اسلام آباد ہائیکورٹ، سینٹرل سلیکشن بورڈ کے فیصلے کالعدم، 21 افسران کو ترقی کیلئے ازسرنو زیر غور لانے کا حکم

عدالت نے ایڈمنسٹریٹو سروس اور سول سروس سے تعلق رکھنے والے 21 افسران کی درخواستوں پر فیصلہ جاری کر دیا

Mian Nadeem میاں محمد ندیم جمعرات 14 مئی 2026 15:11

اسلام آباد ہائیکورٹ، سینٹرل سلیکشن بورڈ کے فیصلے کالعدم، 21 افسران ..
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔14 مئی ۔2026 ) اسلام آباد ہائی کورٹ نے سینٹرل سلیکشن بورڈ کے فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے 21 افسران کو ترقی کیلئے ازسرنو زیر غور لانے کا حکم دےدیا ہے عدالت نے پولیس سروس، پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس اور سول سروس سے تعلق رکھنے والے 21 افسران کی درخواستوں پر فیصلہ جاری کر دیا، اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس انعام امین منہاس نے تفصیلی فیصلہ جاری کیا. عدالت نے گریڈ 20 اور 21 میں ترقی سے محروم رہنے والے 21 افسران کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے سینٹرل سلیکشن بورڈ کو پروموشن رولز 2019 کے مطابق ان افسران کی ترقیوں پر نئے سرے سے زیرغور لانے کا حکم دیا.

(جاری ہے)

تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ پٹشنرز کے کیسز کا مروجہ طریقہ کار کے مطابق جائزہ لیا جائے اور منفی رائے کی صورت میں واضح وجوہات ریکارڈ پر لائی جائیں درخواست گزاروں میں ڈاکٹر مطاہر شاہ، اقبال احمد شیخ، شکیل احمد شکیل، مرزا ناصر علی، مطیع الرحمن ممتاز، ولایت خان، سید علی عدنان زیدی، محمد زاہد، ممتاز علی بوہیو، محمد امین قریشی اور عتیق الرحمن، محمد اسلم جمرو، ڈاکٹر محمد اختر عباس، نثار احمد خان، بلال احمد بٹ، ساجد حسین آرائیں اور ارباب قیصر احمد شامل ہیں ناصر خان، اسرار احمد خان، مجاہد اکبر خان اور آغا محمد یوسف نے ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کی تھی.