Live Updates

آبادی پرقابو پانے کیلئے نیشنل پاپولیشن کونسل کاقیام، بڑھتی آبادی ترقی کیلئے بڑا چیلنج ہے، وزیراعظم

آبادی کی منصوبہ بندی کو قومی ترقی، معاشی استحکام اور انسانی وسائل کی بہتری سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے، شہباز شریف

منگل 30 جون 2026 22:05

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 30 جون2026ء) وزیراعظم شہباز شریف نے بڑھتی ہوئی آباد کو قومی وسائل پر دبا اور ترقی کے لیے بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے نیشنل پاپولیشن کونسل کا پہلا اجلاس جلد طلب کرنے کی ہدایت کردی۔ منگل کو جاری بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت بہبود آبادی کے حوالے سے اہم اجلاس ہوا جس میں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وزیر مملکت برائے خزانہ اور ریلوے بلال اظہر کیانی اور متعلقہ اعلی سرکاری افسران نے شرکت کی۔

اجلاس کو ملک کی بڑھتی آبادی اور کنٹرول و بہبود کے حوالے سے اقدامات پر بریفنگ دی گئی ہے، جس میں بتایا گیا کہ سماجی تحفظ کے پروگراموں کو خاندانی منصوبہ بندی سے جوڑا جائے گا، خواتین کی تعلیم اور انہیں معاشی طور پر بااختیار بنانا آبادی پر قابو پانے کی حکمت عملی کا اہم جزو ہوگا۔

(جاری ہے)

بریفنگ میں بتایا گیا کہ آبادی میں توازن اور قابو پر مثر آگاہی مہم چلائی جائے گی، اسلامی ممالک بنگلہ دیش، انڈونیشیا اور ایران میں آبادی پر قابو پانے کے کامیاب پروگرام چل رہے ہیں، قومی پاپولیشن کونسل صوبائی حکومتوں کے تعاون سے قومی سطح پر مثر مہم چلانے میں مددگار ثابت ہو گی اور نیشنل پاپولیشن کونسل کا سیکریٹریٹ وزارت منصوبہ بندی ہو گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ وسائل اور آبادی میں توازن ہی پائیدار ترقی کی ضمانت ہے، تیزی سے بڑھتی آبادی سے قومی وسائل پر دبا ئوبڑھ رہا ہے اور ترقی کیلئے بڑا چیلنج ہے۔انہوں نے کہا کہ آبادی کی منصوبہ بندی کو قومی ترقی، معاشی استحکام اور انسانی وسائل کی بہتری سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے۔وزیراعظم نے نیشنل پاپولیشن کونسل کا افتتاحی اجلاس جلد از جلد طلب کرنے اور قومی سطح پر آبادی سے متعلق پالیسی سازی کے لیے نیشنل پاپولیشن کونسل کا تنظیمی ڈھانچہ جلد از جلد مرتب کرنے کی ہدایت کی۔

نیشنل پاپولیشن کونسل کی سربراہی وزیراعظم خود کریں گے، نیشنل پاپولیشن کونسل میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلی، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر، وزیراعلی گلگت بلتستان اور دیگر اسٹیک ہولڈرز شامل ہوں گے۔
Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات