میرا پورا فوکس آج کے میچ پر ہے، ٹرافی اٹھانا خواب ہے، پی ایس ایل فائنل سے قبل بابر اعظم کا عزم

اتوار 3 مئی 2026 00:28

میرا پورا فوکس آج کے میچ پر ہے، ٹرافی اٹھانا خواب ہے، پی ایس ایل فائنل ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 03 مئی2026ء) ایچ بی ایل پی ایس ایل 11 کے فائنل میں پشاور زلمی اور حیدرآباد کنگز مین کے درمیان قذافی اسٹیڈیم میں ہونے والے بڑے ٹاکرے سے قبل کپتان بابر اعظم نے اپنی ٹیم کے سفر، فائنل کے دبائو اور اس اہم ترین میچ کے لیے اپنی ذہنی تیاریوں پر کھل کر بات کی۔بابر اعظم نے اس بات کا اعتراف کیا کہ پی ایس ایل کا ہر میچ اپنے ساتھ دبائو لاتا ہے، لیکن فائنل کا تجربہ بالکل منفرد ہوتا ہے۔

انہوں نے اسٹیڈیم میں شائقین کی موجودگی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کراڈ کی حمایت ٹیم کو توانائی اور اعتماد فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے کہا، "کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ہم اپنے اعصاب پر کتنا قابو رکھتے ہیں اور ٹورنامنٹ کے دوران بنائی گئی حکمت عملی پر کس حد تک عمل کرتے ہیں۔

(جاری ہے)

"زلمی کی شاندار مہم، جس میں ٹیم کو پورے ٹورنامنٹ میں صرف ایک بار شکست کا سامنا کرنا پڑا، پر تبصرہ کرتے ہوئے بابر نے مومنٹم اور ٹیم کے امتزاج کی اہمیت پر زور دیا۔

انہوں نے کوشل مینڈس اور مائیکل بریسویل جیسے غیر ملکی اسٹارز کے ساتھ ساتھ مقامی پیسرز کی کارکردگی کو سراہا، جنہوں نے زلمی کو ایک متوازن ٹیم بنایا ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ کپتانی تب زیادہ مضبوط ہوتی ہے جب کپتان خود اچھی فارم میں ہو اور ان کی اپنی فارم زلمی کے غلبے کی ایک بڑی وجہ رہی ہے۔ٹرافی اور تنقید سے متعلق سوال پر بابر نے دو ٹوک اور حقیقت پسندانہ جواب دیا۔

انہوں نے کہا، "ہر کپتان ٹرافی اٹھانے کا خواب دیکھتا ہے اور میں بھی دیکھتا ہوں۔ کل کے میچ میں کلید یہ ہے کہ معاملات کو سادہ رکھا جائے اور دبائو کو خود پر حاوی نہ ہونے دیا جائے۔ تنقید کارکردگی کے باوجود یا اس کے بغیر بھی ہوتی رہتی ہے، مجھے اس کا جواب دینے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔"بابر نے اس بات پر زور دیا کہ لاہور میں اپنے ہوم گرائونڈ پر کھیلنا دبائو کے بجائے اعتماد کا باعث ہے۔

انہوں نے علی رضا اور یوسف جیسے نوجوان کھلاڑیوں کو پاکستان کا مستقبل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹیلنٹ کو نکھارنے کے لیے مناسب راستوں کی ضرورت ہے نہ کہ انہیں جلد بازی میں انٹرنیشنل کرکٹ میں دھکیلنے کی۔اپنی بیٹنگ فارم کے بارے میں بات کرتے ہوئے بابر نے بتایا کہ وہ اپنے پرانے معمولات اور مائنڈ سیٹ کی طرف واپس آئے ہیں، جس سے انہوں نے اپنی بیٹنگ کو سادہ بنایا ہے اور اب وہ اسے دوبارہ انجوائے کر رہے ہیں۔

انہوں نے ہیڈ کوچ اوٹس گبسن کو کریڈٹ دیا جنہوں نے انہیں "فری ہینڈ" دیا اور بیٹنگ و بالنگ یونٹس کی رہنمائی کرنے والے مصباح الحق اور اظہر محمود کی حمایت کی بھی تعریف کی۔فائنل کی حکمت عملی کے بارے میں بابر نے پیشگوئی کرنے سے گریز کیا اور کہا کہ ٹیم میچ کے دن پچ کا جائزہ لے کر فیصلہ کرے گی۔ انہوں نے بیٹنگ پوزیشن پر بندھے رہنے کے خیال کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ زلمی اور پاکستان دونوں کے لیے لچک کا مظاہرہ کرنا ضروری ہے۔

آخر میں، جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر زلمی ٹرافی جیت جاتی ہے تو کیا وہ دوبارہ پاکستان کی قومی کپتانی کے لیے تیار ہوں گے؟ تو بابر نے اپنی توجہ موجودہ لمحے پر مرکوز رکھی۔ "یہ بات بعد کی ہے؛ میری پوری توجہ صرف کل کے میچ پر ہے۔ پاکستان کے لیے جو بہتر ہے، وہی ہونا چاہیے۔"زلمی کے فیورٹ ہونے اور بابر کے عروج پر ہونے کے ساتھ، کپتان کے پرسکون لیکن پرعزم الفاظ ان کے ارادے کو ظاہر کرتے ہیں کہ لاہور کی روشنیوں میں ٹیم کو سمجھ بوجھ، ٹھنڈے مزاج اور یقین کے ساتھ آگے لے جانا۔ پی ایس ایل 11 کی ٹرافی اب پہنچ سے دور نہیں، لیکن جیسا کہ بابر نے زور دیا، یہ فیصلہ اعصاب اور کھیل میں شفافیت سے ہی ہوگا۔