ٹرمپ مزید یورپی ملکوں سے فوج نکالنا چاہتے ہیںً اتحادی ممالک انتظار کرنے لگے

امریکی صدر نے جرمنی سے پانچ ہزار فوجی نکالنے کے رادے کا اعلان کیا ہے، اٹلی بھی شامل ہوسکتا،رپورٹ

اتوار 10 مئی 2026 12:15

�رسلز(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 10 مئی2026ء) یورپ میں امریکہ کے اتحادی اس بات کا انتظار کرنے لگے ہیں کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ جرمنی سے 5 ہزار فوجی نکالنے کے اپنے ارادے کے اعلان کے بعد، براعظم سے مزید امریکی فوجیں نکال لیں گے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق نے ایسے باخبر حکام ، جنہوں نے مشاورت کی حساسیت کی وجہ سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی، کے حوالے سے بتایا کہ نیٹو ممالک کے سینئر سفارت کار توقع کر رہے ہیں کہ ٹرمپ فوج میں مزید کٹوتیوں کا اعلان کریں گے۔

ان ملکوں میں اٹلی شامل ہو سکتا ہے۔ جرمنی میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی تنصیب کے جو بائیڈن کے دور کے منصوبے کی منسوخی بھی ٹرمپ کے اگلے اعلان میں شامل ہوسکتی ہے۔یورپ کے سینئر سفارتکاروں نے کہا کہ دیگر منظرناموں میں کچھ فوجی مشقوں میں امریکہ کی شرکت کا خاتمہ اور واشنگٹن جن ممالک سے خوش نہیں ہے وہاں سے فوجیں منتقل کر کے ان ممالک میں بھیجنا شامل ہو سکتا ہے جو امریکی صدر کے زیادہ حامی سمجھے جاتے ہیں۔

(جاری ہے)

یہ وہ خیال ہے جو ٹرمپ کی پہلی مدتِ صدارت سے متعلق ہے جب انہوں نے پولینڈ میں مزید فوجیں بھیجنے پر غور کیا تھا۔ بات کرنے والوں نے واضح کیا کہ انخلا کے بارے میں ان کی توقعات ٹرمپ کے عوامی بیانات اور نیٹو کے مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں اتحادی حکام کی اپنے امریکی ہم منصبوں کے ساتھ ہونے والی بات چیت پر مبنی ہیں۔ایک ذریعے نے بتایا کہ نیٹو کو ابھی تک یہ اطلاع نہیں دی گئی کہ جرمنی سے کون سا فوجی یونٹ نکالا جائے گا لیکن حکام کا خیال ہے کہ واشنگٹن تیزی سے انخلا پر عمل درآمد کے لیے کئی اختیارات پر غور کر رہا ہے۔

سپین، جس نے ٹرمپ کو خاص طور پر ناراض کیا تھا، واحد ملک تھا جسے دفاع پر جی ڈی پی کا پانچ فیصد خرچ کرنے کے نیٹو کے نئے ہدف سے استثنی ملا۔ اس کی وجہ سے روٹا یا مورون کے اڈوں پر امریکی موجودگی میں ممکنہ کمی کی قیاس آرائیاں کی گئیں۔ امریکی صدر کے بیانات اور نیٹو کے سفارت کاروں کے درمیان بے چینی کی لہر نے ٹرمپ اور یورپی ملکوں کے درمیان طویل عرصے سے جاری تنا کو بڑھا دیا ہے۔

یہ تنا ان کی دوسری مدتِ صدارت کے دوران مزید بدتر ہو گیا ہے۔اس تشویش کے مقابلے میں حقیقت یہ بھی ہے کہ ٹرمپ نے بارہا نیٹو سے امریکہ کی علیحدگی کا اشارہ دیا ہے لیکن عملی طور پر ایسا نہیں کیا۔ غالبا اس کی وجہ جزوی طور پر ٹرمپ اور ان کے مشیروں کا یہ ادراک ہے کہ مستقل علیحدگی یا بڑے پیمانے پر انخلا امریکی مفادات کو اس سے زیادہ نقصان پہنچا سکتا ہے جتنا کہ یہ صدر کی ایسے ممالک کو سزا دینے کی خواہش کو پورا کرے گا جنہیں ان سے دور سمجھا جاتا ہے۔

امریکی فوج کے ریٹائرڈ میجر جنرل اور نیٹو کے سابق اعلی عہدیدار گورڈن ڈیوس، جو اس وقت سینٹر فار یورپی پالیسی انالیسس میں سینئر فیلو ہیں، نے کہا ہے کہ اگر ہم اپنی افواج یا فوجی موجودگی کو نمایاں طور پر کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تو ہمیں اتنا ہی یا اس سے زیادہ نقصان پہنچے گا جتنا کہ ان یورپی ملکوں کو ہوگا جنہیں ہم سزا کا ہدف بنا سکتے ہیں۔

واضح رہے اس وقت یورپی براعظم میں تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد تقریبا 85 ہزار ہے۔ یہ تعداد وقت کے ساتھ ساتھ بدلتی رہتی ہے کیونکہ کچھ یونٹ وطن واپس جاتے ہیں یا فوجی مشقوں میں شرکت کے لیے امریکی موجودگی کو بڑھایا جاتا ہے۔ پورے یورپ میں پھیلے ہوئے اڈے مشرق وسطی، افریقہ اور وسطی ایشیا کی طرف تیز رفتار تعیناتی کے لیے ایک نقطہ آغاز ہیں۔

اسی طرح مشرقی یورپ میں امریکی موجودگی اتحادیوں کے لیے اطمینان کا باعث ہے اور روس کے خلاف مزاحمت کو مضبوط کر رہی ہے۔ٹرمپ کے غصے کے باوجود نیٹو کے حکام اور سینئر سفارت کاروں نے کہا ہے کہ ان کا اب بھی یہ ماننا ہے کہ کانگریس کی جانب سے عائد کردہ ضوابط اور یورپ پر واشنگٹن کا سٹریٹجک انحصار صدر ٹرمپ کی بنیادی تبدیلیاں لانے کی صلاحیت کو محدود کر دے گا۔

اس وقت جب گزشتہ ہفتے ٹرمپ نے جرمنی سے 5 ہزار فوجی نکالنے کے اپنے منصوبے کا اعلان کیا تو کچھ قانون سازوں نے سوال اٹھایا تھا کہ کیا یہ قدم پچھلے سال کانگریس کے منظور کردہ ایک قانون کے مقصد کے خلاف ہے۔ اس قانون میں یورپ میں امریکی فوجی موجودگی کو 76 ہزار فوجیوں سے کم کرنے سے پہلے اس کی منظوری حاصل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔مذاکرات سے واقف تین افراد ، جنہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی، نے کہا ہے کہ حال ہی میں امریکی نائب وزیر دفاع ایلبرج کولبی اور نیٹو کے تقریبا 12 رکن ملکوں کے سفیروں کے درمیان ایک نتیجہ خیز ملاقات ہوئی جس میں نیٹو 3.0 کے نام سے جانی جانے والی کوشش پر توجہ مرکوز کی گئی۔

یہ ایک امریکی اقدام ہے جس کا مقصد یورپ کو اپنے دفاع کی بنیادی ذمہ داری اٹھانے کے لیے تیار کرنا ہے۔اس بات کا قوی امکان ہے کہ نیٹو کے کچھ اتحادی امریکی وسائل کو مشرق کی طرف منتقل کرنے کی حمایت کریں گے کیونکہ سرد جنگ کے دور کے مقابلے میں روس کے ساتھ مقابلے کے بنیادی مرکز کے طور پر جرمنی کا کردار کم ہو گیا ہے۔ پولینڈ، جو اپنی اقتصادی پیداوار کے لحاظ سے دفاع پر سب سے زیادہ خرچ کرنے والا نیٹو ملک ہے، اپنی سرزمین پر امریکی فوجی موجودگی بڑھانے کے لیے دبا ڈال رہا ہے۔ اسی طرح امریکہ یونان اور پولینڈ میں سودا بے اور کیمپ کوشیٹسکو کے اڈوں کو وسعت دے رہا ہے جس سے وہاں امریکی افواج کی منتقلی کے امکانات کو تقویت مل رہی ہے۔