خواجہ آصف کا وقفہ سوالات اور توجہ دلا نوٹس کے دوران طویل تقاریر پر اعتراض‘ ایوان کا قیمتی وقت ضائع ہوتا ہے،وزیردفاع

جمعرات 14 مئی 2026 19:03

خواجہ آصف کا وقفہ سوالات اور توجہ دلا نوٹس کے دوران طویل تقاریر پر اعتراض‘ ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 14 مئی2026ء) قومی اسمبلی کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران اہم قومی، عوامی اور ٹیکنالوجی سے متعلق امور زیر بحث آئے جبکہ ارکان اسمبلی نے مختلف معاملات پر حکومت سے وضاحت طلب کی۔ اجلاس میں مردان میں طوفان سے ہونے والے نقصانات، ممکنہ سیلابی صورتحال، ڈیجیٹل ہراسمنٹ، آئی ٹی ایکسپورٹس، فائیو جی سروسز، پے پال کی پاکستان آمد اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سمیت مختلف معاملات پر گفتگو کی گئی۔

اجلاس کے آغاز پر مردان میں طوفان سے ہونے والے نقصانات کا معاملہ اٹھایا گیا۔ رکن اسمبلی نعیمہ کشور نے کہا کہ مردان میں طوفان کے باعث املاک کو شدید نقصان پہنچا تاہم ابھی تک سروے کے لیے اقدامات نہیں کیے گئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ متاثرین کے نقصانات کے معاوضے کے لیے حکومت فوری اقدامات کرے۔

(جاری ہے)

کورم مکمل ہونے پر اجلاس کی کارروائی دوبارہ شروع ہوئی۔

اس موقع پر بیرسٹر گوہر نے کہا کہ انہوں نے گزشتہ روز ہائی رائز بلڈنگز سے متعلق بل پر بات کی تھی مگر ان کی تقریر کو میوٹ کر دیا گیا، جس پر انہیں افسوس ہوا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اپوزیشن ایسی کون سی بات کرتی ہے کہ مائیک بند کر دیا جاتا ہے۔وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے وقفہ سوالات اور توجہ دلا نوٹس کے دوران طویل تقاریر پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ایوان کا قیمتی وقت ضائع ہوتا ہے، اس لیے مختصر سوال اور مختصر جواب کی روایت اپنائی جائے۔

رکن اسمبلی طارق فضل چوہدری نے کہا کہ ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر لاکھوں افراد کو پہلے ہی محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا اور تمام صوبوں کو بروقت اور تازہ ترین ڈیٹا فراہم کیا جاتا ہے۔ڈیجیٹل ہراسمنٹ اور ڈیٹا چوری سے متعلق سوالات کے جواب میں وفاقی وزیر مملکت برائے آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ حکومت کی جانب سے عوام کو او ٹی پیز اور پن شیئر نہ کرنے سے متعلق ایڈوائزریز جاری کی جاتی ہیں اور آگاہی اس حوالے سے نہایت اہم کردار ادا کرتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ صورتحال میں کچھ بہتری آئی ہے جبکہ شازیہ مری نے زور دیا کہ اس حوالے سے باقاعدہ آگاہی مہم چلائی جائے اور میڈیا ہاؤسز کو بھی شامل کیا جائے۔شزا فاطمہ خواجہ نے مزید کہا کہ رواں سال آئی ٹی ایکسپورٹس 4.5 بلین ڈالر سے تجاوز کر جائیں گی جبکہ سالانہ پانچ لاکھ سے زائد نوجوانوں کو تربیت دی جا رہی ہے۔ شرمیلا فاروقی نے فائیو جی اسپیکٹرم آکشن کے بعد انٹرنیٹ سہولیات میں بہتری سے متعلق سوال کیا جس پر وزیر مملکت نے کہا کہ فور جی انٹرنیٹ سروس مزید بہتر ہو جائے گی۔

رکن اسمبلی شاہدہ اختر علی نے پاکستان میں پے پال متعارف کرانے سے متعلق سوال بھی اٹھایا۔ عالیہ کامران کے سوال کے جواب میں وفاقی وزیر سید عمران احمد شاہ نے بتایا کہ اس وقت صرف بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت 10.2 ملین افراد کی کفالت کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی آئی ایس پی مختلف فلاحی پہلوؤں پر کام کر رہا ہے، مستحقین کو اے ٹی ایم کارڈ کی طرز پر سمز فراہم کی گئی ہیں جبکہ بے نظیر ہنر مند پروگرام کے تحت نوجوانوں کو فنی مہارتیں سکھائی جائیں گی۔