر پٹیل نے کراچی کی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شہر کے پہلے میئر عبدالستار افغانی نے دس سال حکومت کی، اس دوران مختلف جماعتیں بنتی رہیں اور کراچی میں قتل و غارت کا بازار گرم رہا۔ انہوں نے جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان جماعتوں نے 35 سال میں کراچی کو اس حال تک پہنچایا اور اب ایسے بیانات دیے جا رہے ہیں جیسے ابھی چند دن پہلے ہی کراچی آئے ہوں۔