Live Updates

افغانستان میں دہشتگرد تنظیموں کی موجودگی، سرگرمیوں پر ایک بار پھر عالمی سطح پر تشویش کا اظہار

ہفتہ 9 مئی 2026 21:22

کابل‘واشنگٹن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 09 مئی2026ء) افغانستان میں دہشتگرد تنظیموں کی موجودگی اور سرگرمیوں پر ایک بار پھر عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، جہاں مبصرین کے مطابق طالبان رجیم کے تحت افغان سرزمین القاعدہ، داعش خراسان سمیت مختلف عالمی دہشتگرد گروہوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بنتی جا رہی ہے۔عالمی برادری کی جانب سے بارہا اس خدشے کا اظہار کیا گیا ہے کہ افغانستان میں دہشتگرد عناصر کی موجودگی نہ صرف خطے بلکہ عالمی سلامتی کے لیے بھی سنگین خطرہ ہے۔

امریکہ کی سالانہ انسدادِ دہشتگردی رپورٹ 2026 کے مطابق افغانستان اب بھی دہشتگردی کے خطرات کا ایک بڑا مرکز قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مختلف دہشتگرد گروہ افغان سرزمین کو اپنی سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

(جاری ہے)

رپورٹ کے مطابق ایبی گیٹ حملے کے ماسٹر مائنڈ کو 43 دن کے اندر گرفتار کیا گیا، جس حملے میں 13 امریکی فوجی اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مذکورہ دہشتگرد کی گرفتاری میں پاکستان نے اہم کردار ادا کیا اور اسے امریکہ کے حوالے کیا، جس پر سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کا شکریہ ادا کیا تھا۔امریکی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ داعش خراسان اور القاعدہ جیسے گروہوں کے خاتمے کے لیے کارروائیاں تیز کی جا رہی ہیں جبکہ ان تنظیموں کے نیٹ ورکس کے خلاف جارحانہ حکمتِ عملی اپنانے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں امریکہ نے شراکت دار ممالک کے ساتھ تعاون بڑھانے اور دہشتگرد گروہوں کی بیرونی حملہ کرنے کی صلاحیت کو ختم کرنے پر بھی زور دیا ہے۔ماہرین کے مطابق رپورٹ میں داعش، القاعدہ اور ایبی گیٹ حملے کے بار بار ذکر سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ افغان سرزمین تاحال عالمی دہشتگردوں کے لیے ایک اہم چیلنج بنی ہوئی ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ اب افغانستان کو مکمل ریاستی تعمیر کے بجائے ایک سکیورٹی چیلنج کے طور پر دیکھ رہا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی برادری طالبان رجیم کے حوالے سے تحفظات رکھتی ہے۔

ماہرین کے مطابق افغان سرزمین پر دہشتگرد گروہوں کی موجودگی اور مبینہ پشت پناہی کے باعث افغانستان عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہے، جس کا براہِ راست اثر افغان عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔
Live آپریشن غضب للحق سے متعلق تازہ ترین معلومات