معرکہ حق کو نصاب کا حصہ بنایا جائے، ڈاکٹر ضیاء اللہ شاہ

منگل 5 مئی 2026 21:19

فیصل آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 05 مئی2026ء) متحدہ جمعیت اہلحدیث پاکستان کے امیر اور ممبر قومی پیغام امن کمیٹی حکومت پاکستان ڈاکٹر علامہ سید ضیاء اللہ شاہ بخاری نے کہا ہے کہ معرکہ حق بنیان مرصوص کو نصاب کا حصہ بنایا جائے کیونکہ اس تاریخی فتح نے پاکستان کا وقار بلند کرتے ہوئے دشمن کے غرور کو خاک میں ملا دیا۔ یہ بات انہوں نے منگل کو فیصل آباد پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

اس موقع پر چیئرمین علماء کونسل پاکستان صاحبزادہ زاہد محمود قاسمی، علامہ سکندر حیات ذکی، ڈاکٹر سید اسامہ بخاری، سید حسنین شیرازی، مولانا قاری خبیب حمید، صاحبزادہ طاہر محمود سیالوی، پروفیسر آصف رضا قادری، حافظ شاہد اشرف اور پاسٹر عمران لیاقت جمال بھی موجود تھے۔

(جاری ہے)

ڈاکٹرضیاء اللہ شاہ بخاری نے کہا کہ وزیراعظم میاں شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ولولہ انگیز قیادت میں حاصل ہونے والی یہ عظیم کامیابی قومی اتحاد، عسکری مہارت اور سفارتی بصیرت کا روشن باب ہے جسے نئی نسل تک منتقل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ کانفرنس کا مقصد معرکہ حق بنیان مرصوص کی پہلی سالگرہ کے موقع پر یوم تشکر منانا، افواج پاکستان کی بے مثال قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرنا اور قومی یکجہتی کے پیغام کو مزید مضبوط بناناہے۔ انہوں نے کہا کہ معرکہ حق بنیان مرصوص محض ایک عسکری کامیابی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی خصوصی نصرت اور پوری قوم کے اتحاد و یکجہتی کا ثمر ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس معرکے نے نہ صرف دشمن کے تکبر کو پاش پاش کیا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی عسکری، دفاعی اور سفارتی حیثیت کو نئی بلندی عطا کی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت جن فرانسیسی ساختہ رافیل طیاروں کو اپنی عسکری برتری کی علامت سمجھتا تھا، پاک فضائیہ کے شاہینوں نے اپنی اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارت، جرات اور مقامی دفاعی صلاحیتوں کے بل بوتے پر انہیں تباہ کر کے پوری دنیا کو حیران کر دیا۔ یہ کامیابی پاکستان کی دفاعی خودکفالت اور عسکری برتری کا واضح ثبوت ہے۔ ڈاکٹر بخاری نے کہا کہ اس معرکے کے بعد پاکستان کی دفاعی مصنوعات اور مقامی ٹیکنالوجی کی عالمی سطح پر مانگ میں نمایاں اضافہ ہوا جبکہ دنیا بھر میں پاکستان کی عسکری مہارت اور دفاعی صلاحیتوں کا اعتراف کیا گیا۔