بورڈ کا 44واں اجلاس، اسلام آباد ٹیکنوپولس، ایم 10اور گرو نانک ایکسپریس وے منصوبوں کی منظوری دیدی

ترجیحی قومی منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے اقدامات مزید تیز کیے جائیں، پی تھری اے نجی سرمایہ کاری کو راغب کرنے ،ملکی ترقی کے اہم منصوبوں میں نجی شعبے کی موثر شراکت یقینی بنانے کیلئے فعال کردار ادا کرے گا،محمد علی

پیر 10 اگست 2026 22:05

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 10 اگست2026ء) پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی کے بورڈ نے اسلام آباد ٹیکنوپولس، ایم 10اور گرو نانک ایکسپریس وے منصوبوں کی منظوری دیدی ۔ پیر کو پی تھری اے کا 44واں اجلاس مشیر وزیراعظم برائے نجکاری و چیئرمین بورڈ محمد علی کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں ایس ٹی زیڈ اے، نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور پاکستان ریلوے کے حکام نے شرکت کی۔

اجلاس میں وفاقی دارالحکومت میں عالمی معیار کا جدید ٹیکنالوجی پارک قائم کرنے کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس پروجیکٹ کی ٹرانزیکشن ایڈوائزری فنڈنگ کی منظوری دی گئی۔ منصوبے کا مقصد ٹیکنالوجی کی برآمدات، جدید تحقیق اور روزگار کے مواقع کو فروغ دینا ہے۔اجلاس میں نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے مضبوط پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ فریم ورک تیار کرنے پر بھی زور دیا گیا۔

(جاری ہے)

بورڈ نے ایم 10 موٹروے اور گرو نانک ایکسپریس وے منصوبوں کے حوالے سے بھی اہم فیصلے کیے اور دونوں منصوبوں کے لیے بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی براہ راست خدمات حاصل کرنے کی منظوری دی، عالمی مالیاتی ادارے منصوبوں کیلئے بہترین بزنس ماڈل اور سرمایہ کاروں کے لیے رہنماء اصول تیار کریں گے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ ایم 10 موٹروے کی تکمیل سے کراچی اور حیدرآباد کے درمیان گڈز ٹرانسپورٹ اور نقل و حمل میں سہولت پیدا ہوگی، جبکہ گرو نانک ایکسپریس وے منصوبے سے کرتارپور تک رسائی آسان ہونے کے ساتھ مذہبی سیاحت کو بھی فروغ ملے گا۔

بورڈ نے پاکستان ریلوے کی قیمتی اراضی کو تجارتی استعمال میں لانے کا فیصلہ بھی کیا۔ اس مقصد کے لیے ریڈامکو کے ذریعے نجی شعبے کی شراکت داری سے آمدن میں اضافے کے اقدامات کیے جائیں گے، جبکہ پہلے مرحلے میں کراچی کلسٹر کو پائلٹ پروجیکٹ کے طور پر شروع کیا جائے گا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محمد علی نے کہا کہ ترجیحی قومی منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے اقدامات مزید تیز کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ P3Aنجی سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور ملکی ترقی کے اہم منصوبوں میں نجی شعبے کی موثر شراکت یقینی بنانے کے لیے فعال کردار ادا کرے گا۔