نوشہرہ ،مولانا حامد الحق کی شہادت کے ایک سال بعد بھی قاتلوں کی عدم گرفتاری ریاست کی نااہلی و مجرمانہ غفلت کا واضح ثبوت ہے،مولانا عبد الحق ثانی

-مولانا حامد الحق شہید کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی،ان کی خدمات ہمیشہ سنہرے حروف میں یاد رکھی جائے گی ،انہوں نے ساری زندگی اپنے والد مولانا سمیع الحق شہید کی راہ پر چلتے ہوئے ملک و ملت کے امن، استحکام،خوشحالی اور دینی اقدار کے فروغ کی جدو جہد کی،مولانا حامد الحق شہید کی پہلی یوم شہادت کے موقع پر جمعیت علماء اسلام (س) کے رہنماؤں سے گفتگو

جمعہ 27 فروری 2026 20:30

ش*نوشہرہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 27 فروری2026ء) مولانا حامد الحق کی شہادت کے ایک سال بعد بھی قاتلوں کی عدم گرفتاری ریاست کی نااہلی و مجرمانہ غفلت کا واضح ثبوت ہے،ان کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی،انہوں نے ساری زندگی اپنے والد مولانا سمیع الحق شہید کی راہ پر چلتے ہوئے ملک و ملت کے امن، استحکام،خوشحالی اور دینی اقدار کے فروغ کی جدو جہد کی ،ان کی خدمات ہمیشہ سنہرے حروف میں یاد رکھی جائے گی ،رمضان المبارک کے بعد مولانا حامد الحق شہید کی یاد میں ایک بڑی کانفرنس بلائی جائے گی ،ان خیالات کا اظہار انہوں نے مولانا حامد الحق شہید کی پہلی یوم شہادت کے موقع پر جمعیت کے رہنماؤں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

مولانا عبدالحق ثانی نے کہا کہ گزشتہ برس 28 فروری 2025 کو مولانا حامد الحق حقانی کو بیدردی کے ساتھ شہید کردیا گیا تھا لیکن ان کو شہید کرنے والے ظالم وسفاک قاتلوں کا سراغ آج تک نہ مل سکااور حسب سابق حکومت و قانون نافذ کرنے والے ادارے مجرمانہ غفلت کے مرتکب رہے جبکہ ہمارے خاندان کے بزرگ شہیدوں نے ہمیشہ عالم اسلام اور وطن عزیز کے اسلامی نظریہ کے لئے جدوجہد کی ہے اور اس ملک کے نظریات اور سالمیت کی بقاء کیلئے آخر دم تک یہ حضرات ہرجگہ پر کلمہ حق کہتے رہے مگر بدقسمتی سے مولانا سمیع الحق شہید کے قاتل بھی آٹھ سال گزر جانے کے باوجود نہ مل سکے اور مولانا حامد الحق شہید کے قاتل بھی ایک سال بیت جانے کے بعد نہ مل سکے۔

(جاری ہے)

دونوں واقعات پر ریاست کے اعلیٰ عہدیداروں اور حکمرانوں نے ہمیں صرف یہ بتایا کہ بیرونی عناصر اس میں ملوث ہیں اور ادارے تفتیش کررہے ہیں مگر عملی طورپر دونوں تحقیقات کا نتیجہ اب تک صفر ہے، نہ اصل قاتل تلاش کئے جاسکے،نہ ماسٹر مائنڈ اورسازشی عناصر کا کچھ معلوم ہوسکا، جبکہ بعض وارداتوں پر چند گھنٹوں میں ہی ایکشن لیا جاتا ہے اور قاتل اور سازشی عناصر پکڑے جاتے ہیں مگر علمائے دیوبند اورعلمائے اکوڑہ خٹک کے قتل عام پر کیوں غفلت اور خاموشی اختیار کی جاتی ہی ۔

افسوس پاکستان کے علما اور ہم سب اپنی اپنی باریوں کا انتظار کررہے ہیں،اس ظلم و بربریت کے خلاف کوئی لائحہ عمل اور کوئی مقدمہ اور کوئی آواز اٹھانے کو تیار نہیں۔جمعیت علما اسلام(س)کے امیر مولانا عبد الحق ثانی اور جملہ خانوادہ حقانی و جمعیت علما اسلام (س)کے رہنماؤں نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ مولانا حامد الحق حقانی کی شہادت کے ایک سال بعد بھی قاتلوں کی عدم گرفتاری ریاست کی نااہلی و مجرمانہ غفلت کا واضح ثبوت ہے۔

مولانا عبد الحق ثانی نے مولانا حامد الحق شہید کی پہلی یوم شہادت کے مناسبت سے جاری اپنے بیان میں کہا کہ مولانا حامد الحق شہید کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی، ان کا مشن جاری و ساری رہے گا۔ آج مولانا سمیع الحق شہید اور مولانا حامد الحق شہید کی شہادت کے بعد بھی الحمدللہ ہم پوری جراء ت کیساتھ میدان میں کھڑے ہیں۔ آج ملک بھر سے شہدا کی جماعت جمعیت علما اسلام پر عوام اعتماد کا اظہار کررہے ہیں۔

مولانا عبد الحق ثانی نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران ملک کے طول و عرض کے دورے کرچکا ہوں آج جماعت الحمدللہ بھرپور انداز میں فعال ہورہی ہے۔ مولانا حامد الحق شہید نے ساری زندگی اپنے والد مولانا سمیع الحق شہید کی راہ پر چلتے ہوئے ملک کے امن، استحکام،خوشحالی اور دینی اقدار کے فروغ کی جدو جہد کی۔ مولانا حامد الحق شہید کی خدمات ہمیشہ سنہرے حروف میں یاد رکھی جائیں گی۔ رمضان المبارک کے بعد ان شاء اللہ مولانا حامد الحق شہید کی یاد میں ایک بڑی کانفرنس منعقد کی جائے گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے مولانا حامد الحق شہید کی پہلی یوم شہادت کے موقع پر جمعیت کے رہنماؤں سے گفتگوکے موقع پر کیا