ْپنجاب میں سندھ کی طرح بارش رکنے یا پانی خود خشک ہونے کا انتظار نہیں کیا جاتا‘عظمیٰ بخاری

جمعرات 20 اگست 2026 21:43

ْپنجاب میں سندھ کی طرح بارش رکنے یا پانی خود خشک ہونے کا انتظار نہیں ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 20 اگست2026ء) وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت نے ریکارڈ بارشوں اور مون سون کے متعدد اسپیلز کے باوجود پنڈی میں نکاسیِ آب کے لیے موثر اور بروقت اقدامات کیے ہیں،بارش کے مختلف اسپیلز کے دوران پانی کی نکاسی کا عمل بارش رکنے کا انتظار کیے بغیر جاری رکھا گیا جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب سے لے کر واسا کے گرائونڈ ورکرز تک پوری سرکاری مشینری فیلڈ میں متحرک رہی۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ شدید بارش کے بعد پانی کا جمع ہونا دنیا کے بیشتر بڑے شہروں میں ایک معمول کی صورتحال ہے، اصل کامیابی یہ ہے کہ جمع ہونے والے پانی کو کتنے کم وقت میں نکال دیا جاتا ہے۔ پنجاب حکومت نے اسی مقصد کے لیے جدید مشینری اور موثر انتظامی نظام وضع کیا ہے تاکہ شہریوں کو کم سے کم وقت میں ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ وزیراعلی پنجاب کی جانب سے واسا کو 990 نئی گاڑیاں فراہم کی گئی ہیں جو بارش کے پانی کی نکاسی کے لیے گرائونڈ میں موثر کردار ادا کر رہی ہیں۔

شدید بارش کے دوران بھی نکاسیِ آب کا عمل مسلسل جاری رکھا جاتا ہے اور حکومت کا فوکس پانی کھڑا ہونے کے بجائے اسے فوری طور پر نکالنے پر ہے۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ پنجاب حکومت کی مون سون سے قبل جامع تیاری محض دعوی نہیں بلکہ ایک باقاعدہ انتظامی ایکسرسائز ہے۔ پری مون سون کے دوران ڈی سلٹنگ، نالوں اور ڈرینز کی صفائی، مشینری کی دستیابی، متعلقہ ٹیموں کی ڈیوٹیاں اور ایس او پیز طے کیے جاتے ہیں تاکہ بارش کے دوران ہنگامی صورتحال سے مثر انداز میں نمٹا جا سکے۔

عظمی بخاری نے کہا کہ وزیراعلی پنجاب کی ہدایت پر مختلف علاقوں میں نکاسیِ آب کے نظام کو بہتر بنایا گیا ہے۔ پنجاب بھر میں جن بازاروں کی تزئین و آرائش اور بحالی کی گئی ہے، وہاں زیرِ زمین ڈرینج اور سیوریج کا نظام بھی بچھایا گیا ہے تاکہ ان علاقوں میں بارش کے پانی کی نکاسی کو بہتر بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ راجہ بازار، موتی بازار اور دیگر قدیم و باہم منسلک بازاروں کے حوالے سے بھی حکومت تمام پہلوئوں کا جائزہ لے رہی ہے۔

اگر کسی اطراف کے بازاروں سے پانی راجہ بازار کی جانب آ رہا ہے تو اس کی وجوہات کا فوری جائزہ لے کر ضروری ہنگامی اقدامات کیے جائیں گے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ وزیراعلی پنجاب خود نکاسیِ آب کے عمل کی مسلسل نگرانی کر رہی ہیں اور انتظامیہ سے بارش کے دوران پانی کے اخراج اور کلیئرنس کے حوالے سے رپورٹس لے رہی ہیں۔ کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور متعلقہ انتظامی و واسا حکام فیلڈ میں موجود رہ کر صورتحال کو مانیٹر کر رہے ہیں۔

عظمی بخاری نے نیو لالہ زار کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں شدید بارش کے بعد چھ فٹ سے زائد پانی جمع ہوا تاہم واسا اور متعلقہ اداروں کی ٹیموں نے نہ صرف پانی کی نکاسی کی بلکہ ضرورت مند شہریوں کو ریسکیو بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے زمینی حقائق عوام کے سامنے رکھنے کے لیے موقع کی صورتحال اور پانی نکالنے کے بعد کی تصاویر اور ویڈیوز بھی شیئر کیں۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت بارشوں اور موسمیاتی تبدیلی جیسے حساس معاملات پر سیاست کرنے کے بجائے عملی اقدامات پر یقین رکھتی ہے۔ پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے شدید متاثر ہو رہا ہے اور غیر معمولی بارشوں اور کلائوڈ برسٹ جیسے واقعات کسی ایک حکومت یا صوبے کے اختیار میں نہیں، تاہم ان کے اثرات کم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔وزیر اطلاعات نے واضح کیا کہ جہاں کہیں کوئی کمی یا کوتاہی سامنے آتی ہے، پنجاب حکومت اسے تسلیم کرنے اور اصلاحی اقدامات کرنے کا حوصلہ رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کسی نشاندہی یا میڈیا کی توجہ دلانے کا انتظار نہیں کرتی بلکہ متعلقہ ادارے خود صورتحال کا جائزہ لے کر فوری اقدامات کرتے ہیں۔شرجیل میمن کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے عظمی بخاری نے کہا کہ لاہور، گجرات اور راولپنڈی میں رواں سیزن تاریخ کی شدید ترین بارشوں کے باوجود پنجاب حکومت نے چند گھنٹوں میں پانی کلیئر کیا، پنجاب میں بارش رکنے یا پانی خود خشک ہونے کا انتظار نہیں کیا جاتا بلکہ وزیراعلی مریم نواز کی ہدایت پر واسا اور انتظامیہ فوری طور پر فیلڈ میں متحرک ہو جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلی مریم نواز نے پورے پنجاب میں واسا کا نظام مضبوط کرنے کے ساتھ تقریباً ایک ہزار نئی مشینری فراہم کی، جس کے نتائج ہر بارش میں واضح نظر آتے ہیں۔ میڈیا خود دیکھ رہا ہے کہ کون سی حکومت بارش کے دوران متحرک ہوتی ہے اور کون سی پانی دیکھ کر غائب ہو جاتی ہے، سندھ میں ہر سال بارشوں کے دوران کراچی میں کئی کئی دن پانی کھڑا رہتا ہے، مگر سترہ سال سے حکومت کرنے والے اپنی کارکردگی بہتر بنانے کے بجائے دوسروں پر تنقید کرتے ہیں، میڈیا کو کوسنے کے بجائے اپنی کارکردگی پر توجہ دیں کیونکہ سترہ سال بعد بھی اپنی نالائقیوں کا ملبہ دوسروں پر ڈالنے کی عادت نہیں گئی۔

راولپنڈی کی صورتحال کے حوالے سے عظمی بخاری نے کہا کہ مون سون کا سلسلہ جاری ہے اور آنے والے دنوں میں مزید بارشوں کا امکان ہے۔ حکومت نے اس حوالے سے مکمل تیاری کر رکھی ہے اور شہریوں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے تمام متعلقہ ادارے الرٹ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جتنی بھی بارش آئے گی، پنجاب حکومت کی مشینری شہریوں کی سہولت کے لیے گرانڈ پر موجود رہے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ ایک عدالتی معاملے کے حوالے سے پنجاب حکومت نے نظرثانی کی اپیل دائر کی ہے اور حکومت کو اپنی گزارشات اور تحفظات معزز عدالت کے سامنے پیش کرنے کا مکمل حق حاصل ہے۔ عدالت کا فیصلہ آنے کے بعد اسے قانون کے مطابق تسلیم کیا جائے گا۔