Live Updates

پاکستان کی معیشت استحکام کے آثار دکھا رہی ہے‘صدرایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ

ہفتہ 9 مئی 2026 21:16

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 09 مئی2026ء) وفاقی ایوانہائے صنعت و تجارت (ایف پی سی سی آئی)کے صدر عاطف اکرام شیخ نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت استحکام کے آثار دکھا رہی ہے۔ شرح نمو میں بہتری، کنٹرولڈ مہنگائی، غیر ملکی زر مبادلہ کی بڑھتی ہوئی استحکام اور سرمایہ کاروں کے نئے سرے سے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے صدر، ای سی او چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ای سی او سی سی آئی) کے صدر، سارک چیمبر کے سینئر نائب صدر اور کنفیڈریشن آف ایشیا پیسیفک چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (سی اے سی سی آئی) کے نائب صدر عاطف اکرام شیخ نے سی اے سی سی آئی کے پلیٹ فارم سے منعقدہ ایک اعلیٰ سطح کے ورچوئل سیشن میں‘‘پاکستان میں کاروبار: موجودہ رجحانات اور تازہ ترین پیش رفت’’کے موضوع پر جامع پریزنٹیشن دی۔

(جاری ہے)

ویبینار میں ایشیا پیسیفک خطے سے تعلق رکھنے والے 60 سے زائد سینئر نمائندوں، کاروباری رہنماؤں اور چیمبر ممبران نے شرکت کی۔ اپنی کلیدی پریزنٹیشن میں عاطف اکرام شیخ نے پاکستان کے بہتر ہوتے ہوئے میکرو اکنامک انڈیکیٹرز، اسٹریٹجک جغرافیائی مقام، نوجوان اور ہنر مند ورک فورس، تیزی سے پھیلتی ہوئی ڈیجیٹل اکانومی اور کلیدی شعبوں میں وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری کے مواقع پر روشنی ڈالی۔

ان شعبوں میں زراعت و فوڈ پروسیسنگ، انفارمیشن ٹیکنالوجی، معدنیات، لاجسٹکس، قابل تجدید توانائی، ٹورازم، ہاؤسنگ اینڈ کنسٹرکشن، ٹیکسٹائل اور آٹوموبائل مینوفیکچرنگ شامل ہیں۔پاکستان کے معاشی آؤٹ لُک پیش کرتے ہوئے انہوں نے شرکاء کو بتایا کہ پاکستان کی معیشت استحکام کے آثار دکھا رہی ہے۔ شرح نمو میں بہتری، کنٹرولڈ مہنگائی، غیر ملکی زر مبادلہ کی بڑھتی ہوئی استحکام اور سرمایہ کاروں کے نئے سرے سے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے پاکستان کے ٹریڈ ایگریمنٹس، ایکسپورٹ پوٹینشل، خصوصی اقتصادی زونز، سرمایہ کار دوست قانونی فریم ورک اور کاروباری ماحول کو مضبوط بنانے میں حکومت کی اصلاحات کے کردار کو بھی اجاگر کیا۔انٹرایکٹو سوال و جواب کے سیشن کے دوران CACCI کے مختلف ممالک کے ارکان نے پاکستان کی معاشی بنیادوں، صنعتی مقابلہ جاتی صلاحیت، علاقائی امیج اور سرمایہ کاری کے ماحول سے متعلق اہم سوالات اٹھائے۔

جناب عاطف اکرام شیخ نے پاکستان کے بنیادی معاشی چیلنجز، اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کے بطور سنگل ونڈو پلیٹ فارم کے کردار، غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری کے رجحانات، پاکستان کی صنعتی اور تجارتی پالیسیوں، ترجیحی اور فری ٹریڈ ایگریمنٹس، ٹیکسٹائل سیکٹر کے چیلنجز، یوٹیلیٹی اور فیول لاگت، ایکسپورٹ کی مقابلہ جاتی صلاحیت اور Moody’s سمیت بین الاقوامی ایجنسیوں کی کریڈٹ ریٹنگز پر جامع جوابات دیے۔

انہوں نے علاقائی جغرافیائی سیاسی صورتحال، بشمول امریکہ-ایران تنازع کے اثرات، علاقائی امن و استحکام کو فروغ دینے میں پاکستان کے تعمیری کردار اور جنوبی ایشیا سمیت دیگر خطوں میں ایک ذمہ دار معاشی اور سفارتی سٹیک ہولڈر کے طور پر پاکستان کے ابھرتے ہوئے کردار کے بارے میں بھی سوالات کا جواب دیا۔ عاطف اکرام شیخ نے زور دیا کہ پاکستان اپنی اسٹریٹجک کنیکٹیویٹی کی وجہ سے وسطی ایشیا، مشرق وسطیٰ، چین، جنوبی ایشیا اور یورپ سے جڑا ہوا ہے، جو اسے تجارت، لاجسٹکس اور سرمایہ کاری کا قدرتی مرکز بناتا ہے۔

اس لیے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے بہت بڑے مواقع موجود ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ ایف پی سی سی آئی پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی ادارہ ہے جو کاروبار، صنعت اور سروسز سیکٹرز کی نمائندگی کرتا ہے اورسی اے سی سی آئی کے رکن ممالک کے ساتھ معاشی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ایف پی سی سی آئی کی پوری وابستگی کا اعادہ کیا۔ شرکاء نے معلوماتی پریزنٹیشن کی تعریف کی اور پاکستان کے بڑھتے ہوئے معاشی پوٹینشل اور علاقائی تجارت و سرمایہ کاری میں اس کی اسٹریٹجک اہمیت کو تسلیم کیا۔عاطف اکرام شیخ نے سی اے سی سی آئی کے صدر پیٹر میک ملن، ڈائریکٹر جنرل سی اے سی سی آئی ڈارسن چیو اور تمام رکن چیمبروں کا ویبینار کو کامیاب بنانے میں فعال شرکت اور تعاون پر شکریہ ادا کیا۔
Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات