Live Updates

قومی ڈائیلاگ کونسل کے زیراہتمام کانفرنس میں مہنگائی، معاشی بحران اور سیاسی اصلاحات پر قومی مکالمے کا مطالبہ

ملک کو سیاسی عدم استحکام، معاشی بحران اور بدعنوانی سے نکالنے کے لیے تمام جمہوری قوتوں کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا،اعلامیہ

اتوار 17 مئی 2026 21:45

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 17 مئی2026ء) قومی ڈائیلاگ کونسل کے زیرِ اہتمام کراچی میں قومی اتحاد کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں ملک کی مختلف سیاسی جماعتوں، مذہبی و سماجی حلقوں اور قومی شخصیات نے شرکت کی۔ کانفرنس میں ملک کی موجودہ سیاسی، معاشی، داخلی اور خارجی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا، جبکہ بڑھتی مہنگائی، بدامنی، معاشی ابتری اور حکومتی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

کانفرنس کے اختتام پر جاری مشترکہ اعلامیے میں حکومت کی پیٹرولیم مصنوعات سے متعلق پالیسیوں کو عوام دشمن قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ ایران میں جنگ کے آغاز کے بعد حکومت نے مسلسل ریفائنریوں اور پیٹرولیم کمپنیوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے فیصلے کیے، جن کے باعث عوام پر مہنگائی کا مزید بوجھ پڑا۔

(جاری ہے)

اعلامیے میں مطالبہ کیا گیا کہ ان فیصلوں کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں تاکہ مفادات کے تصادم اور بدعنوانی کے پہلو سامنے لائے جا سکیں۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ پاکستان کے عوام اس وقت خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ مہنگی بجلی، گیس، پیٹرول اور ڈیزل خریدنے پر مجبور ہیں۔ مقررین نے دعوی کیا کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بھاری ٹیکس شامل کیے گئے ہیں، جس سے عام آدمی کی زندگی شدید متاثر ہوئی ہے۔کانفرنس کے شرکا نے وفاقی حکومت کی معاشی پالیسیوں کو ناکام قرار دیتے ہوئے کہا کہ قومی قرضوں، ٹیکسوں اور مہنگائی میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے جبکہ عوام کی حقیقی آمدنی میں مسلسل کمی آرہی ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ موجودہ حکمران اتحاد عوامی فلاح، معاشی استحکام اور بااختیار بلدیاتی نظام قائم کرنے میں ناکام ہو چکا ہے۔شرکا نے زور دیا کہ ملک کو درپیش بحرانوں سے نکالنے کے لیے بڑے آئینی اور انتظامی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ ان اصلاحات میں بااختیار بلدیاتی نظام، چھوٹے صوبوں کا قیام، قومی مالیاتی کمیشن میں اصلاحات، حکومتی اخراجات میں کمی اور بدعنوانی کے خلاف مثر احتساب شامل ہونا چاہیے۔

کانفرنس میں اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا کہ ملک میں سیاسی کشیدگی کم کیے بغیر قومی مکالمہ ممکن نہیں۔ شرکا نے مطالبہ کیا کہ بیمار سیاسی قیدیوں کو فوری طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور تمام سیاسی قوتوں کے درمیان مذاکرات کا آغاز کیا جائے تاکہ قومی مفاہمت کی راہ ہموار ہو سکے۔اعلامیے میں قومی حکومت کے قیام کی تجویز کو بھی قابلِ عمل قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ بنیادی اصلاحات کے بعد شفاف، آزادانہ اور غیر جانبدارانہ انتخابات کرائے جائیں تاکہ ملک میں سیاسی و معاشی استحکام ممکن بنایا جا سکے۔

کانفرنس میں مختلف سیاسی و سماجی شخصیات نے شرکت کی، جن میں سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل، محمود مولوی، بیرسٹر محمد علی سیف، سینیٹر شہزاد وسیم، فواد چوہدری، مفتاح اسماعیل، آفاق احمد، وسیم اختر، بابر غوری، شبر زیدی، علی حسین نقوی، اسلم غوری، عاطف جتوئی، عرفان اللہ مروت، بہروز سبزواری، علامہ سمیع الحق سواتی، قاری عثمان، ندیم بیگ، نواب جان کاکڑ اور دیگر شامل تھے۔شرکا نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ملک کو سیاسی عدم استحکام، معاشی بحران اور بدعنوانی سے نکالنے کے لیے تمام جمہوری قوتوں کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات