پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس بننے چاہئیں، مصطفی کمال،لوکل گورنمنٹ کا نظام مضبوط کیے بغیر مسائل کا حل ممکن نہیں،قمرزمان کائرہ

پیر 17 اگست 2026 19:56

پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس بننے چاہئیں، مصطفی کمال،لوکل گورنمنٹ ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 17 اگست2026ء) ایس ڈی پی آئی کے زیر اہتمام قومی مباحثہ ہوا جس میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام، بااختیار بلدیاتی حکومتوں، ادارہ جاتی اصلاحات اور حکومتی ڈھانچے کو عوامی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے سمیت مختلف اصلاحاتی تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔مباحثے میں سیاسی رہنماؤں، پالیسی سازوں، ماہرین اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔

ایم کیوایم پاکستان کے رہنما وفاقی وزیر مصطفی کمال نے کہا کہ پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس بننے چاہئیں، وفاق کی جانب سے صوبوں کو فنڈز کی فراہمی کے بعد وسائل نچلی سطح تک منتقل نہ ہونا بڑا مسئلہ ہے، موجودہ نظام ڈیلیور نہیں کر رہا۔پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ لوکل گورنمنٹ کا نظام مضبوط کیے بغیر مسائل کا حل ممکن نہیں،لوکل گورنمنٹ کو آئینی تحفظ دینے کی ضرورت ہے۔

(جاری ہے)

۔ پہلے سے موجود ڈھانچے کو ٹھیک کرنا ہوگا، تحریک انصاف کے بیرسٹر سیف نے کہا کہ صرف نئے صوبے بنانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ ملکی مسائل کے حل کے لیے مجموعی انتظامی اور حکومتی ڈھانچے میں اصلاحات ضروری ہیں۔ اصلاحات کیلئے نیشنل کمیشن بنایا جائے۔مباحثے سے حصہ لیتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ بڑے صوبوں اور عوام کے درمیان انتظامی فاصلے کو کم کرنا ضروری ہے۔مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے دیگر مقررین نے نئے انتظامی یونٹس کے معاملے پر تمام سیاسی جماعتوں کو اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی ضرورت پر زوردیا۔