Live Updates

ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کمزور معیشت کے لیے سنگین خطرہ ہے،میاں زاہد حسین

جمعرات 13 اگست 2026 16:24

ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کمزور معیشت کے لیے سنگین خطرہ ہے،میاں زاہد حسین
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 13 اگست2026ء) پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچوئلز فورم اور آل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر، نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، ایف پی سی سی آئی پالیسی ایڈوائزری بورڈ کے چیئرمین اور سابق صوبائی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی میاں زاہد حسین نے گڈز ٹرانسپورٹرز کی ملک گیر ہڑتال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاملہ اب صرف ٹرانسپورٹ کے شعبے تک محدود نہیں رہا بلکہ درآمد کنندگان، برآمد کنندگان، صنعتوں، تاجروں اور عام صارفین کے لیے ایک بڑے معاشی مسئلے کی شکل اختیار کر رہا ہے۔

میاں زاہد حسین نے کہا کہ 8 اگست سے جاری ہڑتال کے باعث چار لاکھ سے زائد مال بردار گاڑیوں کی نقل و حرکت متاثر ہوئی ہے۔

(جاری ہے)

ٹرانسپورٹرز ودہولڈنگ ٹیکس، ٹول ٹیکس، ایکسل لوڈ، کسٹمز سے متعلق شکایات اور ڈیزل کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیادوں پر تبدیلی جیسے مسائل اٹھا رہے ہیں۔ حکومت اور ٹرانسپورٹرز کو فوری اور بامقصد مذاکرات کے ذریعے قابل عمل حل نکالنا چاہیے کیونکہ ہڑتال کا ہر اضافی دن پوری معیشت کے نقصانات میں اضافہ کر رہا ہے۔

میاں زاہد حسین نے کہا کہ درآمد کنندگان سب سے زیادہ متاثر ہونے والے طبقات میں شامل ہیں کیونکہ کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم پر آنے والے کنٹینرز کی معمول کے مطابق کلیئرنس اور نقل و حمل ممکن نہیں رہی۔ درآمدی خام مال فیکٹریوں تک نہیں پہنچ پا رہا جبکہ بندرگاہوں پر موجود کنٹینرز پر ڈیمرج، ڈیٹینشن، اسٹوریج اور ہینڈلنگ چارجز بڑھتے جا رہے ہیں، حالانکہ اس صورتحال پر درآمد کنندگان کا کوئی اختیار نہیں۔

میاں زاہد حسین نے کہا کہ جولائی 2026 میں پاکستان نے تقریباً 6.89 ارب ڈالر کی اشیائ درآمد کیں جبکہ مالی سال 26-2025 میں مجموعی درآمدات 69.597 ارب ڈالر رہیں۔ پاکستان میں درآمدات کی ترسیل تقریبا 64 ارب روپے روزانہ ہے ایسے میں بندرگاہوں سے اندرون ملک ٹرانسپورٹ کی ترسیل میں طویل بندش کاروباری لاگت میں بھاری اضافہ کر رہی ہے جس کا بوجھ بالآخر صارفین کو مہنگائی کی صورت میں برداشت کرنا پڑے گا۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت، وزارت بحری امور، کراچی پورٹ ٹرسٹ، پورٹ قاسم اتھارٹی، ٹرمینل آپریٹرز اور شپنگ لائنز ہڑتال سے متاثرہ درآمد کنندگان اور برآمد کنندگان کو ہڑتال کے باعث عائد ہونے والے ڈیمرج، ڈیٹینشن اور متعلقہ چارجز کو مکمل معاف کریں۔میاں زاہد حسین نے کہا کہ برآمدی شعبہ بھی شدید دباؤ میں ہے۔ پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے مطابق 500 ملین ڈالر مالیت کے برآمدی کنٹینرز فیکٹریوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔

جہازوں کی کٹ آف ٹائم گزرنے سے شپمنٹ میں تاخیر، اضافی اخراجات، خریداروں کے کلیمز، آرڈرز کی منسوخی، ایئر شپمنٹ اور پاکستانی مال کے امپورٹرز کے دوسرے ملکوں میں منتقل ہونے کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی صنعتیں مستقل دباؤ کا شکار ہیں۔ ایک طرف درآمدی اور مقامی خام مال فیکٹریوں تک نہیں پہنچ رہا اور دوسری جانب تیار مصنوعات بندرگاہوں اور مارکیٹوں تک نہیں پہنچ پا رہیں۔

میاں زاہد حسین نے مزید کہا کہ 18 ارب ڈالر کی سالانہ برآمدات کرنے والا ٹیکسٹائل شعبہ جو پہلے ہی بلند کاروباری لاگت کا شکار ہے، موجودہ ہڑتال کی وجہ سے نئی مشکلات سے بری طرح متاثر ہو گیا ہے۔میاں زاہد حسین نے پٹرولیم ڈیلرز کی جانب سے 15 اگست سے ملک بھر میں پٹرول پمپس بند کرنے کے اعلان پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر مال بردار ٹرانسپورٹ کے ساتھ ایندھن کی فراہمی اور فروخت بھی متاثر ہوئی تو کاروباری سرگرمیوں، سپلائی چین، اشیائے ضروریہ کی دستیابی اور مہنگائی پر اس کے سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔

انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ متعلقہ وزارتوں، ایف بی آر، این ایچ اے، پورٹ حکام، ایف پی سی سی آئی اور ٹرانسپورٹرز پر مشتمل بااختیار مذاکراتی کمیٹی قائم کر کے مسائل کا فوری حل نکالا جائے۔ پاکستان برآمدات بڑھانے اور معاشی بحالی کی کوششوں کے دوران اپنی لاجسٹکس اور سپلائی چین کو مفلوج کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ٹرانسپورٹ کے شعبے کا تنازع پوری قومی معیشت کے لیے مالی سزا نہیں بننا چاہیے۔ میاں زاہد حسین نے ٹرانسپورٹرز اور پیٹرولیم ڈیلرز سے بھی اپیل کی ہے کہ موجودہ مشکل صورتحال میں ملک کے مسائل میں اضافہ کرنے سے گریز کریں اور ہڑتال کو فوری طور پر منسوخ کر کے مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کریں۔
Live پیٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ سے متعلق تازہ ترین معلومات