ٹھیک ہے، عمران خان نے ورلڈ کپ جیتا تھا، لیکن اب 9 مئی بھی کیا ہے، بغاوت اور کرپشن الزامات پر جیل میں ہے

کھیل کو سیاست سے دور رکھنا چاہیے، عمران خان کے بیٹوں کا اسکائی اسپورٹس پر انٹرویو چلنا ایک سازش لگ رہی ہے۔ تجزیہ کار عمار مسعود

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ جمعہ 28 اگست 2026 20:12

ٹھیک ہے، عمران خان نے ورلڈ کپ جیتا تھا، لیکن اب 9 مئی بھی کیا ہے، بغاوت ..
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 28 اگست 2026ء ) تجزیہ کار عمار مسعود کا کہنا ہے کہ ٹھیک ہے، عمران خان نے ورلڈ کپ جیتا تھا، لیکن اب 9 مئی بھی کیا ہے، بغاوت اور کرپشن الزامات پر جیل میں ہے۔ وی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے عمار مسعود نے کہا کہ ٹھیک ہے، عمران خان نے ورلڈ کپ جیتا تھا، لیکن اب انہوں نے 9 مئی بھی کیا ہے، ریاست کے خلاف بغاوت بھی کی ہے اور کرپشن کے الزامات پر جیل میں ہیں۔

کھیل کو سیاست سے دور رکھنا چاہیے۔ عمران خان کے بیٹوں کا اسکائی اسپورٹس پر انٹرویو چلنا ایک سازش لگ رہی ہے۔ اس پر پاکستان کی جانب سے سخت احتجاج کیا گیا تھا، جس کی وجہ سے انٹرویو رک گیا۔ عمران خان کے لیے خطوط لکھنے والے کھلاڑیوں کو پتا ہی نہیں کہ انہوں نے وزیراعظم ہوتے ہوئے اپوزیشن پر کیا ظلم کیے تھے۔

(جاری ہے)

عمار مسعود نے کہا کہ عمران خان کے بیٹے اگر اپنے والد سے ملنا چاہتے ہیں تو آئیں پاکستان، آنا خود نہیں چاہتے اور الزام حکومتِ پاکستان پر لگا رہے ہیں۔

وہ اپلائی کریں گے تو ویزا ملے گا۔ اب ویزا لے کر سڑک پر تو کھڑے نہیں ہو سکتے کہ عمران خان کے بچے گزریں گے تو انہیں ویزا پکڑا دیں گے۔
یاد رہے پاکستان کرکٹ بورڈ نے لارڈز میں دوسرے ٹیسٹ کے پہلے روز کی کوریج کے دوران سابق وزیراعظم عمران خان کے بیٹوں کا لنچ بریک میں انٹرویو چلانے پر اسکائی سپورٹس سے باضابطہ شکایت کر دی ہے۔

دی گارڈین کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ نے اسکائی اسپورٹس کے خلاف باضابطہ شکایت درج کرا دی ہے، شکایت کی وجہ عمران خان کے بیٹوں، قاسم اور سلیمان خان کا لارڈز میں دوسرے ٹیسٹ کے پہلے روز کی کوریج کے دوران نشر کیا جانے والا انٹرویو بنا۔ انٹرویو میں عمران خان کے بیٹوں نے پاکستان کے سابق وزیرِاعظم کے ساتھ حکومت کے مبینہ نارواسلوک پر تشویش کا اظہار کیا۔

عمران خان گزشتہ تین برس سے قید میں ہیں اور انہیں مبینہ طور پر قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ قاسم خان نے اپنے الزام میں کہا کہ یہ واضح نہیں ہے کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ انہیں زیادہ سے زیادہ عرصے تک قید میں رکھنا اور ان کی آواز کو خاموش کرنا چاہتے ہیں۔ عمران خان کے وکلا ان کے جیل میں رہنے کے حالات کو سنگین خطرناک قرار دے چکے ہیں، جبکہ ان کی بہن نے دعویٰ کیا ہے کہ دورانِ قید انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔