ملاکنڈ میں مجوزہ ٹیکس نفاذ مسترد، آل پارٹیز کانفرنس کا ٹیکس استثنیٰ برقرار رکھنے کا مطالبہ

مطالبات منظور نہ ہونے پر مشترکہ احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان، حکومت ٹیکس سے پہلے علاقے کی ترقی یقینی بنائے، مشترکہ اعلامیہ جاری

جمعہ 10 جولائی 2026 20:00

سوات (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 10 جولائی2026ء) ملاکنڈ ڈویژن میں مجوزہ ٹیکس نفاذ کے خلاف قومی تڑون جرگہ بابوزئی سوات کے زیر اہتمام مینگورہ کے ایک مقامی ہوٹل میں منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس نے حکومت کے اقدامات کو مسترد کرتے ہوئے متفقہ مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا، جس میں کہا گیا کہ ملاکنڈ ڈویژن کی آئینی و قانونی حیثیت اور دہائیوں سے حاصل ٹیکس استثنی کو ختم کر کے کسی بھی نئے ٹیکس کا نفاذ کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔

کانفرنس میں مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کے ضلعی قائدین، وکلا، تاجر برادری، چیمبر آف کامرس، سول سوسائٹی، عوامی نمائندوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ شرکا میں پاکستان تحریک انصاف کے ڈویژنل صدر و رکن صوبائی اسمبلی فضل حکیم خان، ملاکنڈ ڈویژن ٹریڈرز فیڈریشن کے صدر عبدالرحیم، پشاور ہائی کورٹ مینگورہ بنچ بار ایسوسی ایشن کے صدر رضا الدین ایڈووکیٹ، مسلم لیگ (ن)کے ڈویژنل صدر واجد علی خان، قومی تڑون کے ترجمان عرفان چٹان، حاجی اسحاق زاہد، سوات چیمبر آف کامرس کے عدنان خان اور یوسف علی، جماعت اسلامی مینگورہ کے امیر محمد امین، مسلم لیگ (ن)کے ضلعی صدر قوی خان، پیپلز پارٹی کے ڈویژنل صدر اکرام خان، جمعیت علمائے اسلام کے ضلعی صدر مولانا سید قمر، اے این پی کے ضلعی ایڈیشنل سیکرٹری اکرام خان، قومی وطن پارٹی کے ضلعی صدر شیر بہادر خان، ہوٹل ایسوسی ایشن کے صدر حاجی زاہد خان سمیت دیگر رہنما اور سول سوسائٹی کے نمائندے شامل تھے۔

(جاری ہے)

مشترکہ اعلامئے میں کہا گیا کہ ملاکنڈ ڈویژن ایک پسماندہ اور خصوصی حالات سے متاثرہ خطہ ہے، جہاں عوام دہشت گردی، نقل مکانی، معاشی بدحالی اور ترقیاتی محرومیوں کا طویل عرصے سے سامنا کرتے رہے ہیں۔ اس لیے حکومت پہلے علاقے کی معاشی، صنعتی، تجارتی اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی، روزگار کے مواقع کی فراہمی اور ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کو یقینی بنائے، اس کے بعد ہی کسی نئے مالی بوجھ پر غور کیا جائے۔

کانفرنس نے وفاقی اور خیبر پختونخوا حکومت سے مطالبہ کیا کہ ملاکنڈ ڈویژن کا ٹیکس استثنی برقرار رکھا جائے اور اس سلسلے میں کیے گئے تمام اقدامات فوری طور پر واپس لیے جائیں۔اعلامیے میں کہا گیا کہ عوام کے آئینی، قانونی اور جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے تمام سیاسی، سماجی اور عوامی قوتیں متحد رہیں گی۔ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو تمام سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے پرامن، آئینی اور جمہوری احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی، جس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔

مقررین نے افسوس کا اظہار کیا کہ سوات سے منتخب قومی و صوبائی اسمبلی کے بیشتر اراکین کانفرنس میں شریک نہیں ہوئے۔ تاہم پاکستان تحریک انصاف کے رکن صوبائی اسمبلی فضل حکیم خان نے یقین دلایا کہ وہ تمام منتخب اراکین کی نمائندگی کرتے ہوئے ملاکنڈ ڈویژن کے ٹیکس استثنی اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر فورم پر عوام کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔