مودی کے ہندوتوا ایجنڈے، نام نہاد جمہوری نظام پر ایک بار پھر سنگین سوالات اٹھنے لگے

منگل 12 مئی 2026 22:13

نئی دہلی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 12 مئی2026ء) بھارت میں وزیراعظم نریندر مودی کے ہندوتوا ایجنڈے اور نام نہاد جمہوری نظام پر ایک بار پھر سنگین سوالات اٹھنے لگے ہیں، جبکہ مغربی بنگال میں مبینہ انتخابی دھاندلی اور مسلمان مخالف بیانیے نے بھارتی جمہوریت کا اصل چہرہ بے نقاب کر دیا ہے۔امریکی جریدے نیویارک ٹائمز کے مطابق مودی کی ہندو قوم پرست جماعت نے بڑی اپوزیشن ریاست مغربی بنگال میں بھی کامیابی کا اعلان کر کے جمہوری اقدار کو شدید نقصان پہنچایا۔

رپورٹ کے مطابق مودی ایک ایسے بھارت کی قیادت کر رہے ہیں جہاں اپوزیشن کے پاس تقریبا کوئی موثر سیاسی طاقت باقی نہیں رہی، جبکہ مخالفین کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت ریاستی اداروں کو اپوزیشن کو ہراساں کرنے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔

(جاری ہے)

امریکی جریدے نے مزید کہا کہ مودی کے زیر اثر بھارتی الیکشن کمیشن نے بہار اور مغربی بنگال میں مسلم ووٹرز کے نام غیر منصفانہ طور پر ووٹر فہرستوں سے خارج کیے۔

رپورٹ کے مطابق ووٹر لسٹوں میں تبدیلی اور مسلم مخالف جذبات کو ابھار کر ہندو ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کی گئی، جبکہ مودی کی زیر قیادت بی جے پی بھارت میں سخت گیر ہندو قوم پرستی کو فروغ دے رہی ہے۔عالمی ماہرین کے مطابق بھارت میں اختلافِ رائے اور ادارہ جاتی غیر جانبداری کو ختم کر کے مودی نے ایک آمرانہ طرزِ حکمرانی کو فروغ دیا ہے، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ اقتدار کے حصول کیلئے منظم دھاندلی اور اشتعال انگیز سیاست کو بطور ہتھکنڈا استعمال کیا جا رہا ہے۔