مکہ مکرمہ میں طے پانے والے تاریخی سہ فریقی دفاعی معاہدے کا بھرپور خیرمقدم کرتے ہیں، سعید احمد عنایت

پیر 10 اگست 2026 21:32

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 10 اگست2026ء) انٹر نیشنل ختم نبوت مو ومنٹ ورلڈ کے مرکزی امیر مولانا ڈاکٹر سعید احمد عنایت اللہ،مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا ڈاکٹر احمد علی سراج،نائب امیرمولانا عبدالرف مکی،مولانا محمدالیاس چنیوٹی ایم پی اے، مولانازاہد محمود قاسمی،معاون خصوصی امیر مرکزیہ مولانا محمد بن سعید، مرکزی ترجمان مولانا مجیب الرحمن،مولانا قاری محمد طیب عباسی، مولانا محمدامداد اللہ قاسمی، مولانا قاری شبیر احمد عثمانی،مولانا قاری محمدرفیق وجھوی،مولانا افتخاراللہ شاکر اور مولانا غلام یاسین صدیقی نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مقدس سرزمین مکہ مکرمہ میں طے پانے والے تاریخی سہ فریقی دفاعی معاہدے کا بھرپور خیرمقدم کرتے ہوئے اسے مسلم امہ کے اتحاد، باہمی اخوت، اجتماعی دفاع اور خطے کے امن و استحکام کے لیے ایک اہم اور خوش آئند پیش رفت قرار دیا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ یہ دفاعی معاہدہ موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل اور امت مسلمہ کے دلوں کی آواز اور ترجمانی ہے اور یہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار اداکرتے ہوئے مسلم دنیا میں اتحادویکجہتی اور مشترکہ مفادات کے تحفظ کے جذبے کو بھی تقویت دیگا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے خطے میں امن و استحکام اور سلامتی کے فروغ کے ساتھ ساتھ تینوں ممالک کے درمیان دفاعی، سفارتی، معاشی اور باہمی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ سہ فریقی دفاعی معاہد وقت کی اہم ضرورت ہے اور یہ فلسطین، کشمیر، برما اور دنیا کے دیگر خطوں میں ظلم و ستم کا شکار مسلمانوں کے لیے بھی امیدکی کرن اورآزادی کی نویدہے۔انہوں نے مزید کہا کہ حرمین شریفین کا تحفظ پوری امت مسلمہ کے ایمان و جذبات سے وابستہ ہے اور پاکستان سمیت تمام مسلم ممالک سعودی عرب کی سلامتی وخودمختاری اور حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر اپنا مثبت اور موثر کردار ادا کرتے رہیں گے۔

انٹرنیشنل ختمِ نبوت موومنٹ کے رہنماوں نے وزیراعظم محمد شہباز شریف، سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، ترک صدر رجب طیب اردوان اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سمیت تینوں برادر ممالک کی قیادت کو اس تاریخی پیش رفت پر دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ معاہدہ اسلامی دنیا میں باہمی اعتماد، اتحاد اور تعاون کے ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوگا۔