دریائے سندھ کے پانی اور وسائل پر ڈاکہ کسی صورت قبول نہیں، ڈاکٹر نیاز کالانی

جیئے سندھ قومی محاذ کی حکومت پر شدید تنقید، 8 جولائی کو سجاول میں احتجاجی ریلی کا اعلان

جمعرات 2 جولائی 2026 20:15

بدین (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جولائی2026ء) جیئے سندھ قومی محاذ(شہید بشیر خان گروپ)کے چیئرمین ڈاکٹر نیاز کالانی نے کہا ہے کہ دریائے سندھ سے مبینہ طور پر چھ نہریں نکالنے کے منصوبے اور سندھ کے قدرتی وسائل پر قبضے کی کوششیں کسی صورت قبول نہیں کی جائیں گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ دریائے سندھ کے تحفظ کے لیے 8 جولائی کو سجاول میں بڑی احتجاجی ریلی نکالی جائے گی۔

بدین پریس کلب میں پارٹی کے مرکزی رہنما پنھل ساریو، امیر بخش سومرو، جاوید چانگ، تنویر کاتیار، غلام رسول انڑ اور دیگر رہنماں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر نیاز کالانی نے کہا کہ ببرلو بائی پاس پر سندھ کے عوام کے تاریخی دھرنے نے واضح کر دیا کہ دریائے سندھ پر کسی بھی قسم کا’’ڈاکہ‘‘سندھی عوام کو قبول نہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے دعویٰ کیا کہ عوامی دبا کے باعث حکومت نے وقتی طور پر نہری منصوبوں پر کام روکا، تاہم اب پنجاب میں دوبارہ ان منصوبوں پر کام شروع کر دیا گیا ہے، جس پر سندھ کے عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔

ڈاکٹر نیاز کالانی نے الزام عائد کیا کہ 1972 سے چشمہ۔جہلم لنک کینال اور تونسہ۔پنجند لنک کینال کے ذریعے دریائے سندھ کا پانی غیر قانونی طور پر پنجاب منتقل کیا جا رہا ہے، جس کے باعث بدین، ٹنڈو محمد خان، سجاول اور ٹھٹھہ سمیت زیریں سندھ کے علاقے شدید متاثر ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق ان علاقوں میں زراعت تباہ ہو رہی ہے اور پینے کے صاف پانی کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ چشمہ۔جہلم اور تونسہ۔پنجند لنک کینالز کو فوری طور پر بند کیا جائے اور دریائے سندھ کے پانی کی مبینہ غیر قانونی منتقلی کا سلسلہ روکا جائے۔ڈاکٹر نیاز کالانی نے کہا کہ کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کی کسی بھی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے سندھ حکومت اور منتخب نمائندوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر وہ واقعی سندھ کے مفادات کے محافظ ہیں تو انہیں دریائے سندھ کے پانی، کوئلے، گیس اور دیگر قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے مثر کردار ادا کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود عوام گیس، بجلی، پینے کے صاف پانی اور دیگر بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پریا کماری کے اغوا کو پانچ سال گزر جانے کے باوجود اس کی بازیابی نہ ہونا حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔اس موقع پر پارٹی رہنما پنھل ساریو اور دیگر رہنماں نے بھی سندھ میں منشیات کے پھیلا، بے روزگاری اور دیگر عوامی مسائل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مثر اقدامات کا مطالبہ کیا۔