27 ستمبر کا مارچ ملک و قوم کی تقدیر اور تاریخ بدل دے گا،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا

صوبے کے عوام کو کیڑے مکوڑے سمجھنے کی روش مزید قبول نہیں کی جائے گی ،امن کی بحالی کے لیے ہر حد تک جائیں گے، پولیس کے لئے 191 ارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے، سہیل آفریدی

اتوار 16 اگست 2026 18:35

کوہاٹ/بنوں (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 16 اگست2026ء) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ 27 ستمبر کے لانگ مارچ کے لیے بھرپور اور بہترین تیاری کی جائے گی اور اس مرتبہ ملک و قوم کی تقدیر اور تاریخ دونوں بدل دیں گے، خیبرپختونخوا گزشتہ دو دہائیوں سے تجربہ گاہ بنا ہوا ہے اور صوبے کے عوام کو کیڑے مکوڑے سمجھنے کی روش مزید قبول نہیں کی جائے گی۔

اتوار کے روزوزیراعلیٰ ایک روزہ دورے پر بنوں پہنچے جہاں پاکستان تحریک انصاف کی مقامی قیادت اور کارکنوں نے ان کا والہانہ استقبال کیا۔ وزیراعلیٰ نے 27 ستمبر کے لانگ مارچ کی تیاریوں کے سلسلے میں منعقدہ سٹریٹ موومنٹ ریلی کی قیادت کی۔ اس موقع پر پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے صوبائی صدر جنید اکبر خان سمیت ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، پارٹی رہنما اور کارکنان بھی ان کے ہمراہ تھے۔

(جاری ہے)

ریلی شرکاء کی جانب سے چیئرمین عمران خان کی رہائی کے حق میں نعرے لگائے جارہے تھے جبکہ شہر بھر میں پی ٹی آئی کے پرچم لہراتے نظر آرہے تھے۔وزیراعلیٰ محمد سہیل خان آفریدی 27 ستمبر کے لانگ مارچ کے لیے عوامی رابطہ مہم اور تیاریوں کے سلسلے میں صوبے کے مختلف شہروں کا دورہ کررہے ہیں۔ بنوں میں ہونے والی اسٹریٹ موومنٹ کو بھی اسی سلسلے کی اہم کڑی قرار دیا جارہا ہے۔

وزیراعلیٰ کی آمد کے موقع پر بنوں شہر کے مختلف مقامات پر استقبالیہ گیٹ قائم کیے گئے تھے جہاں کارکنوں اور حامیوں نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے شاندار استقبال پر بنوں کے عوام کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ 27 ستمبر کے مارچ کے لیے بھرپور تیاری کرنا ہوگی۔ انہوں نے کارکنوں پر زور دیا کہ وہ اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کریں اور اپنے مستقبل کے لیے جرات کے ساتھ باہر نکلیں۔

محمد سہیل آفریدی نے صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ 2022 تک خیبرپختونخوا میں امن تھا تاہم اس کے بعد کے حالات سب کے سامنے ہیں۔ ان کے بقول امن کی تباہی کی ذمہ داری موجودہ حکومت اور اسے اقتدار میں لانے والوں پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام نے امن کے قیام کے لیے ہزاروں جانوں کی قربانیاں دی ہیںتاہم بند کمروں میں کیے گئے فیصلوں نے امن کو تباہ کردیا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے اور ان کی حکومت صوبے میں امن کی بحالی کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی۔ انہوں نے پولیس فورس کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس امن کی بحالی اور عوام کے تحفظ کے لیے سینہ سپر ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت پولیس فورس کو ہر ممکن تعاون فراہم کررہی ہے اور پولیس کے لیے 191 ارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔

پولیس کے انفراسٹرکچر کی ترقی، جدید آلات کی فراہمی اور اہلکاروں کی تربیت پر بھی اربوں روپے خرچ کیے جارہے ہیں۔محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ ان کی حکومت صوبے اور عوام کے خلاف کیے جانے والے ہر فیصلے کی مخالفت کرے گی۔ انہوںنے کہاکہ خیبرپختونخوا کے عوام نے طویل عرصے سے مشکلات اور قربانیاں برداشت کی ہیں اور اب ان کے حقوق، امن اور بہتر مستقبل کے لیے آواز بلند کرنا ضروری ہے۔

پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ جس شخصیت نے امن قائم کیا اور قوم کی عزتِ نفس بحال کی وہ عمران احمد خان نیازی ہیں۔ ان کے بقول عمران خان قوم کے مستقبل کے لیے ناحق قید کی صعوبتیں برداشت کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے لیڈر کی رہائی کے لیے نکلیں گے اور میں خود اس جدوجہد کی قیادت کروں گاکیونکہ وہ ہمارے مستقبل کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ حقیقی آزادی کی جدوجہد میں عدلیہ اور میڈیا کی آزادی بھی بحال کرنا ہوگی۔ انہوں نے صحافی ارشد شریف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جو بھی حق اور سچ بولتا ہے، اسے خاموش کرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ انہوں نے حق اور سچ کی آواز بلند کرنے والے تمام صحافیوں کو خراج تحسین پیش کیا۔محمد سہیل آفریدی نے کارکنوں اور عوام پر زور دیا کہ وہ اپنے مستقبل کے لیے جرات کا مظاہرہ کریں اور سیاسی جدوجہد میں بھرپور کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ جو جتنا بڑا ظالم ہوتا ہے، اتنا ہی بزدل ہوتا ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس مرتبہ بنوں کے عوام کو اتحاد اور یکجہتی کا شاندار مظاہرہ کرنا ہوگا اور 27 ستمبر کا مارچ ملک و قوم کی تاریخ اور تقدیر بدلنے کی جدوجہد ثابت ہوگا۔