پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 05 مئی2026ء)
جمعیت علماء اسلام نے شیخ الحدیث مولانا ادریس کی شہادت کو ملک کیلئے بڑا
نقصان قرار دیتے ہوئے آج (بدھ کو)صوبہ بھرمیں
احتجاج کا اعلان کیا ہے اور جے یو آئی کے صوبائی امیر سینٹر مولانا عطا الرحمان نے کہا ہے کہ ہم نے بہت برداشت کر لیا، مزید اس برداشت کرنے قابل نہیں ہے، اگر حکمران، ریاست قوم کو تحفظ نہیں دے سکتے پھر عوام پر مسلط رہنے کا کوئی حق نہیں۔
اپنے صوبے پر توجہ دیں، اسے سنبھالیں،یہ آپ کی ذمہ داری ہے۔ اگر قوم نے آپ کو
ووٹ دیا ہے تو کم از کم اس صوبے کو محفوظ بنائیں، پھر جا کر مرکز کے بارے میں بات کریں۔یہاں مفتی محمود مرکز میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر مولانا عطاء الرحمان نے کہا کہ مولانا محمد ادریس گھر آ رہے تھے جب
گاڑی پر
فائرنگ کی گئی، مولانا محمد ادریس کے ساتھ سیکیورٹی اہلکار بھی
زخمی ہوئے، مولانا ادریس کی شہادت پورے
پاکستان کے لیے ایک بہت بڑا
نقصان ہے،بدھ کو بدامنی اور امن و آمان کے لیے صوبہ بھر
احتجاج کیا جائے گا۔
(جاری ہے)
مولانا عطا الرحمان نے کہا کہ ہم نے بہت برداشت کر لیا، مزید اس برداشت کرنے قابل نہیں ہے، اگر حکمران، ریاست قوم کو تحفظ نہیں دے سکتے پھر عوام پر مسلط رہنے کا کوئی حق نہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے روز اول سے ان
انتخابات کو تسلیم نہیں کیا، پتہ نہیں ہم پر حملے کیوں کئے جا رہے ہیں، سمجھ نہیں آ رہا قانون نافذ کرنے والے ادارے کیا کررہے ہیں۔
مولانا عطا الرحمان نے کہا کہ
پارلیمنٹ کے اندر مداخلت اور عوام کی رائے کی قدر نہ کرنا بنیادی مسائل ہیں۔ جب آپ قوم کی آواز نہیں سنتے، اسے اہمیت نہیں دیتے اور اپنی رائے مسلط کرنا چاہتے ہیں تو پھر ملک اور ریاست میں اسی طرح کی آوازیں اٹھتی ہیں۔ معلوم نہیں کہ علمائے کرام کو کیوں ٹارگٹ کیا جاتا ہے۔ ہم تو ملک اور ریاست کے خیر خواہ ہیں۔ ہم اس ملک کے
زخمی ہونے پر افسردہ اور پریشان ہوتے ہیں، لیکن اس کے باوجود
علما کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔
مولانا عطا الرحمان نے کہا کہ ایسے جید اور اکابر علمائے کرام، جن پر قوم کو اعتماد ہوتا ہے اور جن کی آواز سنی جاتی ہے،حضرت شیخ محمد ادریس صاحب نور اللہ مرقدہ ان کی آواز کو سنا جاتا تھا اور لوگ اس پر لبیک کہتے تھے۔ عوام اور
جمعیت علمائے اسلام کے کارکنوں کی ان سے محبت تھی، وہ ان کی بات سنتے اور اس پر عمل کرتے تھے۔ وہ ہمارے سرپرست اور مرکزی شوری کے رکن تھے، لیکن آج انہیں
شہید کر دیا گیا ہے۔
مولانا عطا الرحمان نے کہا کہ کیا ریاست کے حق میں بات کرنا جرم ہی کیا ملک کے تحفظ کے لیے آواز اٹھانا جرم ہی کیا اداروں کے تحفظ کی بات کرنا جرم ہی ہم نے ہمیشہ اصولوں کی بنیاد پر حکومت کی مخالفت کی ہے۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اس طرح کے واقعات کے ذریعے
علما کی آواز کو دبایا جا سکتا ہے تو یہ اس کی خام خیالی ہے۔مولانا عطا الرحمان نے کہا کہ
علما کی آواز نہ پہلے کبھی دبائی جا سکی ہے اور نہ اب دبائی جا سکے گی۔
انگریزوں سے جا کر پوچھو، جنہوں نے
علما کو خنزیر کے چمڑوں میں بند کر کے
شہید کیا، لاکھوں
علما کو
شہید کیا گیا، لیکن کسی ایک عالم دین نے بھی ان کے سامنے سر نہیں جھکایا۔ آپ نے کبھی نہیں سنا ہوگا کہ کسی عالم نے جبر کے سامنے ہتھیار ڈالے ہوں۔سنیٹر مولانا عطا الرحمان نے کہا کہ یہ توقع رکھنا کہ اس طرح کی شہادتوں کے ذریعے
جمعیت علمائے اسلام کے کارکنوں کو ان کے نظریات، فکر اور سوچ سے ہٹایا جا سکتا ہے، ممکن نہیں۔
ہماری اولادیں، ہمارے بچے، ہمارے کارکن اور ہمارے ساتھی،ہم ان شہادتوں پر صرف افسردہ نہیں ہوتے بلکہ ہمارے عزم میں مزید قوت آتی ہے، ہمارے ارادے مزید پختہ ہو جاتے ہیں۔ ہمیں یقین ہو جاتا ہے کہ ہمارے اکابر نے ہمارے لیے جو راستہ چنا ہے، وہ حق کا راستہ ہے، اور ہم اسی صحیح راستے پر گامزن ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ اس ملک اور قوم کی خدمت کی ہے اور کرتے رہیں گے۔
ہمیں اس خدمت سے کوئی نہیں روک سکتا۔انہوں نے کہا کہ فارم 47 والی حکومت بڑھکیں تو بہت مارتی ہے، مگر قوم کی خدمت نہیں کرتی اور اپنے صوبے کو تحفظ فراہم کرنے کی اہل نہیں۔ ان کا سب سے بڑا ایجنڈا مرکز کے خلاف تحریک چلانا ہے۔ مرکز کو چھوڑیں، آپ کے ذمے جو صوبہ دیا گیا ہے جو آپ کو فارم 47 کے تحت ملا ہے،کم از کم اس کے
امن و امان کی طرف توجہ دیں۔
سنیٹر مولانا عطا الرحمان نے کہا کہ یہاں مدارس کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے، مساجد کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، نمازیوں، علمائے کرام اور مذہبی طبقے کو مسلسل ٹارگٹ کیا جا رہا ہے، جبکہ آپ خوابِ خرگوش میں سوئے ہوئے ہیں اور کہتے ہیں کہ مرکز کی پالیسیاں غلط ہیں۔ مرکز کی پالیسیوں کی نہ ہم نے کبھی حمایت کی ہے اور نہ کرتے ہیں، لیکن آپ نے اپنا صوبہ کس کے رحم و کرم پر چھوڑ رکھا ہی آپ کے صوبے میں دہشت گردوں کی چلتی ہے، آپ کی نہیں !اپنے صوبے پر توجہ دیں، اسے سنبھالیں،یہ آپ کی ذمہ داری ہے۔
اگر قوم نے آپ کو
ووٹ دیا ہے تو کم از کم اس صوبے کو محفوظ بنائیں، پھر جا کر مرکز کے بارے میں بات کریں۔ آپ کہتے ہیں کہ ہمارا صرف ایک ہی ہدف ہے کہ ہم نے اپنے قائد کو رہا کروانا ہے، اس کے علاوہ کوئی منصوبہ نہیں۔ سیاسی لوگ قید ہوتے رہتے ہیں، یہ کوئی نئی بات نہیں
۔جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی امیر نے مختلف اوقات میں ساڑھے آٹھ سال
جیل کاٹی ہے، لیکن یہ عجیب صورتحال ہے کہ ایک سیاسی شخص کی قید کو اس حد تک مسئلہ بنا دیا گیا ہے کہ پورا صوبہ ایک طرف رکھ دیا گیا ہے۔
مزید حیرت یہ کہ وہ
جیل میں ہے اور یہاں اس کی حکومت قائم ہے، اور یہ حکومت اسے رہا کروانے کے بجائے مرکز کے خلاف
احتجاج کر رہی ہے۔سنیٹر مولانا عطا الرحمان نے کہا کہ اگر ریاست اداروں کی موجودگی میں قوم کے ساتھ اس طرح کا بھیانک ظلم کیا جائے تو پھر برداشت کے قابل نہیں ہوتا۔ ہمارے ریاستی اداروں نے ملک میں امن کا کام چھوڑ کر سیاسی اور
پارلیمنٹ کے اندر مداخلت شروع کر دی ہے۔