پاکستانی نوجوانوں نے انتہاپسندی اور نفرت کو مسترد کر کے امن، برداشت اور ہم آہنگی کے فروغ کا عزم کر رکھا ہے، وفاقی وزیراحسن اقبال

منگل 5 مئی 2026 23:32

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 05 مئی2026ء) وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کے نوجوانوں نے انتہاپسندی اور نفرت کو مسترد کرتے ہوئے امن، برداشت اور ہم آہنگی کے فروغ کا عزم کر رکھا ہے۔وہ منگل کو نارووال میں منعقدہ دو روزہ بین الاقوامی امن مکالمے سے خطاب کر رہے تھے، جس کا موضوع خطے میں پائیدار امن کے لیے پل تعمیر کرنا تھا۔

مکالمے کا مقصد مختلف برادریوں، ثقافتوں اور ممالک کے درمیان مکالمے، باہمی سمجھ بوجھ اور تعاون کو فروغ دے کر نفرت کے خاتمے اور دیرپا امن کے قیام کو یقینی بنانا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کے نوجوان امن کے سفیر ہیں اور وہ معاشرے میں مثبت تبدیلی کے علمبردار کے طور پر ابھر رہے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے نارووال میں اس اہم عالمی مکالمے کے کامیاب انعقاد پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے امن ڈائیلاگ کا تسلسل آئندہ برسوں میں بھی جاری رکھا جائے گا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پنجاب اسمبلی کے رکن اور چیئرمین پبلک اکاونٹس کمیٹی احمد اقبال نے کہا کہ موجودہ دور میں امن، برداشت اور باہمی احترام کے فروغ پر سنجیدہ مکالمے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا اور نفرت انگیز مواد کے ذریعے لوگوں کو ایک دوسرے کے خلاف اکسانا آسان ہو چکا ہے، اس لیے ہمیں برداشت اور رواداری کو فروغ دینا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک کثیرالمذاہب معاشرہ ہے جہاں مختلف عقائد کے لوگ رہتے ہیں اور سب کو ایک دوسرے کے نظریات اور عقائد کا احترام کرنا چاہیے۔انٹرنیشنل قرآن ریسرچ ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر صفی کاس کاس نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ نوجوانوں کی تعلیم اور تربیت پر توجہ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ نارووال یونیورسٹی کا قیام علاقے کے طلبہ کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے اور نوجوانوں کو بہتر مواقع فراہم کر کے ہی ایک پرامن اور ترقی یافتہ معاشرہ تشکیل دیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قرآن و حدیث کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر ہی دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے اور اجتماعی کوششوں سے ہی پائیدار امن ممکن ہے۔تیونس کی عزیتونہ یونیورسٹی کے صدر پروفیسر عبدالطیف باوعزیزی نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ ان کے ادارے کے تعلقات نہایت مضبوط اور مثبت ہیں۔ انہوں نے علامہ اقبال کی تعلیمات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ برداشت، انصاف اور مساوات کے فروغ سے معاشرے میں بہتری لائی جا سکتی ہے جبکہ انتہاپسندی کا خاتمہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر سے افراد کا نارووال میں جمع ہونا اس مکالمے کی کامیابی کا ثبوت ہے۔قازقستان سے تعلق رکھنے والی گلسانہ کوزہابے نے کہا کہ امن کے قیام کے لیے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے جدید تقاضوں کے مطابق تعلیم حاصل کرنے اور اس پر عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خطے میں امن کا قیام تمام ممالک کے لیے فائدہ مند ہوگا۔