خیبرپختونخوا میں زیادہ بجلی پیدا ہوتی ہے، آئین کے مطابق بجلی پر پہلا حق ہمارے صوبے کا بنتا ہے

جیسے مریم نواز کا رویہ دیکھ لیں، وہ کہتی گندم پنجاب کی پیداوار ہے، وفاق بجلی چوروں کے خلاف کارروائی کرے، صوبائی حکومت مکمل تعاون کے لیے تیار ہے۔ اسد قیصر

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ جمعرات 2 جولائی 2026 18:58

خیبرپختونخوا میں زیادہ بجلی پیدا ہوتی ہے، آئین کے مطابق بجلی پر پہلا ..
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 02 جولائی 2026ء ) پی ٹی آئی کے رہنماء اسد قیصر نے کہا ہے کہ حکومت عوام کو نہ ریلیف دے سکی اور نہ ہی کاروبار دے سکی، 4 جولائی کو تاجر برادری کی ہڑتال کی حمایت کا اعلان کرتے ہیں ، ملک میں بدامنی کی ذمہ داری بھی وفاقی حکومت پر عائد ہوتی ہے، مطالبہ کرتے ہیں کہ نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد کیا جائے۔

انہوں نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا میں سب سے زیادہ بجلی پیدا ہوتی ہے۔صرف تربیلا ڈیم سے 6,298 میگاواٹ اور ورسک ڈیم سے 243 میگاواٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے، جبکہ ہمارے صوبے کی کل ضرورت 3,300 میگاواٹ ہے۔ اس کے باوجود وفاق کبھی 2,200، کبھی 2,400 اور کبھی 2,500 میگاواٹ بجلی فراہم کرتا ہے۔ آج کل جو لوڈشیڈنگ میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے، وہ فورسڈ لوڈشیڈنگ ہے۔

(جاری ہے)

ہمارا پہلا مطالبہ یہ ہے کہ آئین کے مطابق اس بجلی پر پہلا حق ہمارے صوبے کا بنتا ہے۔ آئینِ پاکستان کے مطابق قدرتی وسائل اور ان کی پیداوار پر پہلا حق اسی صوبے کا ہوتا ہے جہاں وہ پیدا ہوتے ہیں۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمارے صوبے کی ضرورت کے مطابق 3300 میگاواٹ بجلی فراہم کی جائے اور خیبرپختونخوا میں لوڈشیڈنگ کو مکمل طور پر ختم کیا جائے۔

یہ کہتے ہیں کہ بجلی چوری ہو رہی ہے۔ ہم نے عوامی طور پر بھی کہا ہے کہ بجلی چوروں کے خلاف کارروائی کی جائے، صوبائی حکومت اس سلسلے میں مکمل تعاون کے لیے تیار ہے۔ گندم پنجاب کی پیداوار ہے، آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اس معاملے میں مریم نواز کا رویہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان اس وقت جیل میں ہیں۔ ان پر جتنے بھی مقدمات ہیں، اگر ان پر میرٹ کے مطابق کارروائی ہو تو وہ ایک دن بھی جیل میں نہیں رہیں گے۔

یہ تمام مقدمات بدنیتی، من گھڑت الزامات، جعلی شواہد اور سیاسی انتقام کی بنیاد پر قائم کیے گئے ہیں۔ عمران خان، ان کی اہلیہ اور کوٹ لکھپت جیل کے دیگر قیدیوں کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔ عمران خان کی ملاقاتیں بھی بند کر دی گئی ہیں، جبکہ ان کے دیگر آئینی حقوق اور علاج کی سہولیات بھی فراہم نہیں کی جا رہیں۔ یہ بدترین انسانی حقوق کی پامالی ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیمیں کہاں ہیں ان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ان معاملات کو اجاگر کریں، مگر افسوس کہ ہیومن رائٹس کی تنظیمیں بھی خاموش ہیں۔ ڈاکٹر یاسمین راشد، جن کی عمر 70 سال سے زائد ہے، کینسر کی مریضہ ہیں۔ سینیٹر اعجاز چوہدری سینئر شہری ہیں اور علیل ہیں، جبکہ بشریٰ بی بی بھی ایک خاتون ہیں۔انسانی حقوق کے تقاضوں کے تحت کم از کم ان دو خواتین اور ایک بیمار شخص کو تو رہا کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد کیا جائے۔ یہاں جو بدامنی ہے، اس کی ذمہ داری وفاقی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ وفاقی حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے امن و امان کی صورتِ حال مسلسل خراب ہو رہی ہے۔ ہم روزانہ لاشیں اٹھا اٹھا کر تنگ آ چکے ہیں۔ یہ حکومت نہ کوئی ریلیف دے سکی، نہ کاروبار کے مواقع فراہم کر سکی اور نہ ہی روزگار دے سکی۔

اس وقت وفاق نے پی ایس ڈی پی میں خیبر پختونخوا کے لیے صرف 3.8 فیصد حصہ رکھا ہے۔ وفاق کے ذمے خیبر پختونخوا کے 434 ارب روپے کے بقایاجات ہیں، جن میں نیٹ ہائیڈل پرافٹ، آئل اینڈ گیس رائلٹی اور این ایف سی میں ہمارا حصہ شامل ہے۔ آپ نے سرتاج عزیز صاحب کی کمیٹی میں یہ کمٹمنٹ کی تھی کہ ضم شدہ اضلاع (سابق فاٹا) کے لیے ہر سال 100 ارب روپے کا فنڈ فراہم کیا جائے گا، مگر آپ نے تمام ذمہ داری صوبائی حکومت پر ڈال دی۔

اس وقت ضم شدہ اضلاع کے لیے فنڈز بھی صوبائی حکومت فراہم کر رہی ہے، جس سے صوبائی حکومت پر مزید مالی بوجھ پڑ رہا ہے۔ اسد قیصر نے کہا کہ اسد قیصر نے کہا کہ اس وقت جو مایوسی ہے، اس کی ذمہ دار وفاقی حکومت ہے۔ جو بے روزگاری ہے، اس کی ذمہ دار بھی وفاقی حکومت ہے۔ امن و امان کی خراب صورتِ حال اور دہشت گردی کی ذمہ داری بھی وفاقی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔

اس وقت جو لوڈشیڈنگ، ملک میں بے چینی، بے قراری اور گھٹن کی کیفیت ہے، اس کی ذمہ دار بھی وفاقی حکومت ہے۔ ہم تاجر برادری سے ملیں گے، کسانوں کے پاس جائیں گے اور طلبہ سے بھی رابطہ کریں گے۔ جنید اکبر نے 4 جولائی کو تاجر برادری کی ہڑتال کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ ہم اپنے اپنے حلقوں میں بجلی کی ناروا لوڈشیڈنگ کے خلاف آواز اٹھائیں گے اور اس کے خلاف جلسے اور جلوس منعقد کریں گے۔ یہ خیبر پختونخوا کے ساتھ اس لیے ظلم کر رہے ہیں کہ یہاں کے عوام نے عمران خان کو ووٹ دیا۔ خیبر پختونخوا آج بھی عمران خان کے ساتھ کھڑا ہے۔