انشورنس صارفین کے تحفظ کیلئے ایس ای سی پی کا اہم اقدام، نئے قواعد کا مسودہ جاری

کلیمز کے فیصلے اور ادائیگی کیلئے مقررہ مدت،ایس ای سی پی کی خلاف ورزی پر کمپنیوں کو جرمانے کی تجویز

جمعرات 20 اگست 2026 16:56

انشورنس صارفین کے تحفظ کیلئے ایس ای سی پی کا اہم اقدام، نئے قواعد کا ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 20 اگست2026ء) سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے انشورنس صارفین کے حقوق کے تحفظ اور کلیمز کی بروقت ادائیگی یقینی بنانے کیلئے اہم اقدام کرتے ہوئے انشورنس کمپنیوں کیلئے مارکیٹ کنڈکٹ رولز 2026 کا مسودہ عوامی رائے کیلئے جاری کردیا۔مجوزہ قواعد کا اطلاق صرف انفرادی انشورنس پالیسیوں پر ہوگا، جن میں پالیسی کے اجرا سے لے کر کلیم کی ادائیگی تک انشورنس کمپنیوں کی ذمہ داریاں واضح کی گئی ہیں۔

مجوزہ رولز کے تحت انشورنس کلیمز میں تاخیر کے خاتمے کیلئے مختلف اقسام کے کلیمز پر لازمی مدت مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ لائف انشورنس کلیم پر متعلقہ دستاویزات موصول ہونے کے بعد 20 دن میں فیصلہ کرنا لازم ہوگا، جبکہ موٹر انشورنس کلیم پر سروے رپورٹ موصول ہونے کے بعد 5 دن اور دیگر نان لائف انشورنس کلیمز پر 7 دن میں فیصلہ کرنا ہوگا۔

(جاری ہے)

کلیم منظور ہونے کے بعد انشورنس کمپنی کو 7 دن کے اندر ادائیگی کرنا ہوگی۔

اسپتال میں داخل مریض کے ہیلتھ انشورنس کلیم کو 20 دن میں نمٹانا ہوگا جبکہ اسپتال سے ڈسچارج کی منظوری زیادہ سے زیادہ 3 گھنٹے میں دینا ہوگی۔مجوزہ قواعد میں یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ انشورنس کمپنی کی جانب سے تاخیر کی صورت میں مریض کو اسپتال سے ڈسچارج ہونے سے نہیں روکا جاسکے گا۔ کمپنیوں کو کلیم کیلئے صرف متعلقہ دستاویزات طلب کرنے کی اجازت ہوگی۔

ایس ای سی پی کے مطابق انشورنس کمپنیوں کو کلیمز کے تصفیے، مسترد اور زیر التوا کلیمز کا ڈیٹا اپنی ویب سائٹس پر جاری کرنا ہوگا، جبکہ ایک سال سے زائد عرصے سے زیر التوا کلیمز کا تناسب بھی ظاہر کرنا ہوگا۔نئی انشورنس پالیسی کی درخواست کو کمپنی کیلئے 7 دن میں نمٹانا لازم ہوگا، جبکہ لائف انشورنس پالیسی کے دستاویزات زیادہ سے زیادہ 20 دن میں جاری کرنا ہوں گے۔

ڈیجیٹل ذریعے سے فروخت کی گئی پالیسی 3 دن کے اندر جاری کرنا ہوگی۔موٹر انشورنس کے حوالے سے بھی پالیسی ہولڈر کے حقوق واضح کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ کمپنی کو گاڑی کی موجودہ مارکیٹ ویلیو سے آگاہ کرنا ہوگا اور اوور انشورنس یا انڈر انشورنس کے ممکنہ اثرات بھی بتانا ہوں گے۔ منظور شدہ موٹر انشورنس مرمت عمومی طور پر 15 دن میں مکمل کرنا ہوگی۔

مجوزہ قواعد کے تحت نان لائف انشورنس پالیسی ہولڈر کو بغیر وجہ بتائے پالیسی منسوخ کرنے کا حق بھی حاصل ہوگا۔ایس ای سی پی نے قواعد کی خلاف ورزی پر انشورنس کمپنی پر 10 لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کرنے کی تجویز دی ہے، جبکہ مسلسل خلاف ورزی کی صورت میں روزانہ مزید 10 ہزار روپے تک جرمانہ بھی عائد کیا جاسکے گا۔ایس ای سی پی نے مجوزہ قواعد پر عوام اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے 30 دن کے اندر تجاویز اور اعتراضات طلب کرلیے ہیں۔ عوامی مشاورت مکمل ہونے کے بعد قواعد کا مسودہ منظوری کیلئے ایس ای سی پی پالیسی بورڈ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔