تریچ میر: معاشی خوشحالی کےلیے ڈیجیٹل دنیا کی توجہ کا منتظر ایک انمول خزانہ

جمعرات 23 جولائی 2026 22:20

چترال (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 23 جولائی2026ء) ہندوکش کے فلک بوس پہاڑوں پر سیاہ بادل جب آہستہ آہستہ تیرتے ہیں اور مون سون کی پہلی ہوائیں برف پوش تریچ میر کی چوٹیوں سے اترتی ہیں تو چترال کی وادیوں میں زندگی ایک نئے رنگ میں ڈھل جاتی ہے۔سرسبز میدان رنگ برنگے جنگلی پھولوں سے سج جاتے ہیں، تتلیاں پھولوں پر منڈلاتی ہیں اور شفاف ندی نالے تریچ میر کے گلیشیئرز سے پگھلنے والے پانی سے لبریز ہو جاتے ہیں۔

سرسبز چراگاہوں میں چرواہے اپنے ریوڑ چراتے ہیں جبکہ بلند چٹانوں پر عقاب پرواز کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اسی دوران 7,708 میٹر بلند عظیم تریچ میر جو ہندوکش کا بلند ترین اورپاکستان کی سب سے بلند چوٹی ہے، بادلوں کے پردے سے نمودار ہو کر سیاحوں کو اپنی عظمت کا احساس دلاتی ہے۔

(جاری ہے)

مقامی آبادی کےلیے تریچ میر صرف قدرتی حسن کا شاہکار نہیں بلکہ شناخت، فخر اور معاشی ترقی کی امید کی علامت بھی ہے۔

ماہرین کے مطابق اس قدرتی خزانے کو عالمی سطح پر متعارف کرانے کے لئے مؤثر ڈیجیٹل تشہیر وقت کی اہم ضرورت ہے۔ تریچ میر بیس کیمپ پر کوہ پیمائی کے سامان کی تیاری میں مصروف مقامی ٹریکنگ گائیڈ زمرد خان نے قومی خبر رساں ادارے ’’اے پی پی‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ پہاڑ ہمیشہ ہمارا محافظ رہا ہے۔ ہمارے بزرگ اس کا احترام کرتے تھے اور آج ہم چاہتے ہیں کہ دنیا بھی اس کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہو۔

ہر مہم مقامی گائیڈز، پورٹرز، جیپ ڈرائیوروں، ہوٹلوں اور دکانداروں کے لیے روزگار کا ذریعہ بنتی ہے۔ اگرچہ تریچ میر کے مناظر الپس، اینڈیز اور ہمالیہ جیسے عالمی شہرت یافتہ سلسلہ ہائے کوہ سے کسی طور کم نہیں لیکن دہائیوں تک یہ دنیا کے کم تشہیر یافتہ عظیم پہاڑوں میں شمار ہوتا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اب اس کی اصل رکاوٹ رسائی نہیں بلکہ ڈیجیٹل دور میں عالمی سطح پر اس کی مؤثر موجودگی ہے۔

1950ء میں ناروے کی ایک مہم نے پہلی بار تریچ میر کو سر کیا تھا۔ اس کے بعد سے یہ اپنی وسیع برفانی چادروں، گھنے صنوبر کے جنگلات، پوشیدہ جھیلوں اور بلند برفانی دیواروں کی وجہ سے کوہ پیماؤں کی توجہ کا مرکز رہا، تاہم نیپال کے ایورسٹ اور پاکستان کے کے ٹو کے برعکس اسے عالمی سیاحتی مہمات میں وہ مقام حاصل نہ ہو سکا جس کا یہ مستحق ہے۔حکام کے مطابق اب صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے۔

خیبر پختونخوا کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی نے چترال کو پاکستان کا ممتاز ہائی آلٹیٹیوڈ ایڈونچر ٹورازم مرکز بنانے کےلیے ایک جامع حکمت عملی پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے۔ جولائی 2025ء میں ایک اہم پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب حکوت کی معاونت سے پہلی مرتبہ قومی اور بین الاقوامی ٹریکرز کا منظم گروپ تریچ میر بیس کیمپ پہنچا جسے چترال میں ایڈونچر سیاحت کے ایک نئے باب کا آغاز قرار دیا گیا۔

دور افتادہ وادیوں کے مکینوں نے مہمانوں کا بھرپور استقبال کیا۔بچے رنگ برنگے بیگ اٹھائے سیاحوں کو خوش آمدید کہتے رہے، خواتین نے روایتی دستکاریاں پیش کیں جبکہ مقامی فنکاروں نے چترالی لوک دھنوں سے مہمانوں کا استقبال کیا۔ مقامی افراد کے چہروں پر خوشی اس امید کی عکاس تھی کہ سیاحت ایک بار پھر ان کی بستیوں میں معاشی سرگرمیاں واپس لا سکتی ہے۔

حالیہ دنوں میں ایک اور تاریخی کامیابی بھی حاصل ہوئی جب پاکستانی کوہ پیماؤں نے 27 برس بعد پہلی مرتبہ 5,100 میٹر بلند فارگام آن پاس عبور کرتے ہوئے اسے سر کیا، جس سے اپر چترال کی وادی لاسپور اور لوئر چترال کی گولین وادی کے درمیان قدیم راستہ دوبارہ بحال ہو گیا۔ خیبرپختونخوا ٹورازم اتھارٹی کی معاونت سے منعقدہ اس مہم کے شرکاء نے خطرناک گلیشیئرز، برفانی ڈھلوانوں، ڈھیلی چٹانوں اور برفانی تودوں کے خطرات کا سامنا کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی۔

کامران خان اس درے کی چوٹی پر پہنچنے والے پہلے کوہ پیما بنے جبکہ ان کے ہمراہ مہروش اختر، سمر خان، نعمان خان، نورالرحمان، ذوہیب خان، عمر خطاب شیرانی، سونیا بابر، آمنہ شبیر اور مدیحہ سید بھی شامل تھے۔یہ مہم اس لحاظ سے بھی تاریخی ثابت ہوئی کہ خواتین کوہ پیماؤں نے پہلی بار اس درے کو کامیابی سے سر کیا۔مہروش اختر نے اس کامیابی میں نمایاں کردار ادا کیا جبکہ چترال کی بیٹیوں اسمیل روز اور مدھو شالا اختر کی شرکت نے علاقے کی نوجوان لڑکیوں کےلیے نئی مثال قائم کی۔

مہروش اختر نے کہا کہ یہ صرف ایک کوہ پیمائی نہیں تھی بلکہ اس بات کا ثبوت تھا کہ پاکستانی خواتین بھی بلند ترین چوٹیوں پر کامیابی حاصل کر کے اپنے ملک کا نام روشن کر سکتی ہیں۔ مہم کے دوران کوہ پیماؤں نے آسٹریا کے معروف کوہ پیما جارج کرون برگر کی یادگار تختی بھی دریافت کی جو 1975ء میں اسی علاقے میں جان کی بازی ہار گئے تھے۔اس دریافت نے چترال کی تاریخی کوہ پیمائی کی روایات کو ایک بار پھر اجاگر کیا۔

الپائن ایڈونچر سپورٹس کلب آف پاکستان کے صدر ابو ظفر کے مطابق اگر تریچ میر کی مؤثر ڈیجیٹل تشہیر کی جائے تو یہ دنیا کے ممتاز سیاحتی مقامات کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کی میں یورپ، وسطی ایشیا اور جنوبی امریکہ کے کئی پہاڑی سلسلوں کا سفر کر چکا ہوں، بہت کم مقامات ایسے ہیں جہاں غیر متاثرہ قدرتی ماحول، ثقافتی تنوع اور کوہ پیمائی کے مواقع ایک ساتھ موجود ہوں، مگر افسوس کہ دنیا تریچ میر کے بارے میں بہت کم جانتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آج کا سیاح یوٹیوب، انسٹاگرام، سفری بلاگز اور آن لائن جائزوں کے ذریعے منزل کا انتخاب کرتا ہے، اس لیے اگر تریچ میر ان پلیٹ فارمز پر موجود نہیں تو ہم لاکھوں ممکنہ سیاحوں کی نظروں سے اوجھل ہیں۔ سابق سفیر منظور الحق نے بھی اس مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے پاس دنیا کے بہترین پہاڑی وسائل موجود ہیں، لیکن انہیں پیشہ ورانہ انداز میں عالمی سطح پر متعارف نہیں کرایا گیا۔

ان کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت کو بین الاقوامی شہرت یافتہ ٹریول بلاگرز، فلم سازوں اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ اداروں کے ساتھ شراکت داری کرنی چاہیے تاکہ پاکستان کے پہاڑ دنیا بھر میں نمایاں ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ جدید دور میں سیاحت کی تشہیر صرف بروشرز اور پمفلٹس سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے ڈرون ڈاکیومنٹریز، ورچوئل ویڈیوز، کثیراللسانی ویب سائٹس، آن لائن بکنگ سسٹمز اور مؤثر سوشل میڈیا مہمات ناگزیر ہیں۔

حکام کے مطابق کوہ پیمائی صرف چوٹیاں سر کرنے کا نام نہیں بلکہ ہر مہم مقامی گائیڈز، پورٹرز، باورچیوں، ٹرانسپورٹرز، ہوٹل مالکان، دستکاروں اور کسانوں سمیت سینکڑوں افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرتی ہے۔ خیبر پختونخوا ٹورازم اتھارٹی کے جنرل منیجر سرمایہ کاری عمیر خٹک نے کہا کہ تریچ میر میں کوہ پیمائی کی سرگرمیاں مسلسل جاری رکھی جائیں گی تاکہ ایڈونچر سپورٹس کو فروغ ملے اور مقامی آبادی کو زیادہ سے زیادہ معاشی فوائد حاصل ہوں۔

انہوں نے بتایا کہ ادارہ تریچ میر کے علاوہ فلک سر، ملکہ پربت اور سوات، دیر اور چترال کے متعدد ٹریکنگ روٹس کو بھی عالمی سطح پر متعارف کرا رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے انٹیگریٹڈ ٹورازم زونز، ماحول دوست کیمپنگ پوڈز، ماؤنٹین ریسکیو مراکز اور جدید وزیٹر سینٹرز بھی قائم کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق مدک لشٹ تا کمراٹ 16 کلومیٹر طویل کیبل کار منصوبہ بھی زیر غور ہے، جو مکمل ہونے پر دنیا کے بلند ترین کیبل ٹرانسپورٹ سسٹمز میں شمار ہو سکتا ہے۔

ماہرین معاشیات کے مطابق پاکستان میں پہاڑی سیاحت کی صنعت اپنی بے پناہ قدرتی صلاحیت کے باوجود ابھی تک پوری طرح ترقی نہیں کر سکی۔پاکستان دنیا کی 14 بلند ترین چوٹیوں میں سے پانچ، جن میں کے ٹو بھی شامل ہے، کا حامل ہے، لیکن اس کے باوجود یہاں آنے والے ایڈونچر سیاحوں کی تعداد ہمسایہ ممالک کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ جامعہ پشاور کے شعبۂ معاشیات کے سابق چیئرمین ڈاکٹر ذوالفقار ملک نے کہا کہ ایڈونچر ٹورازم میں معاشی امکانات بے حد وسیع ہیں، مگر کمزور برانڈنگ، ناکافی ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور محدود سیاحتی انفراسٹرکچر کے باعث ہم اپنی قدرتی صلاحیتوں سے مکمل فائدہ نہیں اٹھا سکے۔

ورلڈ ٹریول اینڈ ٹورازم کونسل کے مطابق 2019ء میں پاکستان کے سیاحتی شعبے نے قومی معیشت میں تقریباً 15 ارب امریکی ڈالر کا حصہ ڈالا تھا، جو کووڈ۔ 19 کے بعد کم ہو کر 11.6 ارب ڈالر رہ گیا، جبکہ چین نے 2022ء میں سیاحت سے 800 ارب ڈالر سے زائد آمدنی حاصل کی، جو اس شعبے میں موجود وسیع امکانات کی عکاسی کرتی ہے۔ چترال آنے والے سیاح صرف تریچ میر ہی نہیں بلکہ وادی کالاش کی صدیوں پرانی تہذیب، رنگا رنگ تہواروں، منفرد لباس اور مہمان نوازی سے بھی بے حد متاثر ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ بلند پہاڑوں اور زندہ ثقافت کا یہ امتزاج چترال کو دنیا کے منفرد ترین مقامات میں شامل کرتا ہے۔ ٹریکر نعمان خان نے تریچ میر بیس کیمپ پہنچنے کے بعد کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کسی دوسری دنیا میں آ گئے ہوں۔ قدرتی مناظر بے مثال ہیں، مگر سب سے زیادہ یاد یہاں کے لوگوں کی محبت اور مہمان نوازی رہے گی۔ بین الاقوامی کوہ پیمائی کی مزید مہمات کی حوصلہ افزائی کے لیے صوبائی حکومت نے 2026ء کے دوران کوہ پیماؤں سے ماؤنٹین رائلٹی فیس مکمل طور پر معاف کرنے کا اعلان کیا ہے۔

حکام کے مطابق معروف اطالوی کوہ پیمائی ماہر پروفیسر پنیلی کے تعاون سے چترال میں ایک ایڈونچر ٹریننگ اسکول بھی قائم کیا جا رہا ہے جہاں نوجوان مرد و خواتین کو پیشہ ورانہ کوہ پیمائی کی تربیت فراہم کی جائے گی۔ شام ڈھلتے ہی تریچ میر کی برف پوش چوٹی سنہری روشنی میں نہا کر دوبارہ بادلوں میں چھپ جاتی ہے مگر چترال کے لوگوں کے لیے یہ پہاڑ صرف ایک قدرتی منظر نہیں بلکہ عزم، ورثے اور روشن مستقبل کی علامت ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تریچ میر کا مستقبل اب صرف رسیوں اور کوہ پیمائی کے جوتوں سے نہیں بلکہ اسمارٹ فونز، سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے بھی وابستہ ہے۔ورچوئل ٹورز، معیاری ڈاکیومنٹریز، انفلوئنسرز کے اشتراک، آن لائن ریزرویشن سسٹمز، انٹرایکٹو نقشے اور کثیراللسانی تشہیری مہمات کے ذریعے پاکستان کے اس پوشیدہ قدرتی خزانے کو دنیا بھر کے لاکھوں سیاحوں تک پہنچایا جا سکتا ہے۔

ابو ظفر نے کہا کہ اگلی بڑی مہم صرف چوٹی سر کرنے کی نہیں بلکہ دنیا بھر کے لوگوں کی اسکرینوں تک پہنچنے کی ہے۔ جب لوگ تریچ میر کو دیکھیں گے تو وہ ضرور یہاں آنا چاہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مؤثر حکمت عملی، پائیدار منصوبہ بندی اور مضبوط ڈیجیٹل تشہیر کو یقینی بنایا جائے تو چترال کی بلند و بالا چوٹیاں وہ عالمی مقام حاصل کر سکتی ہیں جس کی وہ طویل عرصے سے مستحق ہیں۔