اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 16 جولائی 2026ء) اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے اپنے امریکی ہم منصب پیٹ ہیگستھ پر واضح کیا ہے کہ اسرائیل لبنان، شام اور غزہ کی پٹی کے اندر قائم کیے گئے ’’سکیورٹی زونز‘‘میں اپنی فوجیں برقرار رکھنے کے لیے پُرعزم ہے۔
اسرائیلی وزارتِ دفاع کے دفتر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق جمعرات کی صبح جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ دونوں رہنماوں کے درمیان بدھ کو رات گئے ہونے والی گفتگو میں کاٹز نے ''شام، غزہ اور لبنان میں سکیورٹی زونز میں موجود رہنے کے اسرائیلی عزم‘‘ پر زور دیا۔
بیان میں کہا گیا کہ ان علاقوں میں اسرائیلی موجودگی کا مقصد ''اسرائیل کی سرحدوں اور سرحدی علاقوں کے قریب رہنے والی آبادیوں کو جہادی گروہوں سے لاحق خطرات سے محفوظ رکھنا‘‘ ہے۔
(جاری ہے)
اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا، ''ہم نے کبھی امریکہ سے یہ نہیں کہا کہ وہ ہماری سرحدوں پر ہماری جگہ کارروائی کرے۔‘‘
یہ بیان ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مبینہ طور پر اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو سے شام اور لبنان سے اسرائیلی فوج واپس بلانے کا مطالبہ کیا تھا۔
امریکی
خبر رساں ادارے ایکسیئس نے ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو سے کہا کہ شام میں اسرائیلی فوجی تعیناتی کشیدگی میں اضافہ کر رہی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے کہا، ''وہ (شامی حکومت) آپ کو وہاں نہیں چاہتے۔‘‘شام کے طویل عرصے تک حکمران رہنے والے بشار الاسد کی حکومت کے دسمبر 2024 میں خاتمے کے بعد اسرائیل نے اقوام متحدہ کے زیر نگرانی قائم بفر زون میں اپنی فوج بھیج دی تھی۔
اس کے بعد اسرائیل نے شام کے اندر متعدد بار فوجی کارروائیاں اور فضائی حملے بھی کیے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ شام کے جنوبی حصے میں ایک غیر فوجی علاقہ قائم کرنا چاہتا ہے۔
لبنان میں اسرائیلی فوجی موجودگی
لبنان میں بھی اسرائیلی فوج موجود ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق یہ تعیناتی لبنان کے اندر تقریباً 10 کلومیٹر تک پھیلے ایک سکیورٹی زون میں ہے۔
لبنان اور اسرائیل کے درمیان باضابطہ سفارتی تعلقات نہیں ہیں تاہم دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی، جب ایرانی حمایت یافتہ لبنانی عسکری گروہ حزب اللہ نے مارچ میں اسرائیل پر حملہ کر کے لبنان کو وسیع تر مشرق وسطیٰ کی جنگ میں شامل کر دیا تھا۔
اسرائیلی اور لبنانی مذاکرات کاروں نے بدھ کے روز روم میں مذاکرات کا پانچواں دور مکمل کیا۔
امریکہ
کی ثالثی میں ہونے والے ان مذاکرات کا مقصد اسرائیلی فوج کا لبنان سے مرحلہ وار انخلا ہے۔ ابتدائی تجربے کے طور پر اسرائیل کی جانب سے جنوبی لبنان میں قائم کردہ سکیورٹی زون سے باہر واقع دو علاقوں سے اسرئیلی فوج کی واپسی کی جائے گی۔غزہ
کی پٹی میں اسرائیلی فوج کا اس وقت تقریباً 60 فیصد علاقے پر کنٹرول ہےجبکہ اسرائیل اور مصر سے متصل غزہ کی سرحد بھی مکمل طور پر اسرائیلی فوج کے زیر قبضہ ہے۔ادارت: شکور رحیم