ہالینڈ اور وینزویلا سے آئی غیرملکی خواتین کو اغواء کرکے جنسی زیادتی کا نشانہ بنادیا گیا

ملزم نے دونوں خواتین کو پاکستان آنے کی دعوت دی، اغواء کے بعد ان کے اہلخانہ سے 15 لاکھ امریکی ڈالر تقریباً 41 کروڑ پاکستانی روپے تاوان کا مطالبہ کیا، پولیس نے 4 ملزمان کو گرفتار کرلیا

Sajid Ali ساجد علی جمعرات 2 جولائی 2026 17:47

ہالینڈ اور وینزویلا سے آئی غیرملکی خواتین کو اغواء کرکے جنسی زیادتی ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جولائی 2026ء) صوبائی دارالحکومت لاہور کے پوش علاقے ڈیفنس میں غیر ملکی خواتین کے ساتھ اغواء اور مبینہ زیادتی کا ایک واقعہ پیش آیا ہے جہاں ہالینڈ اور وینزویلا سے پاکستان آنے والی دو غیر ملکی خواتین کو یرغمال بنا کر ان کے اہلخانہ سے خطیر رقم بطور تاوان مانگی گئی، لاہور پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزم سمیت 4 افراد کو گرفتار کرلیا۔

اطلاعات کے مطابق گرفتار ہونے والے مرکزی ملزم رضا ڈار نے ہالینڈ اور وینزویلا سے تعلق رکھنے والی دونوں غیرملکی خواتین سے رابطہ قائم کیا، انہیں گھومنے پھرنے اور پاکستان کی سیر کرنے کی دعوت دی، ملزم کی باتوں میں آ کر دونوں خواتین پاکستان پہنچیں جہاں وہ اس ہولناک سازش کا شکار ہو گئیں۔

(جاری ہے)

بتایا گیا ہے کہ ملزم رضا ڈار اور اس کے ساتھیوں نے دونوں غیرملکی خواتین کو لاہور کے علاقے ڈیفنس میں ناصرف حبسِ بے جا میں رکھا اور اغوا کیا بلکہ مبینہ طور پر انہیں درندگی اور جنسی زیادتی کا نشانہ بھی بنا ڈالا، ملزمان نے دونوں خواتین کو چھوڑنے کے عوض ان کے بیرونِ ملک مقیم اہلخانہ سے 15 لاکھ امریکی ڈالر تقریباً 41 کروڑ پاکستانی روپے تاوان کا مطالبہ بھی کردیا۔

معلوم ہوا ہے کہ غیر ملکی خواتین کے اغواء اور تاوان کے مطالبے کی اطلاع ملتے ہی لاہور پولیس کی اعلیٰ قیادت فوری طور پر متحرک ہوگئی، پولیس کی خصوصی ٹیموں نے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ملزمان کے ٹھکانے کا سراغ لگایا اور ڈیفنس کے علاقے میں کامیاب چھاپہ مار کارروائی کے نتیجے میں مرکزی ملزم رضا ڈار سمیت 4 ملزمان کو گرفتار کرلیا، پولیس نے خواتین کو ملزمان کے چنگل سے بازیاب کروا کر محفوظ مقام پر منتقل کردیا۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ غیر ملکی خواتین کے ساتھ پیش آنے والے اس سنگین واقعے کی ایف آئی آر درج کر کے تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے، اور ملک کی بدنامی کا باعث بننے والے ان درندوں کو سخت ترین قانونی سزا دلوانے کے لیے تمام سائنسی و فارنزک شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔