Live Updates

ایران نے آبنائے ہرمز مکمل طور پر بند کردی، خطے میں امریکی مداخلت کے خاتمے تک نہ کھولنے کا اعلان

بیرونی طاقتوں کی غیر قانونی مداخلت سے پیدا ہونے والے خطرات کے باعث آبنائے ہرمز کو اگلے حکم تک بند کیا جا رہا ہے، کسی چھوٹے بڑے تجارتی جہاز کو گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی؛ پاسداران انقلاب کا بیان

Sajid Ali ساجد علی اتوار 12 جولائی 2026 11:05

ایران نے آبنائے ہرمز مکمل طور پر بند کردی، خطے میں امریکی مداخلت کے ..
تہران (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 جولائی 2026ء) ایران کی سرکاری فوج پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز کو ہر قسم کے بحری جہازوں کی آمد و رفت کیلئے مکمل طور پر بند کر دیا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک بحری جہاز پر وارننگ شاٹ یعنی انتباہی گولیاں چلائیں، ایرانی فوج کا مؤقف ہے کہ وہ بحری جہاز ایک ایسے راستے سے گزرنے کی کوشش کر رہا تھا جس کے استعمال کی اجازت نہیں تھی، گولی چلنے کے بعد جہاز نے آگے بڑھنا روک دیا۔

پاسدارانِ انقلاب نے باضابطہ بیان میں واضح کیا ہے کہ بیرونی طاقتوں کی غیر قانونی مداخلت سے پیدا ہونے والے خطرات کے باعث آبنائے ہرمز کو اگلے حکم تک بند کیا جا رہا ہے، جب تک خطے میں امریکہ کی مداخلت ختم نہیں ہو جاتی، کسی بھی چھوٹے یا بڑے تجارتی اور جنگی جہاز کو یہاں سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

(جاری ہے)

یاد رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کا وہ سب سے اہم اور حساس ترین سمندری راستہ ہے جہاں سے پوری دنیا کو سپلائی ہونے والے پیٹرولیم اور تیل کا ایک بہت بڑا حصہ گزرتا ہے، اس شدید کشیدگی کے دوران برطانوی بحری تجارتی ادارے ’یو کے ایم ٹی او‘ نے عمان کے مشرق میں ایک بڑے مال بردار بحری جہاز پر آگ لگنے اور اسے نقصان پہنچنے کی اطلاع دی ہے، ابھی تک یہ پوری طرح واضح نہیں ہو سکا کہ یہ وہی بحری جہاز ہے جس پر ایران نے انتباہی گولیاں چلائی تھیں یا یہ کوئی دوسرا جہاز بحران کا شکار ہوا ہے۔

بتایا جارہا ہے کہ یہ تشویشناک صورتحال ایسے وقت میں پیدا ہوئی ہے جب عالمی سفارت کار امریکہ اور ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کی سرتوڑ کوششیں کر رہے ہیں، ابھی جمعہ کے روز ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا تھا کہ جنگ بندی ٹوٹنے اور دونوں طرف سے حملوں کے باوجود امریکہ اور ایران کے درمیان امن چیت جاری رہے گی، تاہم اب اس بندش سے مذاکرات شدید خطرے میں پڑ گئے ہیں۔

معلوم ہوا ہے کہ اس سنگین بحران کو ٹالنے کے لیے ہفتے کے روز ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے عمان کے وزیرِ خارجہ سے ایک اہم ملاقات بھی کی، عمان نے اس سمندری راستے پر جہازوں کی آمد و رفت کو بحال اور مینیج کرنے کے لیے دو الگ الگ راستے بنانے کی ایک عارضی تجویز بھی تیار کی تھی، عمان کی تجویز کے باوجود اب حالات بالکل بدل چکے ہیں کیونکہ امریکی حکام نے پہلے ہی صاف کہہ دیا تھا کہ جب تک اس سمندری راستے سے بحری جہازوں کے محفوظ گزرنے کی پکی اور حتمی ضمانت نہیں مل جاتی، تب تک ایران کے ساتھ امن کی کوئی بات چیت آگے نہیں بڑھائی جا سکتی۔
Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات