بلوچستان اسمبلی ،زرعی پیدوار ، منڈیوں، وٹنس پروٹیکشن مسودات قوانین منظور ، ایک قانون متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد

منگل 5 مئی 2026 20:55

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 05 مئی2026ء) بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں بلوچستان زرعی پیدوار اور منڈیوں، بلوچستان وٹنس پروٹیکشن کے مسودات قوانین منظور جبکہ ایک قانون متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا گیا ۔ منگل کو بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں صوبائی وزیر داخلہ میر ضیا ء اللہ لانگو نے بلوچستان زرعی پیداوار ی منڈیوں کا مسودہ قانون ایوان میں پیش کیا سے منظور کرلیا گیا۔

ایوان نے بلوچستان اسمبلی نے بلوچستان وٹنس پروٹیکشن کا ترمیمی مسودہ قانون بھی منظور کرلیا جبکہ پارلیمانی سیکرٹری محمد خان لہڑی نے بلوچستان کنٹرول منشیات کا مسودہ قانون ایوان میں پیش کیا جسے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا گیا۔اجلاس میں پارلیمانی سیکرٹری عبدالمجید بادینی نے نقطہ اعتراض پر اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ پٹ فیڈر کینال سے غیر قانونی کنکشنز کے خاتمے کے لیے کاروائی اور بھل صفائی پر محکمہ آب پاشی کاشکریہ ادا کرتا ہوں۔

(جاری ہے)

نیشنل پارٹی کی رکن کلثوم نیاز نے کہا کہ بی ایس او پجار کے رہنماء بابل ملک بلوچ کو بازیاب کرایا جائے۔پارلیمانی سیکرٹری پرنس عمر احمد زئی نے نقطہ اعتراض پر اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ سریاب میں بہت زیادہ لوڈشیڈنگ ہورہی ہے پٹواری کے امتحان کے لئے 50000 نوجوان آئے تھے ، وہ نوجوان ٹیسٹ کیلئے دھوپ میں کھڑے رہے ۔ وزیراعلیٰ کی مشیر مینہ مجید نے کہا کہ معرکہ حق کا ایک سال مکمل ہونے پر افواج پاکستان کو خراج تحسین پیش کرتی ہیںمعرکہ حق میں شکست کے بعد انڈیا کو دوبارہ حملے کی جرات نہیں ہوگی ۔انہوں نے کہا کہ عالمی جنگ رکوانے میں پاکستان کا اہم کردار سامنے آیا۔